52

جشن آزادی بھرپور اور پرجوش انداز میں منایا گیا



جشن آزادی بھرپور اور پرجوش انداز میں منایا گیا

اک ہنگامے پہ موقوف ہے زندگی کے مصداق ملک کے سیاسی ماحول میں یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، پنجاب جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ اور اپنے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد حزب اقتدار والے اپنے عرصہ کو مضبوط بنانے کی فکر میں ہیں اور سابقہ حکومتی اور موجودہ اپوزیشن اراکین بکھرے بکھرے نظر آتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کی لندن روانگی کے بعد یہاں قیادت کا بھی خلا محسوس کیا جانے لگا ہے۔ حزب اقتدار کو اس وقت گو کوئی بڑا چیلنج درپیش نہیں، لیکن اس کی طرف سے اپنے لئے خود ہی ”مصروفیت“ تلاش کرلی گئی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25مئی کے لانگ مارچ ہی کے دوران کھلی دھمکی دی تھی کہ وہ ان پولیس اہلکاروں اور سرکاری حکام کو معاف نہیں کریں گے جنہوں نے (بقول عمران) ان کے پُرامن لانگ مارچ میں رکاوٹ ڈالی اور مبینہ طور پر تشدد کیا چنانچہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بن جانے کے بعد ان کے اس ”فرمان“ پر عمل لازمی ہو گیا، اپنی جماعت کے ایک اجلاس میں انہوں نے یہ بات دہرائی اور ہدائت کی کہ جن اہل کاروں نے عمل کیا ان کو نانی یاد کرا دی جائے۔ پنجاب کے وزیرداخلہ ابتدا ہی سے اس طرف سرگرم ہو گئے، اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی تھوک کے بھاؤ سے تبادلے شروع ہوئے 25مئی کی ڈیوٹی والے پولیس افسر او ایس ڈی بنائے گئے اور بیشتر کے تبادلے کر دیئے گئے جبکہ نچلی سطح کے پولیس اہل کاروں کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کارروائی شروع ہو گئی۔ اب تک متعدد سب انسپکٹر ایس ایچ او فارغ  ہیں۔ ایک سب انسپکٹر نوکری سے نکال دیا گیا۔ دو ایس ایچ او معطل ہیں۔ صوبائی حکومت کی طرف سے اس کارروائی سے پوری فورس میں بے چینی ہے تاہم کوئی احتجاج نہیں، البتہ اکثر اہل کاروں نے وکلاء سے مشاورت شروع کر دی ہے اور وہ عدالتوں سے رجوع کرنے کی سعی کریں گے۔

صوبائی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے عطاء تارڑ، ملک احمد علی خان اور رانا مشہود کو ٹارگٹ کیا اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے۔ گرفتاری کے لئے چھاپے مارے گئے تاحال کامیابی نہیں ہوئی۔ عطاء تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اور حفاظتی ضمانت کرائی۔ ملک احمد خان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو اپنے عمل پر کوئی شرمندگی نہیں ہے کہ اس نے بروقت آئینی حکومت کو الٹنے کی سازش ناکام بنائی جن اہل کاروں نے اس میں اپنا حصہ ڈالا وہ تعریف کے مستحق ہیں کہ سازش کو ریاستی اختیار کے تحت روکا گیا اس صورت حال سے ماحول مختلف ہو گیا ہے حتیٰ کہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایک خاتون سمیت مسلم لیگ (ن) کے پانچ اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی ہوئی، پریذائیڈنگ افسر نے ان پر 15اجلاسوں میں شرکت کی پابندی عائد کر دی۔ یہ بھی عدالت ہی سے رجوع کرنے والے ہیں جبکہ سیف الملوک کھوکھر نے سپیکر کے انتخاب کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا ہے جس کی گزشتہ روز سماعت بھی ہوئی۔

اس صورت حال میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے سرگرمی دکھانا شروع کر دی اور رکے ہوئے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے علاوہ نئے ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام شروع کر دیا، ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں علاج و ادویات مفت کر دی گئیں، نئے تعلیمی اداروں کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ سیلاب زدگان کی مدد پر توجہ دی گئی اور اب انہوں نے ثانوی تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مذکورہ اعلانات پر کاغذی کارروائی شروع کی گئی تاہم فنڈز کی منظوری اور اجراء میں وقت لگے گا۔ وزیراعلیٰ کا اپنا تعلق مسلم لیگ (ق سے ہے اور وہ اپنی جماعت کے دس ووٹوں کی وجہ سے صوبائی سربراہ بنے ہیں تاہم پنجاب میں اقتدار تحریک انصاف کے پاس ہے اور پوری کابینہ میں مسلم لیگ (ق) کے راجہ بشارت کے سوا اور کوئی وزیر نہیں۔ عمران خان لاہور آئے تو چودھری پرویز الٰہی نے اپنے صاحبزادے کے ساتھ ان سے ملاقات کی اور ان سے ہدایات اور رہنمائی لی۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ق) میں بھی اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا کی صدارت میں چودھری شجاعت اور طارق بشیر چیمہ کی مرکزی صدارت اور جنرل سیکرٹری شپ ختم کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دیا اور اب اس انٹرا پارٹی انتخابات کے فیصلہ کے حوالے سے درخواست کی سماعت بھی شروع کر دی ہے۔

ہفتہ رفتہ قیام پاکستان کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے اہم تھا اور ملک بھر میں تقریبات ہوئیں۔ لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ ایک یوم پہلے ہوا۔ ایک بہتر حکمت عملی کے تحت یہ جلسہ قذافی سٹیڈیم کی حدود میں ہاکی گراؤنڈ میں رکھا گیا۔ اس کے لئے یہاں بچھی آسٹرو ٹرف اکھاڑ دی گئی اب نئی کی تنصیب مشکل ہو گی کہ دور حاضر میں آسٹرو ٹرف پر دس کروڑ روپے سے بھی زیادہ خرچ آئیں گے۔ زبوں حال ہاکی پر ایک اور ضرب لگ گئی ابھی تک کسی طرف سے نئی آسٹروٹرف کی بات ہی نہیں کی گئی۔ فواد چودھری نے جلسے کے اخراجات کا اعلان کیا تھا تاہم آسٹرو ٹرف کا ذکر نہں کیا گیا۔ اس سٹیڈیم میں جلسہ کا فائدہ ہاؤس فل کی صورت ہوا۔

جشن آزادی بھرپور طریقے اور جوش و خروش سے منایا گیا۔ پرچم کشائی کی تقاریب ہوئیں۔ صوبائی تقریب حضوری باغ میں منعقد کی گئی۔ چودھری پرویز الٰہی نے پرچم کشائی کی اور مفکر پاکستان علامہ اقبال کے مزار پر گارڈزکی تبدیلی کی پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی اور فاتحہ خوانی والوں کا تانتا بندھا رہا۔ واہگہ بارڈر پر بھی پرچم اتارنے کی تقریب پورے وقار اور جوش سے منائی گئی۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں