55

  بدتمیز بدزبان حریف نمائندوں کی کردار کشی ترک کر دیں 

  بدتمیز، بدزبان حریف نمائندوں کی کردار کشی ترک کر دیں 

پاکستان میں عملی سیاست کی کارکردگی سے تا حال ظاہر ہوا ہے کہ یہ عدم بلوغت اور غیر سنجیدگی کے منفی رجحانات  چمٹے رہنے والے وتیروں سے آزاد نہیں ہو سکی۔ بعض تگڑے اور جارحیت پسند رہنما ٹی وی چینلز پر ایک دن میں کئی بار حریف رہنماؤں کی کسی معمولی غلطی پر کڑی تنقید اور ان کی درگت،ملامت اور کردار کشی کا رویہ اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں مخالف اور مخاطب حضرات و خواتین بھی عوام و خواص میں اپنی عزت و شہرت کا بھرم قائم رکھنے کے لئے بعد الزامات کا جواب دینے کی کوشش ضروری خیال کرتے ہیں اس دفاعی انداز کو بھی وہ بالکل عاجزی اختیار کرنے کو غالباً ترجیح اس لئے نہیں دیتے کہ ٹی وی ناظرین کی لاکھوں یا کروڑوں کی تعداد کہیں ان کی سیاسی کارکردگی کو ڈرپوک یا بزدل قرار دینے کی رائے نہ بنا لے۔ اس لئے جواباً مخاطب حضرات و خواتین، سیاسی رہنما بھی الزام لگانے والے حضرات کے انداز کے تلخ لہجوں والے الزامات کی تردید یا حقائق کی تصحیح کی سعی کرتے ہیں۔ جس پر پہلا فریق کچھ دیر بعد پھر اپنی بات یا الزام دہرانے ٹی وی چینلز پر بحث جاری رکھتا ہے۔

بعض جارحیت پسند رہنماؤں کی جانب سے دھونس، دباؤ اور دھمکیوں کا طریقہ واردات اپنانے کا بڑا مقصد حریف کو کسی طرح مرعوب و مغلوب کر کے اپنی من مانی شرائط ترجیحات اور تجاویز کو غالب و تسلیم کرانے کی حکمت عملی ہوتی ہے جو بیشک آئین، قانون اور انصاف کے مسلمہ اصولوں سے مطابقت نہ بھی رکھتی ہوں۔ مثلاً دھونس اور دھاندلی زدہ انتخابات کو بھی بلا حیل و حجت آزادانہ اور منصفانہ تسلیم کر کے کامیاب افراد کو منتخب نمائندے قرار دینے میں کوئی خاص اور غلط کاری ظاہر نہ کی جائے۔ یا بعض شرائط کو غیر قانونی اور ناموافق حقائق و واقعات پر مبنی ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کرنے کا مطالبہ منوانے کی کوشش کی جائے۔ 

ایسی سیاسی بحث سے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کے مابین بدتمیزی، بدزبانی اور کشیدگی کے حالات ایک دن میں کئی بار وقوع پذیر ہونے اور باہمی تلخ کلامی کا سلسلہ جاری رہنے سے سیاست کا اصل مقصد یعنی عوامی مفادات کے لئے قانون سازی اور لوگوں کے مسائل اور مشکلات پر توجہ دے کر ان کا کوئی جلد کارآمد اور موثر حل تلاش کرنے کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح باہمی لڑائی جھگڑوں اور محاذ آرائی کے امور کو ترجیح دینے والے نمائندے مثبت ذمہ داری کی انجام دہی سے عدم توجہی کر کے اور انتقامی کارروائیوں کے حربے اپنانے کے رویوں کو ترجیح دینے کی منفی روش پر اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے اپنے حلقوں کے ووٹروں کے مسائل حل کرنے اور یوں قومی خدمت کے فریضہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی ذمہ داری سے واضح طور پر روگردانی کر رہے ہیں۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ بعض سیاسی رہنما ایک دن میں کئی بار ایسے اذیت ناک الزامات اپنے حریف نمائندوں پر عائد کرتے ہیں جن کا اصل حقائق سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ان کی تردید یا درست کارکردگی کی وضاحت عوام کی اطلاع کے لئے ذرائع ابلاغ میں منظر عام پر نہ لائی جائے۔ تو بلا شبہ دوسرے فریق کی شہرت پر منفی اثرات کے قومی امکانات ہوتے ہیں۔ لہٰذا بدتمیزی، بدزبانی، کردار کشی اور حریفوں کو بلا جواز بدنام کرنے والے سیاست کاروں کو ایسی غلط نمائندگی سے آئندہ عزم صمیم سے گریز و اجتناب کرنا چاہئے۔ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں