37

 سیاسی استحکام: وقت کا تقاضا 



 سیاسی استحکام: وقت کا تقاضا 

 پنجاب حکومت کے بارے میں عدالت کے گزشتہ رات دیئے گئے فیصلے سے اگرچہ یہ مسئلہ فی الحال تو حل ہو گیا ہے اور پرویز الٰہی صوبے کے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے معاملہ مستقل طور پر طے ہو گیا ہے اور اب کوئی نیا بحران سر نہیں اٹھائے گا، جنہوں نے وزارت اعلیٰ کھوئی ہے‘ ممکن ہے خاموش نہ بیٹھیں اور وہ مزید کچھ نہ بھی کر سکے تو اس نئی حکومت کو ٹف ٹائم تو دیں گے ہی۔ اس طرح صوبے میں سیاست کے ہموار انداز میں آگے بڑھنے کے امکانات معدوم رہیں گے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال مرکز میں بھی ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ طے ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت میں الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی دونوں بڑی جماعتیں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، ایک وہ جو تمام جماعتوں سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے اس کو اکثریتی یا حکومتی جماعت کہا جاتا ہے اور دوسری وہ جو دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرے اسے اپوزیشن پارٹی کہا جاتا ہے‘ لیکن اس کے بعد معاملات آگے بھی تو بڑھتے ہیں۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف‘ دونوں اپنا اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے نظام کو آگے بھی تو لے کر چلتی ہیں، لیکن ہمارے ملک میں مسلسل ایک طرح سے جمود کی سی کیفیت ہے،اپریل سے اب تک کے حالات کا جائزہ لے لیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں حکومتی اور ملکی معاملات کو کیسے آگے بڑھایا جا سکے گا؟ قومی معیشت‘ جس کی حالت گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل دگرگوں ہے اور جسے آئی ایم ایف اور غیر ملکی قرضوں کے وینٹی لیٹر کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ کیسے مستحکم ہو سکے گی؟ رشوت‘ کرپشن‘ اقربا پروری اور دہشت گردی و انتہا پسندی جیسے مسائل پر کیسے قابو پایا جا سکے گا؟ تعلیم‘ صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں کو کیسے منظم اور مربوط کیا جا سکے گا؟ سیاست دان عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کے جودعوے کرتے رہتے ہیں‘ ان کا ایفا کیسے ممکن ہو سکے گا؟ لوگوں کے گلی محلے کے مسائل مقامی سطح پر ان کی وارڈوں کے ممبران کے ذریعے کیسے حل کئے جا سکیں گے؟

سیاست اور سیاست دان کے معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ وہ ملک کے معاملات کو چلائیں گے۔ اسے ترقی دیں گے اور عالمی برادری میں ملک و قوم کو اعلیٰ مقام دلائیں گے اور اسے درپیش مسائل حل کریں گے۔ کچھ ایسے اصول و قواعد وضع کریں گے‘ کچھ ایسا نظام ترتیب دیں گے کہ اس میں تمام شعبوں کے فروغ کی راہیں خود بخود استوار اور ہموار ہوتی چلی جائیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاستدان ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے، اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ معاشی بحران گزشتہ تمام حکومتوں ہی کی دین ہے لیکن موجودہ سیاسی قیادت (حکومت اور اپوزیشن) کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔یہ ایک اہم سوال ہے کہ اگر اتحادی حکومت معاشی بحران (چاہے وہ جس کا بھی پیدا کردہ ہے) کا حل تلاش کرنے کی ذمہ داری اٹھا رہی ہے تو عمران خان کیوں سیاسی حوالے سے انارکی پھیلانے پہ تلے ہوئے ہیں؟ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ ملک کو واقعی بحرانوں سے نکالنے کے خواہش مند ہیں تو انہیں اس سلسلے میں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔ ملک معاشی لحاظ سے مکمل طور پر دیوالیہ ہو گیا تو پھر کوئی حکومت چل پائے گی نہ قومی ترقی کا خواب پورا ہو سکے گا۔

جہاں منتخب عوام نمائندے یعنی سیاست دان بیٹھتے اور مختلف امور پر غور و فکر کے بعد قوانین وضع کرتے ہیں اسے پارلیمان کہا جاتا ہے اور عام لوگوں کی سوچ یا رائے یہ ہے کہ پارلیمنٹ ہی اس نظام کا سپریم ادارہ ہے، اب ہونا تو یہ چاہئے کہ یہ ادارہ نہ صرف ملکی معاملات بلکہ سماجی ضروریات کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرے اور ملکی مشکلات سے نکلنے کی کوئی تدبیر سوچے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ سیاست دانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے بار بار نظامِ عدل کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اپریل سے اب تک سیاسی و آئینی معاملات کے لئے کتنی بار عدالت کا دروازہ ہمارے سیاست دانوں کو کھٹکھٹانا پڑا ہے۔ یہ طے ہے کہ حکومتی معاملات کو اس طرح تا دیر نہیں چلایا جا سکے گا اب ہو یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی آئینی بحران پیدا ہوتا ہے سارا معاشی نظام معطل ہو کر رہ جاتا ہے، سرمایہ کار یہ سوچ کر سرمایہ کاری نہیں کرتا کہ پتا نہیں اگلی حکومت کون سی ہو‘ وہ کیسی پالیسیاں بنائے‘ اس لئے بہتر ہے کہ سیاسی گرد بیٹھنے تک خاموشی اختیار کی جائے کوئی کاروباری اگر نیا کاروبار شروع کرنے یا اپنے موجودہ کاروبار کو ترقی دینے کے بارے میں سوچ رہا ہو تو یہ سوچ کر رک جاتا ہے کہ پتا نہیں آگے کیا ہو اس لئے سیاسی معاملات بہتر ہونے تک خاموش رہا جائے۔ حکمران اگر اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی میں ہوں تو ظاہر ہے کہ قومی معاملات پر ان کی گرفت کمزور ہو جاتی ہے اس طرح نہ تو صنعت و تجارت کو ترقی دینے کے لئے اقدامات ہو سکتے ہیں اور نہ زرعی پیداوار بڑھانے کا خواب ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور ایک تو اپنے سیاسی و آئینی معاملات خود طے کریں‘ دوسرے ایسی قانون سازی کریں کہ بار بار سر اٹھانے والے مسائل کا کوئی مستقل حل ممکن ہو سکے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر میاں رضا ربانی نے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ”اشرافیہ وفاق اور پارلیمانی نظام کی سیاسی، معاشی، ثقافتی تنوع کی تعریف نہیں کر سکی، ملک میں بھی اشرافیہ کا ایک حصہ ایوبین ہے جو 1962ء کا آئین بحال کرنا چاہتا ہے۔ بدنیتی کے ساتھ پارلیمنٹ کی شمولیت کو ختم کر کے صوبوں کو محروم کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ کو منظم انداز سے تباہ کیا جا رہا ہے، اب پارلیمنٹ کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا ہے، قانون سازی کے پارلیمنٹ کے اختیارات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، نرم مداخلت کی باتیں ہو رہی ہیں جو براہ راست پارلیمنٹ کو متاثر کریں گی“۔ کیا یہ خط بہت سے محب وطن پاکستانیوں کے دل کی آواز نہیں ہے؟کیا ان معاملات کو ٹھیک کرنا ناگزیر نہیں ہو چکا؟

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں