39

 خدمت گاری معیشت انبیاء کی سنت ہے 



 خدمت گاری معیشت، انبیاء کی سنت ہے 

 معیشت کی دواقسام ہیں ایک طاقت سے مستعارمفاداتی معیشت ہے جودنیاکے فاسق وفاجر اور ظالم لوگوں کاوتیرہ ہے اوردوسری خدائی خدمت گاری معیشت ہے جوانبیاءؑ کی سنت ہے آج اگر ہم اپنی معیشت پر نظر ڈالیں تو موجودہ معیشت کو اس حدیث کا پوری طرح مصداق پاتے ہیں۔ تقریباً ہمارے90 فیصد کاروبار سودی قرضوں کے ذریعے چل رہے ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ مول لینے کے مترادف ہے۔

سود کا لغوی معنی زیادتی اور اضافہ ہے اور اصطلاح میں سود خرید وفروخت کے معاملے میں ایک جانب سے کسی بھی چیز کے ایسے اضافے کا نام ہے جو بغیر کسی عوض کے ہو اور فریقین میں سے کسی ایک کے لیے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔سود کی مذمت اور حرمت قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بقیہ سود کو چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: ہر ایسا قرض جس کی بنا پر کوئی نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔سودی نظام کے خاتمے کے لیے پہلے اس طبقے کوختم کرنا ہو گاجس کے مفادات اس نظام سے منسلک ہیں۔

قلم کاروان،اسلام آبادکے زیر اہتمام منگل کی شام کو منعقدہ ادبی نشست میں مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ساجد خاکوانی نے سود، سود کے اجزائے ترکیبی، سود اور تجارت میں فرق اور سودی معیشت کے تباہ کن اثرات پر تفصیلاً بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سودی نظام معاش سے دولت چندہاتھوں میں سمٹ آتی ہے اور بھوکے پیٹ رہنے والے جب سودخوروں کے کتوں اورگھوڑوں کی خوراکیں، دوائیاں اورخدمت گاریاں دیکھتے ہیں تو وہ امیروں کے ہاں ڈکیتیوں اورچوریوں پر اتر آتے ہیں اوریوں معاشرہ تباہی کے دہانے پرپہنچ جاتاہے جس سے بچاؤکاایک ہی طریقہ ہے سودسے پاک معیشت کانظام رائج کیاجائے۔  مذاکرے میں بہت سے سکالروں اور اہل دانش نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ اکرم الوری نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔ 

سودکاآغازیہودی علماء نے کیاتھاتاکہ بادشاہت کی طاقت کامقابلہ دولت سے کرسکیں ان کے بعد کلیسانے بھی سودی لین دین کوجائزرکھابلکہ کلیسائی قیادت خود بھی سودوصول کرتی رہی، بالآخراسلام نے آکرسودکوحرام قراردے دیا۔ سودی نظام سے نکلناممکن نہیں کیونکہ ہم بین الاقوامی ساہوکاروں کے چنگل میں بری طرح پھنس چکے ہیں اوروہ کہیں گے اسلام تمہارادین ہے جس میں سودحرام ہے ہماراتونہیں ہے۔علماء دین اگر مضبوط اور فیصلہ کن قدم اٹھائیں توسودکو ختم کیاجاسکتاہے۔

سوال یہ ہے کیا ہماری معیشت سود سے پاک ہو سکتی ہے؟ ہمارا دین تو یہ رہنمائی کرتا ہے،ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کا سود معاف کر دیا تھا اور وہیں سے مسلمانوں کو سود کی لعنت سے نجات ملی تھی پھر رفتہ رفتہ ایسے لوگ آگے آتے گئے جن کا تمام کاروبار سودی لین دین پر انحصار کرتا رہا اور آج نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ دنیا میں سب اسلامی ممالک سود کی لعنت میں ملوث ہو چکے ہیں۔ سود کی حرمت کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو وعیدیں نازل ہوئی ہیں کیا وہ مسلمانوں اور مسلمان حکمرانوں کو معلوم نہیں؟ حیرت کا مقام ہے کہ پھر بھی لوگ سود میں ملوث ہیں!

ہمارے ہاں حال ہی میں  وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام سے پاک بینکاری نظام قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ وہ تمام قوانین جن میں سود کا لفظ استعمال ہوا ہے اسلامی شریعت کے منافی قرار دیئے جاتے ہیں، معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے،اسلامی تعلیمات کے مطابق بینکاری نظام قائم کیا جائے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سودی نظام اور مغرب زدہ کلچر دجالی فتنہ ہے۔یہود نے دنیا کو سودی نظام میں جکڑا ہوا ہے ہمارے ہاں سودی معیشت بہت بڑی لعنت ہے،سودی کاروبار کی وجہ سے ہماری آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں تک مقروض ہو چکی ہیں  پاکستان کلمہ کے نام پر بنا اسلام کے نام پر قربانیاں دی گئیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں سودی نظام قائم ہے۔

 اسلامک بینکنگ اور سودی نظام سے پاک بینکاری نظام دو مختلف چیزیں ہیں۔ پاکستان میں پہلے سے کچھ جگہوں پر سود سے پاک نظام بینکاری موجود ہے۔ ربا کو پاکستان میں ختم ہونا چاہیے پاکستان جیسی اسلامی ریاست کا معاشی نظام سود سے پاک ہونا چاہیے، چین بھی اسلامی شرعی نظام کے مطابق سود سے پاک بینکاری کی طرف جا رہا ہے اسلامی بینکاری پر عام اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ صرف الفاظ کی تبدیلی ہے اور حقیقت میں اس میں اور روایتی بینکاری میں فرق نہیں ہے مگرماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ اب بھی اسلامی بینکاری نظام روایتی نظام کے اندر کسی حد تک موجود ہے اور اگر مکمل طور پر قانون سازی اور پالیسی سازی کی جائے تو مزید ایسی پراڈکٹس بنائی جا سکتی ہیں جو سود کے بجائے تجارت کے اصولوں پر قائم ہوں،جب آپ کی معیشت روایتی نظام پر چل رہی ہو تو آپ اس کے اندر مکمل طور پر اپنا الگ تھلگ نظام نہیں بنا سکتے لیکن متبادل پراڈکٹس کی طلب ضرور پیدا کر سکتے ہیں،اس حوالے سے بہت سا کام ہو چکا ہے اور حکومت کو اس فریم ورک میں اصلاحات کرنی پڑیں گی۔ وقت کے ساتھ یہ پیش رفت اگر سو فیصد نہ بھی ہو تب بھی وقت کے ساتھ یہ ارتقا پا کر مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

سودی نظام کی وجہ سے ملک میں بے برکتی پھیلی ہوئی ہے اور ملکی معیشت زوال کا شکار ہے اس لیے  سودی نظام کا خاتمہ آئین کا لازمی تقاضا ہے کیونکہ آئین قرآن و سنت سے متصادم تمام قوانین کو ختم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ ممبران اسمبلی سودی نظام کے خاتمے کے لیے آواز اٹھا کر مسلمان ہونے کا حق ادا کریں اور عوامی امنگوں کو پورا کریں۔ سودی نظام اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے جبکہ سودی نظام کے خاتمے سے ملک میں برکت کا پاکیزہ ماحول پیدا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں