31

  سوشل میڈیا: تحریک انصاف بمقابلہ مسلم لیگ نون 



  سوشل میڈیا: تحریک انصاف بمقابلہ مسلم لیگ نون 

 بی بی سی (BBC) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل اور سوشل میڈیا کا کردار ہر گزرتے دن کے ساتھ اہم ہوتا جا رہا ہے جس سے مختلف ٹرینڈ سیٹ کر کے رائے عامہ کی تشکیل کی بھی جا سکے گی۔رپورٹ کے مطابق صرف فیس بک پر اس وقت تک کے پاکستانیوں کے اکاؤنٹس کی تعداد 80کروڑ ہے لیکن اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف جنوری 2013ء میں 10 لاکھ سے زائد افراد نے اپنے اکاؤنٹ بنائے۔یہ رپورٹ 2013ء کی ہے تو اندازہ لگائیں اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد کیا ہو گی جبکہ اس وقت ٹوئٹر، لنکڈ اِن، یوٹیوب، سنیک ویڈیو، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسے متعدد پلیٹ فارمز بھی دستیاب ہو چکے ہیں۔پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت تحریک انصاف کے سوا کسی بھی سیاسی جماعت نے اس جانب توجہ نہیں دی  جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا کا کارگر اور مہلک ہتھیار صرف عمران خان کے ہاتھوں میں ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں توازن ختم ہو چکا ہے جبکہ اس وقت پاکستان کی سیاسی جماعتیں روایتی طریقہ کار سے تشہیر میں مصروف تھیں اور ہیں، پاکستان نے تحریک انصاف نے  آواب علوی کو سوشل میڈیا کا باقاعدہ مشیر مقرر رکھا تھا جن کے بقول پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جانب توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،یہی فرق ہے کہ مسلم لیگ کی زمینی کارکردگی بھی تحریک انصاف کے خلائی پراپیگنڈے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ہماری ہر ایکٹیوٹی متعلقہ پلیٹ فارم پر نوٹ کی جاتی ہے جس سے ہماری پسند اور ناپسند اور ہمارے رجحانات کا بالکل صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے یعنی ہر صارف کی ایک مکمل پروفائل بنتی ہے۔ٹرمپ نے کیمبرج انٹیلیکا کو ہائر کیا، ہر صارف کی مائیکرو پروفائلنگ کی گئی اور یوں ہر صارف کی فطرت کے مطابق ایسی پوسٹیں تیار کی گئیں جس نے ہیلری جیسی مضبوط امیدوار کو چاروں شانے چت کر دیا،اس بات کا اعتراف اس فرم میں بطور ریسرچ ڈائریکٹر کام کرنے والے کرسٹوفر ایل نے نیویارک ٹائمز اور گارڈین جیسے اخبارات کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔اگر امریکہ جیسے تعلیم یافتہ معاشرے میں سوشل میڈیا کا ہتھیار الیکشن اور رائے عامہ کی تشکیل میں اتنا مؤثر ہو سکتا ہے تو پاکستان کا اندازہ خود لگا لیں۔یہی کام تحریک انصاف نے 2008سے شروع کیا جس میں انتہائی تیزی 2013میں آئی اور اب اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مسلم لیگ کا سچ بھی تحریک انصاف کے جھوٹ کے سامنے بے بس ہے۔

وائس آف امریکہ(VOA) کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کی جڑیں نہایت تیزی سے پھیل رہی ہیں اور صارفین میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سرفہرست ہیں، ان کی سوشل میڈیا کی پروفائلنگ دیکھتے ہوئے ان کے جملہ معمولات بشمول سونے جاگنے کے اوقات، پسند ناپسند اور ان کے تمام رجحانات کا بالکل صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں ”زی سوشل پرائیویٹ لمیٹڈ“ کی 2014ء کی ایک تحقیق کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس کے مطابق ہرماہ صرف فیس بک پر ایک کروڑ 26لاکھ افراد سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جن میں 50 فیصد افراد کی عمریں 18 سے 34سال کے درمیان ہیں جبکہ باقی 50 فیصد افراد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔عمران خان جب یوتھ ہوتھ کا نعرہ لگاتا تھا تو وہ یونہی نہیں لگاتا تھا بلکہ اسے اپنی سرمایہ کاری  کا علم تھا۔سوشل میڈیا پر انویسٹ کر کے اسی یوتھ کو قابو کیا گیا جو اس وقت تحریک انصاف کی ایسی قوت ہے جسے حقائق کی بجائے صرف عمران خان کے بیانات سے دلچسپی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 2018ء میں ووٹرز کی کل تعداد 105955409تھی جبکہ اس وقت کل تعداد 118224697  ہے۔ یعنی ووٹرز کی تعداد میں 12269288 کا اضافہ ہوا ہے۔17 کروڑ لوگوں کے پاس موبائل ہے جبکہ آٹھ کروڑ لوگ سوشل میڈیا کے رسیا ہیں۔نئے ووٹرز اور سوشل میڈیا کی صارفین کی اس تعداد کو دیکھیں اور پھر وائس آف امریکہ (VOA) کی 2017ء کی سوشل میڈیا صارفین کی اس وقت کی تعداد اور ان کی عمریں دیکھیں تو اگلے الیکشن کی صورتحال تک واضح ہو جائے گی  لیکن افسوس کہ مسلم لیگ نے اس محاذ پر کام نہیں کیا جبکہ تحریک انصاف نے یہاں بھاری سرمایہ کاری کی۔احسن اقبال کے بقول یومیہ چھ کروڑ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور معلوم نہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا  اعداد و شمار  بتا دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے؟ آپ کی حکومت ہے، آپ تحقیق کریں اور قوم کو بتانے کے ساتھ ساتھ اس کا توڑ بھی کریں ورنہ بڑھتی ہوئی پولرائزیشن سب کچھ بہا کر لے جائے گی۔

سوشل میڈیا پروفائل سے مائیکرو پروفائلنگ کر کے صارف کی پسند کے مطابق اسے ڈیٹا فراہم کر کے کیسے اپنا ہمنوا بنایا جا سکتا ہے اس کا اندازہ فیکٹ سکوائرڈ کے CEOمارک واش کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے پاس اتنا ڈیٹا ہوتا ہے کہ  ہمیں یہ تک اندازہ ہوتا ہے کہ کون سی چیز صارف کو خوش کرے  گی اور کون سی چیز پریشان اور یوں اسے ہمنوا بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟ کسی کو ذہنی غلام بنا کر اسے اپنا معمول بنانا کسی کے ذہن کو قابو کرنا خواہ سوشل میڈیا سے ہی کیوں نہ کیا جائے کیونکہ یہ ایک فتنہ ہے اور شاید اسی لیے مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا پاور کو فتنہ کہتے ہیں، ہزار الفاظ کی حد ہے ورنہ مزید وضاحت کرتا۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش ہے کہ مقابلہ کرنا ہے تو پلیئنگ فیلڈ کو لیول کرنا ہو گا ورنہ!!!

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں