28

 خود مختاری کا تحفظ

 کسی بھی ملک اور قوم کے لئے اہم ترین امورمیں سرِ فہرست خود مختاری ہے اس کی عدم موجودگی میں کوئی بھی ریاست نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی قائم رہ سکتی ہے۔ 14اگست1947ء کو آل انڈیا مسلم لیگ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں ایک نئے ملک کی تشکیل میں کامیاب ہوئی۔ قائداعظمؒ نے اس نوزائیدہ ریاست کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا  جبکہ نواب زادہ لیاقت علی خان کو ریاست کے پہلے وزیراعظم کے طور پر چنا گیا۔ آزادی کی طویل جدوجہد اور دیرینہ علالت قائد سے صحت کاخراج وصول کرچکی تھے وہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد خالق حقیقی سے جاملے۔ ا ن کی جگہ تحریکِ پاکستان کے ایک اور رہنما خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل بنے وہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے جہاں 1906ء میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی،یہ دونوں رہنما پاکستان کے مسائل سے نبرد آزما تھے کہ ایک سازش کے تحت لیاقت علی خان کی جان لے لی گئی۔ 

اس کے بعد محلاتی سازشوں کے باوجود ملک میں اکتوبر 1958ء تک سیاسی جدوجہد جاری رہی۔ پاکستان کے ریپبلک قرار دیئے جانے کے بعد سکندر مرزا نے پہلے صدر کا حلف اٹھایا۔ اقتدار پر قابض رہنے کے لئے انہوں 1956ء کے آئین کے تحت انتخابات کروانے کی بجائے ملک پر مارشل لا نافذ کردیا۔ اس صورت حال میں ایوب خان نے سکندر مرزا کو ہٹا کر خود ملک کا کنٹرول سنبھال لیا، مرزا نے امریکی سفارت خانے سے مدد طلب کی لیکن دست گیری نہ ہوپائی کئی سال سے میں اس بات کا جائزہ لے رہا ہوں کہ ناقص  کارکردگی رکھنے والے ایوب خان کو ان سے بہتر افسروں کی موجودگی میں کیوں آرمی چیف بنا یا گیا؟ یقین کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم پر اس تعیناتی کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا،ان کے بعد منتخب حکمرانوں نے بھی میرٹ سے ہٹ کر آرمی چیف تعینات کیے اور اس کا خمیازہ بھگتا۔بھٹو نے جنرل ضیاکی تعیناتی کو اپنی سب سے بڑی غلطی قرار دیا جب کہ نواز شریف مشرف کو تعینات کرنے پر کف ِ افسوس ملتے رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) طارق خان کا کہنا ہے کہ”ہر ملک کو فوج کی ضرورت ہوتی ہے، بہتر ہے کہ فوج اس کی اپنی ہو“۔

 اگر چہ ماؤ زے تنگ چینی انقلاب کے غیر متنازع رہنما تھے، ملک کی انتظامی قیادت چو این لائی کے ہاتھ میں تھی۔ پاکستان کے دورے کے دوران ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا کہیں جاتے ہوئے انھیں فرش پر ایک چھوٹا پرنٹ شدہ چینی جھنڈا نظر آیا، جس پر قدم رکھنے کے بجائے انہوں نے اسے اٹھایا، تہہ کر کے اپنی جیب میں ڈال لیا، پرچم برداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے بلند اور محفوظ رکھیں جب بھی پاک فوج میں کمان تبدیل ہوتی ہے، آنے والے اور جانے والے کمانڈر کے درمیان چھڑی کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یہ ایک متاثر کن اور پروقار روایت ہے جسے جاری رہنا چاہیے لیکن تبادلہ قومی پرچم کا ہونا چاہیے جس کی حفاظت کمانڈر کو کرنا ہوتی ہے اور اسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ ہمارے قومی شاعر کی زبان میں کہا جائے تو ”تازہ خداوں میں سب سے بڑا وطن ہے“ (خدا کے بعد ملک کا درجہ ہے)۔ جب قوم کے مفادات کی بات ہو تو تمام افراد اور اداروں کو ثانوی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے پاک سرزمین پر ملک کی خودمختاری پر بار بار ذاتی مفادات کے لیے سمجھوتا کیا جاتا رہا۔ بھٹو نے چینی لیڈروں کی تعریف کی لیکن جب وہ اپنے ملک کے لیے کھڑے ہوئے تو انھیں گھیر کرختم کر دیا گیا۔

آئین ملک کی خودمختاری کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جسے چار آئین (1956ء، 1962ء، 1972ء، 1973ء) بنانے پڑے۔ 1973ء کے آئین کی بار بار خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اب تک صرف جنرل پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلا اور سزا سنائی گئی جس سے مستقبل کی مہم جوئی کے سدباب کا مکان پیدا ہوا ہے۔ آج عمران خان ایک تحریک کی قیادت کر رہے ہیں پاکستان ایک بار پھر دوراہے پر کھڑا ہے، 1951ء میں گینگ آف تھری نے جو کھیل شروع کیا تھا اسے ختم ہونا چاہیے۔ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آئینی جمہوریت ہے جو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں