22

زرمبادلہ کی مارکیٹ میں افراتفری اور ڈیفالٹ کا خطرہ 



زرمبادلہ کی مارکیٹ میں افراتفری اور ڈیفالٹ کا خطرہ 

 اٹھارہ جولائی 2022 ء کو ملک نے زرمبادلہ کی مارکیٹ میں غیر معمولی افراتفری کا سماں دیکھا۔ اس سے استحکام کی وہ تمام تر توقعات دھڑم سے زمیں بوس ہوگئیں جو تیرہ جولائی کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے سٹاف کی سطح پر معاہدے سے بندھی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی کرنسی کی بے مہار گراوٹ شروع ہوگئی۔ عید کی طویل تعطیلات سے پہلے روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر 207 تھی۔سات جولائی کے بعد یہ ہندسہ227  تک پہنچ گیا۔ کچھ رپورٹیں اس سے بھی زیادہ بے قدری کی خبر دیتی ہیں لیکن ان کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ مندرجہ ذیل عوامل اس اتفراتفری کے ذمہ دار ہیں:

پہلا، 16 جولائی کو وزیر خزانہ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں اُنھوں نے انکشاف کرنا ضروری سمجھا کہ چار بلین ڈالر کا مالیاتی فرق مسلسل چلا آرہا ہے جس کے لیے دوست ممالک سے رجوع کیا جائے گا۔ یہ ایک حیران کن انکشاف تھا کیوں کہ خیال کیا جاتا ہے کہ عملے کی سطح پر معاہدے سے پہلے ایسے مالیاتی خلا پر کرلیے جاتے ہیں۔ دوسرا، اسی روز یہ بات بھی سامنے آگئی کہ آئی ایم ایف بورڈ اگست کے اختتام پرمیٹنگ کرے گا۔ یہ ایک اور تعجب خیز بات تھی۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ جولائی میں کسی وقت رقم ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ 

ان دونوں خبروں نے ہی بھونچال کی بنیاد رکھ دی تھی جب ساتھ ایک اور خبر بھی شامل ہوگئی۔ اگلے روز پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا نتیجہ بھی آگیاجس نے سیاسی غیر یقینی پن میں مزید اضافہ کرتے ہوئے زرمبادلہ اور سٹاک مارکیٹوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اگلے چند روز میں روپے کی قدر مزید دس فیصد گرگئی جب کہ سٹاک مارکیٹ تین فیصدسرمایہ کھو بیٹھی۔ اس کے بعد سے اب تک روپے کی قدر کھونے، اور سٹاک مارکیٹ میں نقصان کا عمل جاری ہے،گرچہ گزشتہ جمعہ کو سٹاک مارکیٹ میں بہتری کے آثار دکھائی دیے۔ ایک اور وزیر نے انکشاف کیا کہ جون میں پٹرولیم کی مصنوعات کے بھاری ذخائر درآمدکیے گئے تھے جس کی وجہ سے تیل کا درآمدی بل بہت بڑھ گیا۔ مجموعی درآمدات کابل پہلے ہی 80  بلین ڈالر کی چونکا دینے والی سطح ُکو چھو رہا تھا۔ 

مزید یہ کہ جب اٹھارہ جولائی کو حکومت لہولہان تھی، کوئی سرکاری اہل کار مارکیٹ کو تسلی دینے کے لیے دست یاب نہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قیاس آرائیاں مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسٹیٹ بنک اور وزیر مالیاتی امور نے مارکیٹ بند ہونے کے کئی گھنٹے بعد کہیں جا کریقین دہانی کے بیانات جاری کیے۔ 

ان دنوں، اور اس کے بعد جوکچھ ہوا، اس حکومت کے قیام کے بعد سے لیے گئے ناقص جائزوں اور استحکام لانے کے لیے درکار جاندار اقدامات کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ سر دست یہ خلا تو کسی قدر بھر گیا ہے لیکن اتنا نہیں کہ مسلسل پھیلنے والی افواہوں، یا شکوک و شبہات کا خاتمہ کرسکے۔ چنانچہ جائے حیرت نہیں کہ ڈیفالٹ ہونے کے ناگہانی خطرے کے مارکیٹ پر چھائے ہوئے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ 

اس مضمون میں ہمار اموقف یہ ہے کہ پاکستان کے اس نہج تک پہنچنے کا خدشہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اپنے موقف کے حق میں دلائل دیں، ملک کے بیرونی شعبے کی کارکردگی پر اثر انداز ہونے والے کچھ اہم عوامل کو اجاگر کرنا بہترہوگا۔ سب سے پہلے قرض کی مجموعی واجب الادا اقساط کا حجم،ا ور بیرونی قرضے ہیں۔ دونوں ہی معیشت کے حجم کے تناسب سے زیادہ ہیں۔ دوسراعامل قرض لینے کی ضرورت ہے، اور یہ بھی کہ یہ ضرورت کتنی جلدی پوری ہوجاتی ہے۔ تیسرا، رواں سال ادائیگیوں کاممکنہ توازن کیاہوسکتاہے، اور مالیاتی کھاتے میں کیا حرکیات دیکھنے میں آئیں گی۔ یہاں کچھ ایسے شواہد دست یاب ہیں جومارکیٹ کے خدشات کا تدارک کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مالی سال 2022  ء میں قرض کا حجم کا جی ڈی پی کا 70  فیصد ہے(گرچہ حتمی اعدادوشمار ابھی تکمیل پارہے ہیں)۔ ہمارا کل قرضہ 47   ٹریلین روپے ہے جب کہ ہمارا جی ڈی پی 67  ٹریلین روپے ہے۔ بلوم برگ رپورٹ کے مطابق ممکنہ ڈیفالٹ کے خدشے سے دوچار ممالک کے مقابلے میں یہ تناسب کافی کم ہے۔مصر پر قرض کا حجم جی ڈی پی کا90  فیصد ہے۔  

دوسری، پاکستان کا قرض کئی ایک قرض دہندگان سے لیا گیا ہے اور ان کی ادائیگی کا دورانیہ کئی دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہے جن کی قرض کی پروفائل خطرات سے عبارت ہے۔30 جون 2021 ء تک پاکستان پر کل قرض 98 بلین ڈالرتھا، جس میں سے 42بلین ڈالر (43  فیصد) آئی ایم ایف، عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک وغیرہ سے، 31  بلین ڈالر (32 فیصد) دیگر قرض دہندگان سے،جن میں سے 11بلین ڈالر پیرس کلب کے ممالک سے، 18 بلین ڈالر چین سے اور باقی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے حاصل کیے گئے ہیں۔ سکوک اور دیگر بانڈز سے 9 بلین ڈالر (9 فیصد)، جب کہ کمرشل قرض، زیادہ ترچین سے، 10بلین ڈالر (10 فیصد) حاصل کیا گیا ہے۔ 

کثیر الجہتی قرضے طویل مدت اور کم لاگت کے حامل ہوتے ہیں۔ دو طرفہ قرضوں میں ایک جیسی خصوصیات ہیں۔ حقیقی تجارتی کریڈٹ بانڈز اور سکوک ہیں جو دسمبر کے آخر اور اگلے اپریل تک واجب الادا نہیں ہیں۔ دیگر واجب الادا تجارتی قرضے سب سے زیادہ چین سے لیے گئے ہیں، درحقیقت مجموعی واجب الادا قرضوں کا 26 فیصد چین کا ہے جس نے بارہا پاکستان کے لیے اپنی حمایت کی سند کو ثابت کیا ہے۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قرض دہندگان سے لیے گئے قرض کی نوعیت اور ادائیگی کا وقت دونوں ہی پاکستان کے لیے کافی حد تک سازگار ہیں۔ نیزہمارے قرض دہندگان کو ہماری ادائیگی کی صلاحیت کی بابت کوئی خطرہ نہیں۔ 

تیسرا، آئیے اب سال کے لیے ادائیگیوں کے توازن کے تخمینے کا جائزہ لیں۔ وزیر خزانہ نے گزشتہ مالی سال کے 80 ارب ڈالر کے درآمدای بل میں  8 ارب ڈالر کی کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ بل ابھی بھی کافی زیادہ ہے۔ ایک پالیسی کے طور پر ہمارا سی اے ڈی (خریداری پر کیش ادائیگی) جی ڈی پی کے 1% سے زیادہ نہ ہو، جو کہ ممکنہ طور پر 78 ٹریلین جی ڈی پی اور 210 روپے کی ڈالر کی شرح تبادلہ پر 3.7  بلین ڈالر ہوگا۔ ضروری ہے کہ سیاسی انتشار کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں بھی استحکام لایا جائے۔ اگر ہم برآمدات کی آمدنی اور ترسیلات زر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھ پاتے ہیں تو عالمی اقتصادی سست روی اور ممکنہ کساد بازاری کی پیشین گوئیوں کو دیکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ 

یہ تخمینے ہیں جو ایسی پالیسی کے چناؤ کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہماری معیشت کے ساتھ ہم آہنگ ہواور ہمارے پاس دست یاب وسائل بھی اس کی معاونت کرتے ہوں۔ اس سے ملک کو سکون کا سانس لینا نصیب ہوگا تاکہ اس دوران ہم معیشت کو درپیش زیادہ گھمبیر مسائل سے نبردآزما ہوسکیں جیسا کہ توانائی کے شعبے کا قرض،سرکاری سرپرستی میں چلنے والے کاروباری ادارے (پی ایس ای)جن پر بھاری وسائل پانی کی طرح بہہ رہے ہیں، اورحکومت کے بھاری اخراجات۔ ان معاملات کی درستی ملک کو استحکام کی طرف لے آئے گی، اور آنے والے وقتوں میں ہم معاشی نمو اور اقتصادی بہتری کی راہ پر چل نکلیں گے۔ 

چوتھا، ہم آئی ایم ایف پروگرام لے چکے ہیں۔ شرائط سخت سہی، لیکن پاکستان انھیں پورا کرنے میں کامیاب رہا۔ اس وقت عملے کی سطح پر معاہدہ طے پاچکا۔ فنڈ بورڈ کا اجلاس اگست کے تیسرے ہفتے میں ہوگا۔ اگرچہ معاہدہ ہماری پسند کے مطابق نہیں طے پایا لیکن فنڈ پاکستان کے لیے پروگرام کی منظوری دے دے گا۔ 

مزید برآں، قائم مقام گورنر اسٹیٹ بنک کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے پاس رواں برس دستیاب مالی وسائل 36 بلین ڈالر ہیں جب کہ اسے 34 بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ مرکزی بنک کی طرف سے اس سے زیادہ اور کیا یقین دہانی ہوسکتی ہے! اور اس بنک کی بنیادی ذمہ داری ہی ملک کے بیرونی ادائیگیوں کے نظام کو مستحکم کرنا ہے۔ 

ان تمام عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ نتیجہ نکالنا برمحل ہوگا کہ ملک کو فوری طور پر ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں کہ یہ بیرونی قرضہ جات کی ادائیگیوں سے قاصر ہو۔ یقینا اس کی مارکیٹ میں مایوسی کی فضا کا غلبہ ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ سیاسی افراتفری ہے۔ تاہم اس صورت حال کا ہماری معیشت کے مبادیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یعنی سیاسی تناو کسی اقتصادی بحران کا نتیجہ نہیں۔ اسے گزشتہ مالی سال کے دوسرے نصف میں اٹھائے گئے غلط اقدامات سے منسوب کیا جاتا ہے، اور اس غلطی کو اب تک درست کرلیا گیا ہے۔ اس کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں