33

سیاسی سیلاب میں بہتی سیاسی اقدار 



سیاسی سیلاب میں بہتی سیاسی اقدار 

 سیلاب پہلی بار نہیں آئے نہ ہی بھارت نے پہلی بار پانی چھوڑا ہے نہ ہی پہلی بار ہمارا مال و متاع لٹا نہ ہی پہلی بار لوگ پانی  کی لہروں کی نذر ہوئے قیام پاکستان کے بعد ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف کبھی گولہ بارود تو کبھی آبی دہشت گردی سے کام لیا لیکن ستم تو یہ ہے کہ ہم نے آج تک سیلابی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لئے کوئی واضح اور حتمی حکمت عملی تیار کی نہ ہی بھارت کی آبی دہشت گردی کے لئے کچھ اقدامات کئے پاکستان میں حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن کوئی ایک حکمران بھی اپنے عوام کو پانی کے تیز بہاؤ سے بچانے کے لئے کچھ نہیں کرسکا شائد اس لئے کہ عوام کو سیلاب یا دوسری آفات سے بچانا حکمرانوں کی ترجیحات  میں شامل نہیں رہا عوام حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے لٹتے رہے  لیکن کوئی انہیں بچانے نہیں آیا سب نے باتوں کے مرہم سے کام لیا اور چلتے بنے گزشتہ برس کرتار پور سے آگے شکرگڑھ کا آخری  گاؤں سکمال والے نالے کے پل سے نہم کلاس کی بچی گر کر جاں بحق ہو گئی،اس نالے کے اطراف کوئی حفاظتی باڑ نہیں،اور اتنا نیچے ہے کہ پانی اوپر سے گذر جاتا ہے۔ بدنصیب باپ نے بیٹی کو بچانے کیلئے پانی میں چھلانگ لگادی لیکن وہ اسے بچا نہ سکا اس چھوٹے سے پل کے اوپر سے نالے کا پانی گذر رہا تھا اور بہاؤ تیز تھا اور بچی کو ایجوکیشن بورڈ کا سالانہ امتحان دینے کے لیے جانا بھی لازم تھا یوں وہ جان سے گئی بچی کے ورثاء اور اہل دیہہ نے اس پر احتجاج اور مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس خونی  پل پر حفاظتی  انتظامات کیے جائیں تاکہ کسی دوسرے کی زندگی تو بچ سکے اس واقعہ کو ایک سال گذرا لیکن آج تک وہاں کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کئے جا سکے بھارت نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑا ہے تو اس علاقہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد پانی میں گھر گئے جنہیں 1122نے ریسکیو تو کیا لیکن پانی کی وجہ سے پاکستان کے اس آخری گاؤں سکمال کا شہر سے رابطہ کٹ گیا سکمال گاؤں پاک بھارت سرحد پر واقع ہے یہاں سے مقبوضہ کشمیر اور بھارتی پنجاب کو صاف دیکھا جا سکتا ہے جو سرحد کے انتہائی قریب ہے یہاں پاکستانی چوکیاں بھی ہیں سرحد کے اس پار سے دشمن حملہ کرتا ہے تو یہاں سے حکمرانوں کا تغافل شہریوں کی جان کے در پے ہے کل ہی وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے بلوچستان کا دورہ کیا تو وہاں کے شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے کہ سیلاب سے اجڑے ہوئے  لوگوں کے لئے انتظامیہ کی جانب سے کھانے پینے تک کا کوئی بندوست نہیں کیا گیا چھوٹے چھوٹے بچے خواتین نوجوانوں کی جا بجا بکھری نعشیں بھی انتظامی افسران کا دل نہیں پسیج سکیں گھر سے بے گھر ہونے والوں کا درد بھی ان کے احساس کو جھنجھوڑ نہ سکا بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور افسر اپنے فرائض سے بے نیاز عالیشان دفاتر میں شان و شوکت کے ساتھ بیٹھے ہیں ہمارے حکمران یا ہماری بیوروکریسی چاہتی تو حالات درست بھی ہو سکتے تھے سیالکوٹ نالہ ڈیک۔ نالہ بئیں۔نالہ بسنتر اور دیگر نالوں نے تباہیوں کے دل سوز نقوش چھوڑے ہیں بارہا ان نالوں نے کئی گھرانے اجاڑے سینکڑوں لوگ، مویشی ان کے پانیوں میں بہہ گئے۔سیلاب سے بچنے کے لیے لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر مسمار کئے ہوئے ہیں کہ گھر مسمار کر کے وہ اپنا سامان اینٹیں تو محفوظ کرسکیں گے وگرنہ پانی تو سب بہا کر لے جائے گا ذرا سوچئیے جہاں لوگ اپنے گھر مسمار کرنے پر آمادہ ہوں،اس پرحکمران نادم بھی نہیں ہوتے یہ کیا طرز حکمرانی ہے؟ حکمران تو اپنی رعایا کے مال و جان کے محافظ ہوتے ہیں لیکن شائد عوام محکوم ہیں اور حاکم و محکوم میں ایک واضح فرق ہوتا ہے بس یہی فرق حالات کی خرابی کا باعث ہے اور یہ فرق ہمارے حاکموں نے ہمیشہ روا رکھا ہے ورنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھوک سے نڈھال گھر میں اپنی پیٹھ پر سامان ڈھوتے رہے ایسی عظیم اور فقید المثال شخصیت کہ جن کے طرز حکمرانی سے ہمارے حکمران رہنمائی پاتے تو یہ بھی مثال بنتے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدیاں بیتیں لیکن ان کے کارنامے آج بھی اپنی گونج لئے ہوئے ہیں کیا مسلم بلکہ غیر مسلم بھی ان کے عدل و انصاف کے معترف ہیں آپ کے دور خلافت میں سلطنت کی حدود 22 لاکھ مربع میل سے زیادہ علاقے تک پھیل گئیں۔  قیصر و کسریٰ جیسی طاقتیں اسلام کے زیر نگیں آگئیں اور زمین میں انسانوں کی غلامی کے بجائے اللہ کی غلامی اور اللہ کا بنایا گیا نظام حکومت قائم ہوا ہمارے عمران خان صاحب بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن کبھی انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفادہ نہیں کیا ان کا تقریباً چار سالہ دور اقتدار بھی عوام کے دکھوں کا مداوا نہ کرسکا اب پنجاب میں ان کی حکومت قائم ہوئی اور پنجاب میں بھی سیلاب سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا کوئی نمائندہ نہیں پہنچا پنجاب میں حکومت بنتے ہی عمران خان نے فرمایا ہم پناگاہیں اور لنگر خانے پھر سے کھول دیں گے حالانکہ وہ بند ہی نہیں ہوئے تھے سیاست دانوں میں اس طرح کی چالاکیاں نہ ہوں تو یقیناًیہ حقیقیت میں عوامی نمائندے کہلائیں لیکن عوام کا ووٹ پا کر یہ عوام کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں یہاں ہمیں کالا باغ کے نام پر سبز باغ دکھائے گئے ہیں کالا باغ نہ سہی اگر ہم ان نالوں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم ہی بنا دیتے تو نہ صرف ہم سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچتے بلکہ توانائی بحران پر بھی قابو پایا جاتا بھارت نے ایسے درجنوں چھوٹے ڈیم بنا رکھے ہیں آج ہمارے ملک میں ایک سیاسی تماشا لگا ہوا ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ملک میں ایک سیاسی سیلاب بھی آیا ہوا ہے جس میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ساکھ بہہ نکلی ہے الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا کر جناب عمران خان کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اپنی باتوں سے پھر جانے کے ماہر اور اپنے موقف چاہے وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو پر ڈٹ جانے والے عمران خان صاحب الیکشن کمیشن کے فیصلے کا رخ کیسے موڑتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں