39

 دیوار پر لکھا پورا چودھری پرویز الٰہی نے حلف اٹھا لیا! 



 دیوار پر لکھا پورا، چودھری پرویز الٰہی نے حلف اٹھا لیا! 

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے نتیجے میں چودھری پرویز الٰہی نے وزارت اعلیٰ کا حلف بھی اٹھا لیا اور آج انہوں نے باقاعدہ چارج بھی سنبھال لیا ہے۔ وہ دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ بنے اور ان کو یہ منصب ان سمیت مسلم لیگ (ق) کے دس اراکین کے حوالے سے ملا۔ ایوان میں تحریک انصاف کے 178اراکین ہیں تاہم ہما چودھری پرویز الٰہی کے سر بیٹھا، ان کو یہ عہدہ اب بڑی کشمکش کے بعد ملا ہے۔ حمزہ شہباز نے دوبار حلف لیا تاہم آخری مدت دوچار روز ہی رہی۔ عدالت عظمیٰ نے مسلسل سماعت کے بعد منگل کی شب فیصلہ سنایا اور اس فیصلے میں یہ یقین بھی حاصل کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کے حلف میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور فیصلہ میں باقاعدہ حکم دیا گیا ”آج ہی رات ساڑھے گیارہ بجے حلف لیا جائے اگر کسی وجہ سے صوبائی گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت خود حلف لیں“ یوں اگر تاریخ میں عدالتی بائیکاٹ کی نظیر بنی تو یہ مثال خود عدلیہ نے بنا دی کہ صدر مملکت نے پہلی بار کسی وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔ یہ شاید حمزہ شہباز والے پہلے حلف کے تجربے کی روشنی میں تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کے گورنر سرفراز چیمہ نے باقاعدہ حلف لینے سے انکار کر دیا تھا اور حمزہ کو لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے پر اور اس حکم کے تحت کہ صدر حلف لیں اگر وہ نہ لیں تو پھر قومی اسمبلی کے سپیکر یہ فرض ادا کریں اور پھر یہ حلف راجہ پرویز اشرف نے گورنر ہاؤس کے لان میں لیا تھا۔

جو ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ عدالتی فیصلے پر منفی اور مثبت تنقید ہو رہی ہے۔ ماضی میں اسی عدلیہ کے اسی نوعیت کے فیصلے پر تنقید کرنے والے آج تعریف میں آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں اور اس وقت مٹھائی تقسیم کرنے والے مخالفانہ تنقید کر رہے ہیں، ماحول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی صرف اینڈ تبدیل ہو گیا۔ کھیل تو ویسے ہی جاری ہے اور شاید اس وقت تک جاری رہے، جب تک مرکزی حریفوں کے درمیان قومی مفاد کی خاطر باقاعدہ مذاکرات نہیں ہوتے اور ایسا ہونا چاہیے۔ عمران خان اور پی ڈی ایم کو فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر براہ راست دعوت میں کوئی رکاوٹ ہے تو بہتر ہوگا کہ ماضی کی کوئی مثال سامنے رکھ لی جائے اور کسی تیسرے فرد کو فضاء سازگار بنانے کا فرض تفویض کیا جائے۔

ماضی میں جب ذوالفقار علی بھٹو اور قومی اتحاد والوں کے درمیان سخت کشیدگی تھی اور قومی اتحاد والوں کی ساری قیادت نظر بند تھی جبکہ باہر شدید مظاہرے ہو رہے تھے حتیٰ کہ 9اپریل 77ء کو ریگل چوک میں گولی بھی چلی تھی اس کے نتیجے میں چودھری اعتزازاحسن جیسے نوجوان بیرسٹر نے صوبائی وزیر اطلاعات کی حیثیت سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ یہ کشیدگی حد سے بڑھ گئی تھی فوج بلانے کے باوجود حالات سنبھل نہیں رہے تھے مذاکرات کی کوئی صورت نظرنہیں آتی تھی ایسے میں حکومت نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اجازت سے سردار عبدالقیوم (مجاہد اول مرحوم) کو حراست سے آزاد کیا اور ان کو تمام تر سہولتیں دیں وہ نہ صرف سرکاری وسائل سے سفر کرتے رہے بلکہ ان کو زیر حراست تمام قائدین سے ملنے کی اجازت بھی دی گئی اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ چنانچہ حکومت (بھٹو) اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب 4جولائی 77ء کی شب کو مذاکرات کی کامیابی والی اطلاع دی گئی تو بوجوہ یہ ہو نہ سکا اور 5جولائی 77ء کا سورج جنرل ضیاء کی قیادت میں فوج کے ہاتھوں بھٹو حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا کہ بھٹو کے خلاف کس طرح قتل کا مقدمہ براہ راست ہائی کورٹ میں سنا گیا اور ان کو سزائے موت کا حکم ہوا اور پھر یہ بھی اسی آسمان اور زمین کی مخلوق نے دیکھا کہ عدالت عظمیٰ سے ان کی اپیل خارج ہوئی اور وہ پھانسی پر لٹکا دیئے گئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کو یہ سزا 109 کے تحت اعانت جرم میں دی گئی۔ اس مقدمہ میں ایس ایس ایف کے لوگوں کو بھی سزا بھگتنا پڑی اور اعتراف جرم والے بھی پھانسی پا گئے اور ان کے لواحقین سے کیا گیا وعدہ بھی پورا نہ ہوا۔ عدل کی تاریخ میں یہ ایسا کیس ہے جو پی ایل ڈی میں موجود ہے لیکن یہ مثال کے لئے پیش نہیں کیا جاتا۔ ہماری عدلیہ یہ دلیل نہیں مانتی کہ اعانت جرم والے کو بھی وہی سزا دی جا سکتی ہے جو اصل جرم کرنے والے کی ہے اب ایک بار پھر عدلیہ ہی کے فیصلے زیر تنقید ہیں اور سب اپنے اپنے نظریات اور جماعتی و ذاتی مفاد کے حوالے سے بات کر رہے ہیں حتیٰ کہ فرحت اللہ بابر نے آئین کے آرٹیکل 91کا حوالہ دے کر پی ڈی ایم والوں کو متوجہ کیا اور پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنانے کی بات کی ہے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ محترم کپتان نے رات بارہ بجے لگنے والی عدالت کے بارے میں تنقیدی ذکر کیا اور اب رات کو سنائے گئے فیصلے اور حلف کی تائید بھی کی ہے، یوں حالات میں کوئی تبدیلی نہیں۔

اب بڑا سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف استحکام کا نعرہ لگا رہی ہے لیکن حالات بظاہر اس کی تائید نہیں کرتے اور کشیدگی جوں کی توں ہے۔ اس کا اندازہ پی ڈی ایم کے رویے اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیانات سے ہو جاتا ہے، حالانکہ انکساری سے کام لے کر حالات کو پُرسکون بنانے کی ضرورت ہے اور یہ ناممکن تو نہیں، کسی کو تو آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری نبھانا ہو گی کہ مذاکرات کا آغاز تو ہو۔ اس وقت وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے تمام تر دعوؤں اور تسلیوں کے باوجود عوام بے چین ہیں کہ ہر سو مہنگائی ہے اور اس پر بجلی کے بلوں نے کس بل نکال دیئے ہیں کہتے ہیں  معاشی استحکام سیاسی استحکام سے ہی ممکن ہے تو ایسا کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیوں عوام کے صبر کا امتحان لیاجا رہا ہے جو پہلے ہی تنگ ہیں اور کئی مسیحا کی راہ دیکھ رہے ہیں، پھر سے یہی استدعا ہے کہ جوش پر ہوش کو غالب آنے دیں۔

آخر میں قارئین کی توجہ ایک نئے ریکارڈ کی طرف دلا دوں کہ چودھری پرویز الٰہی نے ایک اور ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ 1993ء میں غلام حیدر وائیں کے خلاف عدم اعتماد ہوئی اور جونیجو لیگ کے میاں منظور احمد وٹو غالباً 18ووٹوں کی مدد سے وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔ چودھری پرویز الٰہی صرف دس ووٹوں کی مدد سے بنے ہیں اور ان کو پی ڈی ایم کی طرف سے بھی پیشکش تھی یوں آج کے مخالفین کو بھی پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے پر اعتراض نہیں تھا۔ فرق اپنی طرف ہونے کا ہے۔ بقول آصف علی زرداری چودھری پرویز الٰہی وعدہ کرکے دوسری طرف چلے گئے۔ چودھری پرویز الٰہی کا یہ فیصلہ ان کے لئے تو بہتر ہی ہے کہ ان کو گیارہ یا تیرہ جماعتوں کی بجائے ایک جماعت ہی سے واسطہ رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں