14

 جمہوریت کو چلنے تو دیں! 



 جمہوریت کو چلنے تو دیں! 

پنجاب اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ اب سردار دوست محمد مزاری کی خالی نشست پر انتخاب باقی رہ گیا ہے اور اس میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کو برتری حاصل ہے گو سپیکر سبطین خان کو 185 ووٹ ملے لیکن ڈپٹی سپیکر کے خلاف 186 اراکین نے ووٹ دیا اور یوں یہ سلسلہ انتخاب کے وقت بھی ایسے ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کے امیدوار سیف الملوک کھوکھر کو 175 ووٹ ملے تھے یوں عددی لحاظ سے جیتنے والے گروپ کے دو ووٹ کم رہے اور شکست خوردہ حضرات کے تین ووٹ کم ہوئے شاید یہ پانچ حضرات مسترد ووٹوں والے تھے۔ انتخاب کا عمل مجموعی طور پر پر امن رہا ماسوا صرف ایک تنازعہ کے حوالے سے جب مسلم لیگ (ن) کے اہم رکن رانا مشہود کے خلاف بیلٹ پیپر جیتنے کا الزام لگایا گیا مسلم لیگ (ن) کی طرف سے رانا مشہود نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل میں قواعد، قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے کہ خفیہ رائے شماری کا مکمل اہتمام نہیں کیا گیا حزب اقتدار کو شاید اپنے اراکین پر مکمل اعتماد نہیں تھا کہ ایون کی طرف سے ایسا کیا گیا رانا مشہود کے مطابق اس انتخاب کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا ان کی طرف سے یہ کہہ تو دیا گیا لیکن اس سے فائدہ کوئی نہیں ہوگا کہ سینٹ کے الیکشن میں چیئرمین نے جو سات ووٹ مسترد ہوئے، ان کے استرداد کی رولنگ صدر مجلس ظفر علی شاہ نے دی اور یوں یوسف رضا گیلانی ہار گئے تھے بعد ازاں عدالت نے بھی یہی فیصلہ دیا کہ رولنگ درست ہے چیلنج نہیں ہو سکتی یوں آج کے وفاقی اتحاد اور اس وقت کی اپوزیشن ہار گئی، تب بھی ہال میں خفیہ کیمروں کی نشان دہی کی گئی تھی اس کی تحقیقات کا اعلان ہوا لیکن آج تک یہ اعلان ہی ہے۔ اس لئے مجھے تو یہی یقین ہے کہ عدالت سے بھی اس معاملے میں ریلیف نہیں ملے گی۔ اب تو موجودہ اپوزیشن کو اپنی صفیں سیدھی کرنا چاہئیں کہ حکومتی اتحاد کو ٹف ٹائم دیا جا سکے۔ ان حضرات کے لئے لازم ہے کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کو زبانی یاد کریں۔ قانونی موشگافیوں کا دھیان رکھیں ا ور اپنی حاضری بھی یقینی بنائیں، جو ہونا تھا وہ ہوا اب فریقین کے لئے ضروری ہے کہ وہ جمہوری انداز اپنائیں اور ایوان کو چلنے دیں۔ ایوان چلے گا تو عوامی بہبود والے منصوبوں کے حوالے سے مثبت بحث ہو سکے گی اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عطا تارڑ کو وزیر بنایا گیا تھا وہ ایوان کے رکن نہیں تھے اور وزیر اعلیٰ کے پہلے والے انتخاب کے دوران ان کی موجودگی پر اعتراض کیا گیا تھا اگرچہ یہ آئینی گنجائش ہے کہ کوئی بھی غیر رکن وزیر بنایا جا سکتا جس کی مدت چھ ماہ ہوتی ہے اور ان چھ ماہ کے دوران اس کو منتخب ہونا ہوتا ہے لیکن عطا تارڑ کے حوالے سے اس سہولت کو مد نظر نہیں رکھا گیا تھا۔ حالانکہ وفاقی وزیر شوکت ترین اور بابر اعوان اس حیثیت سے نہ صرف  ایوان میں شرکت کرتے رہے بلکہ انہوں نے کارروائی میں بھی حصہ لیا شوکت ترین نے تو ایک بجٹ بھی پیش کیا تھا سینٹران کو بعد میں منتخب کرایا گیا۔

یہ مثال اس لئے دی ہے کہ ایک خبر کے مطابق چودھری پرویز الٰہی اپنی کابینہ کی تشکیل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی مشاورت سے کریں گے اور یہ سوچا جا رہا ہے کہ صوبائی وزارت داخلہ کا قلمدان سابق گورنر سرفراز چیمہ یا سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے سپرد کیا جائے، میں نے اس سلسلے میں چودھری پرویز الٰہی کے ذرائع سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو ادھر سے تردید کر دی گئی تاہم یہ تردید ایسی نہیں کہ اس تجویز کو رد کر دیا گیا ہے بلکہ بتایا گیا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کے لئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب سے فارغ ہو کر سابق وزیر اعظم سے مشاورت کریں گے اور ان کی اجازت اور مشاورت سے کابینہ تشکیل دیں گے چونکہ عمران خان موسمی حالات کی وجہ سے لاہور نہیں آ سکے اس لئے یہ مشاورت نہیں ہو سکی۔ یہ عمل مکمل ہوگا تو پتہ چلے گا کہ کس کو کیا ذمہ داری سونپی جاتی ہے اس لئے قبل از وقت ایسی خبریں درست نہیں ہیں۔ جہاں تک فواد چودھری یا سرفراز چیمہ میں سے کسی کو وزارت داخلہ کی ذمہ داری دینے کا مطلب یہی ہوگا کہ ادلے کا بدلہ ہو سکے کہ ہر دو حضرات مزاج کے تیز ہیں، سرفراز چیمہ نے تو حمزہ شہباز سے حلف نہیں لیا تھا اور ان کو غیر قانونی وزیر اعلیٰ قرار دے دیا تھا جبکہ فواد چودھری ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتے چلے آئے ہیں اور سخت گیر خیالات کے حامل ہیں جو بھی فیصلہ ہو وہ ہر دو فریقوں کی صوابدید ہے تاہم حالات سے مجھے مایوسی ہو رہی ہے میں مسلسل قومی اتفاق رائے کی وکالت کرتا چلا آ رہا ہوں لیکن ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا قدرت کو کیا منظور ہے ہم گناہ گار نہیں جانتے لیکن آثار سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کپتان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ان کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ موجودہ اتحاد کی تین اہم جماعتوں کے اکابرین کو سخت ترین سزائیں دیں کہ ان کا تو اب تکیہ کلام بن گیا ان کو جیل میں ڈالنا چاہئے، یوں یہ محاذ آرائی تو ختم نہیں ہو پا رہی فریقین یہ جانتے ہیں کہ عدم استحکام کی وجہ سے حالات خراب ہیں لیکن ان کی درستگی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ عمران خان تو ان کو بالکل ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اسی صورت حال میں پی ڈی ایم نے اقتدار چھوڑ کر عام انتخابات کے لئے نہ جانے کا فیصلہ کیا اور انتخاب اگلے سال مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور یہ فیصلہ شاید اس وجہ سے ہوا ہے کہ موجودہ صورت حال میں جب سخت معاشی فیصلے کر کے عوامی مقبولیت کو داؤ پر لگایا ہے تو پھر ایک سال کا وقت لے کر حالات کو بہتر کیوں نہ بنایا جائے اور پھر ووٹروں کے پاس جایا جائے پچھلے دنوں بعض خبریں تھیں کہ قائد مسلم لیگ (ن) ناراض ہیں اور انہوں نے اقتدار چھوڑ کر الیکشن میں جانے کے لےء کہا ہے لیکن اس بار بھی مولانا فضل الرحمن اور پیپلزپارٹی آڑے آئی اور وزیر اعظم کے علاوہ نوازشریف کو بھی یہ ماننا پڑا کہ اس وقت حالات موافق نہیں ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ وقت گزار کر بہتر اقدامات کر لئے جائیں تاہم میرا خدشہ یہ ہے کہ محاذ آرائی ختم یا کم نہ ہوئی تو حالات درست نہیں ہوں گے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں