53

 جب بھی ستم کا پیغام آیا میں نے سینہ کھول دیا 



 جب بھی ستم کا پیغام آیا میں نے سینہ کھول دیا 

 جج صاحب سر راہ کھڑے تھے کہ ایک خاتون کو دریدہ پیرہن میں ملبوس دیکھا تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا بیٹی یہ کچھ پیسے لو اور اپنے لئے کپڑے لے لینا خاتون نے پیسے لئے اور دعائیں دیتی رخصت ہوئی،ایک خاتون نے تو جج صاحب کی طرف سیپیسے دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود ہی انکی جیب سے نکال لئے۔ ہوا یوں کہ درویش صفت جج صاحب رکشہ پر سوار تھے  خاتون اور رکشہ ڈرائیور ہم مشورہ تھے خاتون رکشہ والے سے کہہ رہی تھی رکشہ کی رفتار تیز کیجئے پھر اچانک رکشہ روکنے کا کہا اور اتر کر تیز قدم چلتے نکل گئی جج صاحب کو لٹنے کا اس وقت معلوم ہوا جب رکشے کا کرایہ دینے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ہاتھ پیسوں کی دسترس سے دور رہا جج صاحب نے اپنے بیگ سے پیسے نکالے اور کرایہ ادا کیا۔جج صاحب اپنی تصنیف ”عدالتی شب و روز“ میں رقم طراز ہیں کہ 1988ء کی عیدالفطر کے روز پریشان حال ایک شخص نے’نام دانستہ نہیں لکھا‘ اپنی نوزایندہ بچی کی میت موضع مرید (راولپنڈی سے چکوال) چھوڑنے کی درخواست کی۔جس پر جج صاحب (اپنا تعارف کرائے بغیر)مذکورہ شخص اس کی بیوی،والدہ اور مردہ بچی کو خود ڈرائیو کر کے فی سبیل للہ انکی منزل پر پہنچایا۔ اتفاق سے جب جج صاحب نے 18/19 سال بعد اس شخص سے سرگودھا فون پر رابطہ کیا توجواباً اس نے کوئی گرم جوشی نہ دکھائی چنانچہ جج صاحب نے نیکی اور اس شخص دونوں کو دریا میں ڈال دیا۔

یہ جج صاحب اعجاز احمد بٹر (ریٹائرڈ سیشن جج) ہیں،جن سے  دیرینہ رفاقت ہے رفاقتوں کا یہ سلسلہ 22سالوں پر محیط ہے ان کے صاحبزادے حسیب نے ’سکول کے زمانے میں‘ ان سے کوئی پانچ سو روپے مانگے جج صاحب نے دو سو روپے دئیے بیٹا کہنے لگا ابا حضور میں نے پانچ سو مانگے ہیں تو جج صاحب کہنے لگے بیٹا میں جج ہوں کوئی ’ریڈر‘  نہیں۔ جج صاحب جب کرسی عدالت پر تھے تو ایسے ہی سادہ لوح تھے لیکن یہ معاشرہ کسی سادہ لوح کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا ایک دوسرے سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے لیکن جن کی فطرت میں قدرت نے اچھائیوں کا خزانہ رکھ دیا ہو وہ دوسروں کی حوصلہ شکنی پر مایوس نہیں ہوتے۔بقول شکیب جلالی:

جب بھی ستم کا پیغام آیا میں نے سینہ کھول دیا

 کے مصداق وہ فریب کے ہر ستم  کے باوصف انسانی خدمت کا جذبہ سلامت رکھتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ بد خصلت برا پیش آنے سے باز نہیں آتا، لیکن نیک فطرت نیکی کرنے پر آمادہ رہتا ہے،کیونکہ ہر بندہ اپنی فطرت سے مجبور ہوتا ہے۔ آج نیک جذبہ مفقود ہو کر رہ گیا ہے کسی کے کام آنا کسی کے دکھ درد کا مداوا کردینا ہی تو ہمارے دین کی اساس ہے حدیث مبارکہ ہے کہ ’یہ مخلوق خدا کا کنبہ ہے‘ اور خلق خدا کی خدمت اللہ کی بارگاہ میں بڑی مقبولِ ہے کربلا کے میدان میں حق و باطل کا جو معرکہ تھا اس کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما تھا سیدالشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہی فریب دے کر تو کوفہ بلایا گیا کہ یزید کے مظالم حد سے تجاوز کرتے جارہے ہیں دین حق کو خطرات درپیش ہیں سینکڑوں خطوط لکھے گئے جناب امام حسینؓ نے حق کے راستے پر لوگوں کی فلاح اور بقا کیلئے رخت سفر باندھا،کربلا کا بے آب و گیاہ صحرا اور کملائے ہوئے گلشن زہراؓ کے پھول لیکن حوصلے سلامت تھے کہ کربلا کا میدان اور یزیدی ستم بھی اہل بیت پاکؓ کے پختہ  ارادوں کو متزلزل نہ کرسکے اور ارادے کیا تھے؟دین حق کا پرچم بلند کرنا انسان کو انسانیت کی رفعتوں پر فائز کرنا دشمن کی سازشوں کا محبت و اخوت سے سامنا کرنا اور ظلم سہہ کر بھی حرف شکائت لب پر نہ لانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے صحیح استفادہ تو اہل بیت پاک ؓنے کیا نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وجہ تخلیق کائنات ہیں اور اہل بیت پاک ؓ۔ تسکین کائنات ہیں اور کائنات کو تسکین دینے والوں نے اپنے کردار کی بلندی اور اخلاق کی پختگی سے ہماری تربیت کی ہے کہ سچائیوں کی رعنائیوں سے اجالا کرنا ہے، انسانیت کو عزتوں کی رفعتوں پر فائز کرنا ہے کسی کے دکھ درد کو اپنا سمجھنا ہے، لیکن مجموعی طور پر ہماری حالت بڑی مخدوش ہے ہم کسی کے کام آنا تو رہا ایک طرف کسی کو صحیح مشورہ تک نہیں دیتے صاحب ثروت حضرات آٹا بھی تقسیم کرتے ہیں تو فوٹو سیشن کے لئے حالانکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو پتہ نہ چلے ایک حدیث مبارکہ کا ترجمہ ہے:

 ابوہریرہؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:  سات آدمیوں کو اللہ اپنے سائے میں رکھے گا، جس دن کہ سوائے اس کے سائے کے اور کوئی سایہ نہ ہوگا: حاکمِ عادل اور وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہو اور وہ دو اشخاص جو باہم صرف اللہ کے لئے  دوستی کریں جب جمع ہوں تو اسی کے لئے  اور جب جدا ہوں تو اسی کے لئے  اور وہ شخص جس کو کوئی منصب اور جمال والی عورت زنا کے لئے  بلائے اور وہ یہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اس لئے  نہیں آسکتا اور وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو خلوت میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جائیں۔لہٰذا نفسا نفسی کے اس دور میں ہم پر بہت لازم ہے کہ ہم انسانی خدمت کے جذبوں کو عام کریں۔ 

الطاف حسین حالی نے فرمایا تھا:

 یہی  ہے  عبادت  یہی  دین و ایماں 

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں  

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں