25

  سیاست کے بدلتے انداز 



  سیاست کے بدلتے انداز 

پاکستانی سیاست کی ایک عمومی خصوصیت جو پہلی نظر میں سامنے آ جاتی ہے وہ الزام تراشی ہے اس کے بغیر گویا ہماری سیاست آگے چل ہی نہیں سکتی۔ چور، چور، ڈاکو، ڈاکو کی صدائیں ہماری سیاست، جیسے گلی محلے میں چھابڑی فروش آواز  لگاتے ہیں۔ اس رویئے نے ماحول کو اتنا پراگندہ کر دیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے نچلی سطح تک کارکن بھی انہی الزامات کے حوالے سے تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں ہمارے ہاں کبھی سیاست ایشوز کی بنیاد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس کی بنیاد مختلف نوعیت کے الزامات پر ہوتی ہے۔ اپنے کپتان نے تو اس روایت کو مستحکم کرنے کے لئے کمال ہی کر دیا جب سے سیاست میں ہیں انہی الزامات کو دہرا رہے ہیں حتٰی کہ ساڑھے تین سال حکومت میں رہے تو بھی یہی کہا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، یہ سب چور، ڈاکو، لٹیرے ہیں ایک ایک سے حساب لوں گا۔ حساب تو نہ لے سکے البتہ حکومت گنوا کر پھر اپوزیشن میں آگئے مگر اپنی ڈگر نہیں چھوڑی۔ ان کی ہر تقریر اسی موضوع پر ہوتی ہے کہ تیس برسوں میں دو خاندانوں نے ملک کو لوٹا ہے، بیرون ملک جائیدادیں خریدی ہیں۔ اس بیانیئے پر ان کی ساری سیاست کھڑی ہے، اسے نکال دیا جائے تو باقی کچھ بھی نہیں بچتا۔

اب ظاہر ہے جب وہ الزاماتی سیاست کو اتنا اوپر لے گئے ہیں تو ان کے مخالفین بھی اسی راہ پر چلیں گے، پہلے ان پر توشہ خانہ سے اشیاء لینے کا الزام لگایا گیا، پھر فرح گوگی کے ذریعے مال بنانے کی کہانی سامنے لائی گئی۔ اب فارن فنڈنگ کے حوالے سے خیراتی پیسہ بھی اپنی سیاست پر لگانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ عمران خان کے پاس ثاقب نثار کی دی ہوئی صادق دامین کی ڈگری موجود ہے ان کے حامی جب بھی کوئی الزام لگاتا ہے اسے وہ ڈگری دکھا دیتے ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کا معاملہ الیکشن کمیشن میں ہے، فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے کسی وقت بھی سنایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں اندر باہر سے الزامات لگ رہے ہیں، مگر کپتان کسی الزام کو ماننے پر تیار نہیں اپوزیشن کی پوری کوشش ہے کسی طرح فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان نا اہل اور تحریک انصاف بین ہو جائے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو عمران خان سے انہیں چھٹکارا دلا سکتا ہے، وگرنہ کپتان کی مقبولیت تو ہر نئے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ جب سے نوازشریف نا اہل ہوئے ہیں اب سیاسی جماعتیں اپنے مخالف کو نا اہلی کے ذریعے ہی راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں اس حقیقت کے باوجود کہ نا اہل قر  ار دے کر کسی کو انتخاب میں حصہ لینے سے تو روکا جا سکتا ہے مگر اس کی سیاست اور سیاسی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ نوازشریف آج بھی پاکستانی سیاست کی ایک اہم شخصیت ہیں آج ہی ان کا یہ بیان چھپا ہے کہ وہ کسی وقت بھی پاکستان آ سکتے ہیں ان کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے موجودہ صورت حال پر پی ڈی ایم کا دو روزہ اجلاس طلب کر لیا ہے سیاست کو انتقامی سیاست میں تبدیل کر کے ہم نے اس اہم ترین شعبے کو تکلیف دہ حقیقت بنا دیا ہے سیاست دنیا بھر میں ہوتی ہے۔ مگر وہاں صرف ایشوز کو سیاست کا موضوع بنایا جاتا ہے ہماری سیاست میں ایشوز پیچھے رہ جاتے ہیں الزامات کا پنڈورا بکس آگے آ جاتا ہے۔

نیب جیسے قومی اداروں کو بھی اسی الزاماتی سیاست میں رنگ بھرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہر دور میں نیب نے صرف اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ بھی اس الزاماتی سیاست کے زیر اثر ہے۔ احتساب کرنا حکومت کا کام ہے ہی نہیں یہ تو نیب، انٹی کرپشن اور ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے۔ مگر نعرہ ہمیشہ حکمران لگاتے رہے ہیں کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے حالانکہ کرپشن کی شاخیں اور تنے تو خود ان کے اردگرد موجود ہوتے ہیں عمران خان نے انپے ساڑھے تین سالہ دور میں احتساب کا نعرہ خوب لگایا۔ یہ بھی کہا کہ اپوزیشن والے این آر او مانگ رہے ہیں مگر وہ کسی قیمت پر این آر او نہیں دیں گے سب پوچھتے رہے کہ حضور آپ این آر او کیسے دے سکتے ہیں، معاملات تو نیب اور عدالتوں میں ہیں یہ کام تو جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا جن کے پاس مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات بھی تھے۔ عمران خان کے ہر ایسے بیان کے بعد نیب تگڑا ہو جاتا تھا اور اپوزیشن کے کسی نہ کسی رہنما کو اٹھا لیتا تھا۔ پھر اس کے بعد عمران خان نے کئی جلسوں میں کہا بھی کہ دیکھو وہ بہت بولتا تھا، اب پکڑا گیا ہے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی اب ویسے تو بہت سی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے نیب کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر  نہیں چھوڑی، سیاسی لوگوں پر پے در پے کیسز بنائے مگر آخر میں حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہوا، سب بری ہو گئے یا ضمانتوں پر باہر آ گئے اس سے عمران خان کے بیانیئے کو بھی نقصان پہنچا کہ کسی کو نہ چھوڑوں گا کہنے والے کے دور ہی میں بری ہوتے چلے گئے۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور کی بنیاد پر سیاست کریں ملک و قوم کے لئے اپنا پروگرام سامنے لائیں مگر اس کی بجائے دوسروں کی کردار کشی اور کرپشن کی کہانیاں بیان کر کے سیاست کی جاتی ہے ایسی سیاست کا کیا حشر ہوتا ہے اس کا اندازہ بدلتے حالات کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے جب سے عمران خان نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا ہے، ان کے مخالفین ان کا وہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر دکھا کر جس میں انہوں نے پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا ہے، انہیں شرمندہ کر رہے ہیں، یہ صرف ایک مثال ہے ایسی مثالیں تو ہر جگہ بکھری پڑی ہیں کیونکہ جہاں الزاماتی سیاست ہو وہاں اس قسم کا کیچڑ تو اچھالنا ہی پڑتا ہے،کیا یہی شہباز شریف یہ نہیں کہتے تھے کہ آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹا ہوا مال  نکلوائیں گے کیا آصف علی زرداری نوازشریف کے بارے میں یہ نہیں کہتے تھے کہ انہوں نے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اب انہیں سیاست نہیں کرنے دیں گے۔ کیا مولانا فضل الرحمن عورت کی حکمرانی پر بے نظیر بھٹو کے خلاف مہم نہیں چلاتے تھے۔ آج یہ سب اپنی باتوں سے مکر چکے ہیں۔ شہباز شریف، آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر مال نکلوانے کی بجائے ان کے ساتھ باہم شیر و شکر ہیں، آصف علی زرداری نوازشریف کو ایک بڑے سیاستدان کا درجہ دیتے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن مریم نواز کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے فخر محسوس کرتے ہیں اگر سیاست الزامات کی بجائے ایشوز پر کی جائے تو اس قسم کے یوٹرن نہ لینے پڑیں کرپشن ختم کرنے کا کام اداروں اور عدالتوں کو کرنے دیا جائے سیاستدان صرف سیاست کریں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات میں حصہ منشور کی بنیاد پر لیا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے منشور اور دورِ حکمرانی کو آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ سیاست کو ایک دوسرے پر الزام لگا کے گدلا کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے مقابلے میں اچھے منشور پیش کرنے کی روایت ڈال کر عبادت بنایا جا سکتا ہے مگر اس طرف کوئی نہیں آئے گا کیونکہ سب کے منہ کو الزامات کی چاٹ لگ چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں