25

  بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں 



  بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں 

 وزیر اعظم شہباز شریف ملک بھر میں سیلابی علاقوں کا دورہ کررہے ہیں جبکہ پاک فوج سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کے ساتھ مل کر لوگوں کو بچانے میں مصروف ہے۔خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں جب معمول سے ہٹ کرپہلے جب پاکستان میں داخل ہوئیں تومحکمہ موسمیات  کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کردیا تھا کی اس مرتبہ مون سون کا موسم ملک میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے جس سے لاہور،کراچی،اسلام آباد سمیت دیگر شہروں کے قریبی اضلاع اور قصبوں میں سیلابی ریلے بھی آسکتے ہیں پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے کہا جارہا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ ستمبر تک جاری رہے گا محکمہ موسمیات کے ماہرین نے حالیہ بارشوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے بارشوں کا پہلا حصہ 15اگست تک جاری رہے گا جبکہ دوسرا حصہ 16اگست سے شروع ہوکر 30ستمبر تک جاری رہے گا۔ماہرین نے15اگست تک جاری رہنے والی بارشوں کو زیادہ شدید اور خطرناک قرار دیا ہے ایک طرف موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے

تو دوسری جانب بھارت نے روائتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریاؤں میں پانی چھوڑنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیلابی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے اس وقت دریائے راوی میں جسٹر کے مقام پر 25ہزار کیوسک پانی کی آمد جاری ہے جبکہ شاہدرہ پل پر پانی کا بہاو 26ہزار 711کیوسک تک ہو گیا ہے جس کے بعد ضلع قصور اور لاہور میں دریا کی قریبی آبادی کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ماہرین نے سندھ کے بیراجوں پر بھی درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کردیا ہے چناب میں اس وقت بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ پل تک پہنچ گیا ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 487ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے،، بلوکی بیراج پر 33ہزار 110کیوسک بہاو ریکارڈ کیا گیا ہے،اٹک پل کے مقام پر ایک لاکھ کیوسک کا ریلا دریائے سندھ کے ساتھ مل گیا ہے دوسری جانب پونے 4لاکھ کیوسک کا ریلا کالا باغ میانوالی بیراج کی طرف بڑھ رہا ہے۔بھارت کی جانب سے سیلابی ریلہ چھوڑنے پر دریائے چناب میں بھی طغیانی آگئی ہے، اس کے علاوہ راجن پور کے قریب دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔خیبرپختونخواہ میں دریائے کابل، سندھ اور پنجکوڑا،سکھر اور گدو بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب آچکا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کے سسٹم میں بھی تبدیلی آتی جارہی ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے۔ بھارت،پاکستان کا پانی روکتے ہوئے نئے ڈیم بنارہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے اہم دریا خشک ہونا شروع ہوگئے ہیں حالیہ بارشوں کی وجہ سے بھارت کومجبورا دریائے راوی میں پانی چھوڑنا پڑانہیں تو پانی کو روک لیا جاتا تھا،اس طرح دیکھا جائے تو بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے کبھی پانی کو روک کر تو کبھی پانی کو اچانک چھوڑ کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔چین نے جب سپر ڈیم بنانے کا علان کیا تب بھارت کو یہ احساس ہوا کہ کسی بھی ملک کا پانی روکنا کس قدر تکلیف دہ عمل ہوتاہے مودی حکومت اور بھارت کے نام نہادسیاست دان اب واویلا مچاتے رہتے ہیں کہ چین کا سپر ڈیم ان کے لئے مسائل پیدا کرنے کے علاوہ بطور ہتھیار استعمال کیا جاسکتا ہے کل تک ڈیم کو اپنا حق سمجھنے والے اب ڈیم کی مخالفت کررہے ہیں۔پاکستان کو چاہئے کہ نئے ڈیم بنا کر اور بارشی پانی کو سٹور کرکے ملکی زرعی ضروریات اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ذرائع پیدا کرنے کے لئے سنجیدگی سے غور کرے اور ایک ایسی قومی پالیسی تشکیل دی جائے جس پرعملدرآمد ہر آنے والی حکومت کی ذمہ داری بن جائے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں