28

   سبطین خان کی جیت اور میانوالی 



   سبطین خان کی جیت اور میانوالی 

85کے غیر جماعتی الیکشن نے جہاں ملک میں تبدیلی کی بنیاد رکھی یعنی جنرل ضیاء  الحق آہستہ آہستہ  زوال کی طرف بڑھے اور پھر  طیارے کے حادثے میں جان سے بھی گئے  وہاں ہمارے میانوالی میں بھی بہت بڑی تبدیلی آئی کہ نواب آف کالا باغ اور امیر عبداللہ خان روکھڑی مرحوم کی سیاست کا چراغ گل ہوا۔  اس تبدیلی نے میانوالی کی سیاست کو دو خاندانوں کی گرفت سے آزادی دلاتے ہوئے عوامی سیاست کی بنیاد رکھی، عوامی محاذ کے نام سے ایک سیاسی گروپ بنایا گیا جس گروپ میں زیادہ تر عام لوگ ہی نمایاں کردار کے ساتھ آگے آگے نظر آئے۔ علاقے کے جاگیردار،سرمایہ دار اور بڑے بڑے زمیندارکالا باغ اور روکھڑی کے ساتھ ہی کھڑے رہے اور خیال ان کا یہ تھا کہ یہ جو عوامی محاذ کے نام پربے وسیلہ سا گروپ ہے جس کی کوئی سیاسی حقیقت نہیں ہے اور یہ گروپ ماسوائے ہلہ گلہ کرنے کے کچھ نہیں کر سکتا مگر اس گروپ کے دوست ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کی قیادت میں ثابت قدم رہے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔ مجھے یاد ہے الیکشن میں ہم نے میلوں پیدل چل کے عوام کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ڈاکٹر شیر افگن نے شہر کی نشست سے ایم پی اے کے انتخاب میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا مگر جب سب لوگوں کے اصرار پر قومی اسمبلی کے حلقے سے بھی بطور امیدوار حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو پھر ڈاکٹر شیر افگن مرحوم نے قومی اسمبلی کی نشست پر بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔ ہمیں یہ تو امید تھی کہ صوبائی اسمبلی کی نشست جیت لیں گے مگر قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کی کوئی خاص امید نہیں تھی کیونکہ ایک تو وسائل نہیں تھے پھر حلقے میں ڈاکٹر شیر افگن اور عوامی محاذ کا کوئی خاص تعارف بھی نہیں تھا لیکن یہ قافلہ چل پڑا پہلی کامیابی یہ ملی کہ ملک غلام شبیر جوئیہ جو تحصیل پیپلاں کے بڑے زمیندار تھے، انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست پر ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایم پی اے کی نشست پر مدد کا مطالبہ کر دیا، ایم پی اے کی اس نشست پران کا مقابلہ پیپلاں کے ایک بڑے زمیندار سردار حسنین خان سے تھا جو کافی ووٹوں سے شکست کھا گئے۔ الیکشن سے چند ہی دن بعد ایک ادبی تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں میرے غلام شبیر جوئیہ سے اختلاف پیدا ہو گئے تو میں نے سردار حسنین خان سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ اس ادبی تقریب کے مہمان خصوصی بنیں، میرا خیال تھا حسنین خان میری شدید سیاسی مخالفت کو دیکھتے ہوئے انکار کر دیں گے مگر انہوں نے کہا چونکہ یہ ایک ادبی تقریب ہے اور آپ نے پاکستان کے بڑے بڑے شاعر اور ادیب مدعو کر رکھے ہیں سو میں محض سیاسی مخالفت کی وجہ سے ایسی بڑی بڑی ادبی شخصیات کی صحبت سے محروم نہیں رہنا چاہتا سو نہ صرف میں بلکہ میرے بھائی سبطین خان بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔

ہمارا یہ ادبی جلسہ ایک بہت بڑے پنڈال میں تھا جس میں شہر کے ہر طرح کے لوگ چار پانچ ہزار کے قریب شریک ہوئے، اس جلسے میں پہلی بار سبطین خان نے  سٹیج پر گفتگو کرتے ہوئے لوگوں کی توجہ حاصل کی، انہوں نے ادبی اور سیاسی گفتگو کا ایسا تڑکا لگایا کہ لوگ اش  اش کر اٹھے پھر دوسرے دن دونوں بھائیوں نے اپنی حویلی میں ہمارے مہمان شعرئا اور مقامی شعراء کے لیے رات کے عشائیے کا بھی اہتمام کیا اور اپنی خاندانی روایات کے مطابق بہت عزت واحترام دیا،یہاں سے سبطین خان کے ساتھ تعلقات کا آغاز ہوا اور پھر یہ ہوا کہ بلدیاتی الیکشن میں سبطین خان مقامی ٹاؤن کمیٹی کے چیئرمین بن گئے۔1988ء کے الیکشن میں بھائی کی جگہ خود ایم پی اے کی نشست پر امیدوار بن کے سامنے آئے اور کامیاب ٹھہرے، قسمت ان پر ہمیشہ مہربان رہی اور وہ جب بھی ایم پی اے بنے، وزیر بھی بنے اور علاقائی خدمات میں اپنے شہر پیپلاں کو تحصیل کا درجہ دلایا جس کی وجہ سے وہ اپنے آبائی شہر میں تو مسیحا کے طور پر جانے پہچانے لگے مگر میرے شہر کندیاں میں ان کی سیاسی شہرت کو نقصان پہنچا تاہم احساس ہونے پر انہوں نے کندیاں کو سب تحصیل کا درجہ دلا دیا۔

سبطین خان ابتداء میں مسلم لیگ ن پھر  وٹو لیگ پھر ق لیگ میں گھومتے پھرتے رہے اور وزیر بھی بنائے جاتے رہے مگر گزشتہ سال سے وہ تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہیں اور اپوزیشن کی سیاست میں اپنا  نمایاں کردار اداکرتے رہے۔ عمران خان نے بھی ان پہ بہت اعتماد کیا، پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پھر پارلیمانی لیڈر بھی بنائے گئے۔ پنجاب میں جب وزیر اعلیٰ کیلئے نام سامنے آ رہے تھے تو سبطین خان کا نام سب سے نمایاں تھا اور کسی حد تک فائنل بھی تھا مگر پھر وہ سیاسی سے زیادہ۔۔۔ کسی   مہربانی کا شکار ہوگئے اور عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنا دیا،یہ نام جہاں حیرت کا باعث بنا وہاں سبطین خان کا وزیر اعلیٰ نہ بنانا بھی حیرت کا باعث بنا شاید یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے اس بار انہیں پنجاب اسمبلی میں سپیکر بنا کے سابقہ سیاسی غلطی کا ازالہ کیا ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت چاہے جتنے دن بھی  رہے سبطین خان بہت تھوڑے وقت میں میانوالی کے عوام کیلئے بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے پھر یہ بات بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور سبطین خان کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات ہیں اور سبطین خان پرویز الٰہی کے سابقہ دور میں وزیر رہے ہیں اور بطور وزیر وہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے میانوالی کے عام مسائل کے حل کیلئے بہت کچھ حاصل کرتے رہے ہیں۔ عثمان بزدار کے دور میں بھی سبطین خان نے اپنے حلقے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے بہت فنڈ حاصل کیے جو ان کے حلقے میں ترقی کے نام پر نظر آتے ہیں، میرے خیال میں وہ ایک بار پھر میانوالی کے عوام کیلئے بہت کچھ کریں گے اور اگر دیکھا جائے تو اس وقت میانوالی کے حالات بہت برے ہیں میانوالی شہر میں نکاسی آب، پانی، سوئی گیس، سڑکیں،ہسپتال اور دیگر بنیادی مسائل توجہ مانگتے ہیں،سبطین خان کو کندیاں کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی کیونکہ یہ شہر ان کی توجہ مانگتا ہے۔ سبطین خان اگر میانوالی کے مسائل کے حل کیلئے کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ صرف سبطین خان نہیں بلکہ عمران خان کی سیاست کیلئے بھی اچھی بات ہوگی کیونکہ گزشتہ 10سال میں  میانوالی کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، عمران خان کے پونے چار سال میں بھی میانوالی کے مسائل کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا  ماسوائے ان مسائل کے حل کے جو عمومی طور پر حل ہوتے رہتے ہیں جو کسی خاص شخصیت کی کوشش قرار نہیں دیے جا سکتے۔امید ہے کہ سبطین خان جہاں صوبائی اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے وہاں میانوالی اور بالخصوص اپنے حلقے کے عوام کیلئے بھی پوری کوشش کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں