30

 دورہ قطر اور اس کے ثمرات



 دورہ قطر اور اس کے ثمرات

گزشتہ دِنوں وزیراعظم پاکستان سرکاری دورے پر قطر روانہ ہوئے تحریک انصاف کے حامیوں نے اس دورے پر دل کھول کر تنقید کی کہ ملک اس وقت سیلاب کی آفت سے نمبرد آزما ہے اور وزیراعظم دورے کرتے پھر رہے ہیں ان احباب  سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی سربراہ مملکت/حکومت کا دورہ ایک دن میں طے نہیں ہوتا بلکہ بہت سے مراحل سے گزر کر تاریخ طے کی جاتی ہے یعنی وزیراعظم کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اب ان احباب سے میرا بھی ایک سوال ہے کہ جناب عمران خان صاحب تو کسی بھی سرکاری کام میں مصروف نہیں تھے لیکن پھر بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے نہیں پہنچ پائے خیر چھوڑیئے قوم یوتھ کو بات سمجھانا دیوار سے ٹکڑانے کے برابر ہے۔

قطر اس وقت پاکستان میں قومی ایئرلائن، اسلام آباد ائیر پورٹ کا انتظام،ایگریکلچر اور انرجی سیکٹر میں انویسٹمنٹ کرنے کا خواہش مند ہے اور یہ پاکستان کا خوشحالی کی  طرف پہلا قدم ہو گا   سب سے پہلے قومی ایئرلائن کی بات کریں  تو اِس وقت 29 طیاروں کے ساتھ آپریشن چلا رہی ہے پی آئی اے کا سالانہ نقصان 45ارب،روزانہ13کروڑ،اثاثہ جات 150ارب، قرض 48 ارب روپے ہے اگر قطر قومی ایئرلائن کے ڈوبتے بیڑے کو  سینے سے لگانے کو تیار ہے  تو بہت خوشی کی بات ہے گورنمنٹ کو چاہیے کہ جتنا جلدی ممکن ہو پی آئی اے کی کمان قطری حکومت کے ہاتھ دے دیں جس سے گورنمنٹ کو فوری فائدہ یہ ہوگا کہ تیرا کروڑ روزانہ جو پی آئی اے کو ادا کرنا پڑتے ہیں، نہیں کرنے پڑیں گے اور قومی ایئرلائن ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتری کی طرف جانا شروع ہو جائے گی قومی ایئر لائن میں بڑی تعداد میں نئے جہاز شامل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت قطر ایئرویز دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شامل ہے مجھے متعدد بار کا قطر ایئر ویز  پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے اور پی آئی اے میں بھی  ان میں اتنا ہی فرق ہے جیسے سنگاپور اور ایتھوپیا۔

اس کے ساتھ اگر اسلام آباد ائیر پورٹ کا انتظام بھی ان کے پاس چلا جاتا ہے تو بہت جلد یہ بھی مصروف ترین ائیرپورٹ بن جائے گا مجھے متعدد بار سورن بھومی ایئرپورٹ بینکاک پر اترنے کا موقع ملا ہے یہ دنیا کا مصروف ترین ائیرپورٹ ہے اس ایک ایئرپورٹ کی کمائی تھائی لینڈ کی مجموعی آمدن کا ایک بہت بڑا حصہ ہے اگراسلام آباد ایئرپورٹ قطر  کے زیر انتظام آ جاتا ہے تو یہاں بھی ایئرٹریفک بہت زیادہ بڑھ جائے گی جس کا فائدہ پاکستان کو فوری طور پر ملنا شروع ہو جائے گا۔دوسرا قطر پاکستان میں زرعی شعبہ میں انویسمنٹ کرنے کا خواہش مند ہے قطر  کے پاس کے قابل کاشت رقبہ نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ  اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان سے زمین ٹھیکے پر لینا چاہتا ہے میں وزیراعظم پاکستان سے گزارش کروں گا کہ انہیں فی الفور  اچھی شرائط اور معاہدے پر زمین دے دیں پہلے مرحلے میں انہیں چولستان دیں کیونکہ ہم گزشتہ 75 سالوں میں چولستان کا ایک ایکڑ بھی  سرسبز نہیں کر سکے لیکن یہ کر لیں گے ہمارے پاس چولستان میں پچیس ہزار آٹھ سو مربع کلومیٹر رقبہ خالی پڑا ہے وہ انھیں دے دیں اور اس کے بعد لیہ میں (539820) ا یکڑ۔را جن پور میں (541952) ایکڑ زمین خالی پڑی ہے وہ بھی ا نہیں دے دیں قطر گورنمنٹ کے ساتھ کم از کم تیس سالہ معاہدہ زمین کریں  یہ ہمارے ملک میں آبپاشی کا نظام بہتر بنا دیں گے۔ہمارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں ان پڑھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا ہمارے زمیندار ان سے جدید کاشتکاری سیکھیں گے ہمارے ملک  میں موجود زرعی ادویات اور سیڈ کمپنیاں ان کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوکر نہ صرف اچھا منافع کمائیں گی  بلکہ ان سے ریگستانوں کو سرسبز کرنے کے طریقے بھی جان لیں گی جس سے ہمارے ملک میں صدیوں سے خالی پڑ ے رقبہ جات آباد ہو جائیں گے۔

اگر حکومت پاکستان کسی بھی معاہدہ کے تحت جو ریاست کی بقا کے لیے خطرہ نہ ہو  ان سے ایک ڈیم بھی بنوا پاتی ہے تو یقین کر لیں کہ  ان کی کاشتکاری کو وافر پانی ملے گا  ہمارے ملک میں واٹر ریزروز میں اضافہ ہوگا  اور ہم سستی بجلی بھی بنا سکیں گے اس کے ساتھ قطر گورنمنٹ پاکستان میں انرجی سیکٹر (ایل این جی) میں کام کرنا چاہ رہی ہے جناب وزیراعظم قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے حکمرانوں کو بڑے  فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور وہ صرف آپ ہی کر سکتے ہیں اور براے کرم کر جائیں۔یہ قوم پر آپ کا احسان ہو گا اگر آپ یہ کر گئے تو تاریخ میں آپ کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گاجن ممالک نے  ایسے معاہدے کیے وہ ترقی کی راہ پر چل نکلے اگر قطری حکومت ہمارے زرعی سیکٹر،ہوابازی اور ا نرجی  میں انویسٹمنٹ کر جاتی ہے تو یہ ریاست کی بہت بڑی جیت ہوگی۔پی آئی اے کے اثاثہ جات میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئے جہاز اور خسارے کی بجائے ہمارے یہ ادارے منافق دینا شروع کر دیں گے جس سے پاکستانی بدحال معیشت کو فوری طور پر بہت بڑا سہارا مل جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے دریاؤں اور نہروں کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس لاکھوں ایکڑ زمینیں فارغ پڑی ہیں محکمہ جنگلات کو حکم جاری فرمائیں کہ  اگر انہیں فوری طور پر جنگلات میں تبدیل کرنے پر کام شروع کیا جائے یہ جنگلات ہمیں موسمیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کریں گے جس طرح سیلا بوں نے تباہی مچائی ہے یہ جنگلات ہمیں آئندہ اس قسم کی تباہی سے بچانے کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے  اور اگر آپ یہ کر گئے تو میری ریاست ترقی کی راہ پر چل نکلے گی،انشاء اللہ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں