31

  سیاسی تماشہ کلچر



 برطانوی صحافی بیورلے نکلسن 1940ء کے عشرے میں برصغیر میں آئے۔ انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کے دورے کئے اوردنیا کو اس خطے کی ایک ایسی تصویر دکھائی جس پر کانگریس کے لیڈر چیخ اٹھے۔ بیورلے نکلسن نے اپنے مشاہدات کو “Verdict on India” نامی کتاب میں جگہ دی۔مسلمانوں کے لئے یہ کتاب اس اعتبار سے اہم تھی کہ اس کتاب میں بیورلے نکلسن کا قائداعظم محمد علی جناحؒ سے کیا گیا انٹرویو شامل تھا، اس میں بڑے مدلل انداز میں پاکستان کا مقدمہ پیش کیا گیا تھا۔ نکلسن نے جہاں کانگریس کے راہنماؤں کو ہدف تنقید بنایا تھا وہاں اس نے کھل کر قائد اعظم کی عظمت کی تعریف کی تھی،اس نے انہیں ایشیا کا عظیم ترین سیاسی راہنما قرار دیا تھا۔بیورلے نکلسن اپنے قیام کے دوران خیبرپختونخوا بھی گئے  جہاں ان کی ایک عجیب و غریب حیرت سے ملاقات ہوئی، انہیں وہاں ایک فوجی افسر نے بتایا کہ اس کے پاس اس کے ایک جوان کی درخواست آئی ہے کہ اسے ایک مہینے کی چھٹی دے دی جائے تاکہ وہ اپنے چچازاد بھائی کو قتل کر سکے، تفصیل بتاتے ہوئے فوجی افسر نے بتایا کہ پشتومیں چچازاد بھائی کے لئے جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہی دشمن کے لئے ہوتا ہے، اس لئے چھٹی کے خواہش مند سپاہی کی درخواست کا مطلب سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے دشمن کو قتل کرنے کے لئے رخصت پر جانا چاہتا ہے۔ ایسی درخواستیں بہترین سپاہیوں کی طرف سے آتی ہیں اور کوئی انگریز افسر آسانی سے اپنے بہترین سپاہی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اگر ایسی درخواست نامنظور کر دی جائے تو سپاہی اپنی رائفل کے ساتھ راتوں رات بھاگ جاتا ہے

او ر اس میں دو نقصان ہوتے ہیں، ایک تو فوج اچھے سپاہی سے محروم ہو جاتی ہے اور دوسرا ایک رائفل کا نقصان ہوتا ہے جو ایک اچھا نشانہ باز اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ چھٹی کی درخواست منظور کر کے افسر فوج کو  سپاہی اور سرکاری رائفل کے نقصان سے بچا لیتا ہے۔ اس سفر کے دوران بیورلے نکلسن کو اس کے پٹھان گائیڈ نے بتایاکہ اس علاقے میں جرائم کی وجہ معاشی بھی ہے اور ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں لوگ محض تماشہ دیکھنے یا پیدا کرنے کے لئے مزاحاًبھی قتل کر دیتے ہیں۔

بیورلے نکلسن کی کتاب تقریباً پون صدی پرانی ہے، اب وقت تبدیل ہو چکاہے، خیبرپختونخوا کے متعلق میرا علم محدود ہے تاہم مجھے اتنا یقین ہے کہ پٹھان بہت محب الوطن اور پکے مسلمان ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ بیورلے نکلسن کو وہ بات اس کے گائیڈ نے بطور مزاح بتائی ہو جسے اس نے اس کتاب کا حصہ بنا لیا کیونکہ کسی دوسرے مغربی یا پاکستانی مصنف نے اس پر کبھی کچھ نہیں لکھامگر مجھے پنجاب کے دیہی علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ گندم کی کٹائی کے بعد لڑائی مار کٹائی اور قتل کی وارداتوں میں غیر عمولی اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے پاس مقدمے لڑنے کے لئے رقم ہوتی ہے، بہت سے مکار بااثر لوگوں کو اپنی چودھراہٹ دوسروں کو مقدمات میں پھنسا کر تماشہ دیکھنے میں نظر آتی ہے، مگر اب پنجاب میں بھی صورتحال بدل رہی ہے،اب نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں اورخاندانوں کی قسمت بدل رہی ہے۔

تماشہ دیکھنا یابنانا برصغیر کی قدیم روایت ہے، یہاں عوام کی تفریح کا ذریعہ میلے رہے ہیں جہاں تماشے دکھائے جاتے تھے۔اس کے علاوہ بندروں اور دیگر جانوروں کے تماشے دکھانے والے بھی دیہاتوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے تھے، بٹیر، کتوں اور مرغوں کی لڑائیاں بھی تماشہ تھیں اور یہ اب بھی ذوق و شوق کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں۔ برصغیر میں تفریح کا تصور بہت محدود تھا۔ وقت کا تصور انگریز لے کر آیا اور اس نے بڑے شہروں میں گھنٹہ گھر بنا کر وقت کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری کام وقت کے مطابق ہونے لگے اور عام لوگوں نے بھی وقت کو اپنی زندگی میں اہمیت دینی شروع کر دی، تماشہ دیکھنے کے لئے جو لامحدود وقت ہوتا تھا اسے گھڑی کی سوئیوں نے محدود کر دیا تاہم تماشہ کسی نہ کسی انداز میں ہوتا رہا کیونکہ یہ تفریح کا تقریباً واحد ذریعہ تھا۔ انگریزوں نے عام آدمی کی تفریح کے لئے باغ بھی بنائے جو ہر اہم شہر میں کمپنی باغ کے نام سے مشہور ہیں مگر کمپنی کی حکومت ختم ہونے کے بعد وکٹوریہ عہد میں جو باغ بنائے گئے انہوں نے بھی کمپنی باغ کے نام سے ہی شہرت حاصل کی یہ کمپنی باغ بھی عوام کی تفریح کے لئے کسی نہ کسی انداز میں کسی تماشے کا اہتمام کر دیتے تھے۔

پاکستان میں ٹی وی آیا تو اس کے ڈرامے مقبول ہوئے کیونکہ ان میں بھی زندگی کے مختلف تماشے دکھائے جاتے تھے۔ انسانی تضادات کو اجاگر کیا جاتا تھا، کتے، بندر اور دوسرے جانور وں کی لڑائی کے تماشے دیکھنے والوں کو ایک نئی تفریح ملی، یہ پرائم ٹائم ڈرامے بے حد مقبول ہوئے، پھر ان کی جگہ ٹاک شو آ گئے اور وہ ٹاک شو معروف ہوئے جو بڑے تماشے لگاتے تھے سسپنس اور جھگڑے کی کیفیت پیدا کرتے تھے، اینکر حضرات کی بدتمیزی بھاری نرخوں پر فروخت ہونے لگی۔میڈیا نے اختلافات اور تماشے فروخت کر کے غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی تو سیاسی جماعتوں نے بھی اس نسخہ کیمیا سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور میڈیا کے ساتھ مل کرپاکستان میں ایسے ایسے سیاسی تماشے لگائے گئے کہ عوام سب کچھ بھول کر ان کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔

ترقی یافتہ دنیا میں انتخابات ہوتے ہیں مگر کاروبار زندگی متاثر نہیں ہوتا اکثر لوگوں کو تو انتخابات کے دن کی بھی خبر نہیں ہوتی پارٹیاں اقتدار میں آتی ہیں اور رخصت ہوتی ہیں۔ وہ سیاست کرتی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی نہیں کرتیں۔ ضابطہ اخلاق کی پابندی کرتی ہیں اور اس امر کا خیال رکھتی ہیں کہ انتخابی مہم میں کچھ ایسا نہ ہو جس سے نئی نسل کے اخلاق پر برا اثر پڑے پورا انتخابی عمل کسی تماشے کے بغیر مکمل ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں جو چینل جتنے الزامات، سکینڈل اور جھوٹ بیچتا ہے وہ اتنا ہی معتبر ہے۔ سوشل میڈیا کے پاس تو گویا ہر جھوٹ بولنے کا اختیار ہے اور اب اس جھوٹ اور فساد کو بھاری نرخوں پرفروخت بھی کیا جاتا ہے۔

اس صورتحال سے عام آدمی بے یقینی کا شکار ہے ڈالر اس صورتحال میں لڈیاں ڈال کر تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔ معیشت اور تجارت متاثر ہو رہی ہے مگر سیاست اور میڈیا کے تماشے جاری ہیں،پاکستان کے خلاف سازشوں کی خبریں آتی ہیں اور نظرانداز کر دی جاتی ہیں، سیاست اور میڈیا نے عوام کو تماشہ دیکھنے کی ایک نئی لت میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستانی سیاست کے چیلنج بڑھتے جا رہے ہیں مگر اس پر سوچنے کے لئے وقت نہیں ہے۔ کیونکہ سیاسی تماشوں نے ملک کو مسحور کر رکھا ہے وقت تیزی سے گزر رہا ہے، نوشتہ دیوار پڑھنا ہو گا کہ غیرذمہ داری سے  قومی سالمیت سیاسی تماشوں سے خطرات میں گھری نظر آ رہی ہے۔ وقت سیاسی تماشے دیکھ دیکھ کر قیامت کا تماشہ بپا کرنے کے موڈ میں نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل میں اب سیاسی تماشہ کلچر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں