29

  انقلاب کیا ہے اور کب آئے گا؟



  انقلاب کیا ہے اور کب آئے گا؟

آج کل انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ انقلاب مارکسٹ ہوگا۔ ماؤزے تنگ کے لانگ مارچ یا پھر چی گویرا والا آئے گا اگر ان میں سے کوئی بھی نہیں تو پھر انقلاب فرانس آنے والا ہوگا، شاید میں غلطی پر ہوں کہ آج کل تو پُرامن انقلاب کی بات ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ راستہ دے دو، ورنہ ”ملک کا نقصان“ ہوگا، اللہ خیر کرے قیام پاکستان کے بعد ہی سے ملک خطرے میں ہے، سنتے چلے آئے تھے اور آخر کار 1971ء میں سانحہ ہو گیا۔ اس کے حوالے سے کہانیاں ہی کہانیاں ہیں جو اپنے آپ کو الزام سے بری الذمہ قرار دینے کے لئے سنائی جاتی ہیں، کسی میں ہمت نہیں کہ وہ اپنی غلطی ہی تسلیم کر لے، حتیٰ کہ میرے اس ملک میں ”آپ بیتی“ بھی اس لئے لکھی جاتی ہے کہ خود کو معصوم اور دوسروں کو گناہ گار نہیں تو کم از کم غلط اور ظالم ثابت کیا جا سکے۔

جہاں تک انقلاب کا تعلق ہے تو میں نے اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے سننا شروع کر دیا، ان دنوں ایک یہ فیشن بھی تھا کہ ”سیگریٹ“ کے کش لگاؤ، بال لمبے کر لو اور انقلاب کے گیت گاتے رہو پھر وہ دور بھی آیا جب ہم خود انقلابی ہو گئے، لیکن مکمل انقلابی نہ بن سکے کہ ہماری تربیت میں کمی رہ گئی جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی سلسلہ دور قدیم کے مطابق مسجد سے شروع ہوا اور بچپن سے جوانی میں قدم علامہ ابوالحسناتؒ کی شفقت سے رکھا تھا۔

آج دل چاہتا ہے کہ کچھ اس دور کا ذکر کر دیا جائے جب انقلاب کے ٹخنوں میں رسہ باندھ کر اسے کھینچا جا رہا تھا، لیکن وہ باغ بیرون موچی دروازہ ہی سے رسہ تڑوا کر بھاگ گیا اور آج تک سراغ ہی نہیں ملا، ہم انقلاب والی جدوجہد میں تب شامل ہوئے جب 1963ء میں روزنامہ امروز سے وابستگی ہوئی کہ یہ ادارہ ترقی پسند حضرات سے بھرا ہوا تھا اور ہم بھی جلد اس رنگ میں رنگے گئے لیکن ایک فرق ضرور رہا جس کا ذکر بھی آ ہی جائے گا، اس انقلابی جدوجہد میں عملی شرکت جو پی ایف یو جے میں شمولیت سے ہوئی، دیانت داری سے عرض کر دوں کہ غلبہ ترقی پسند حضرات کا تھا اگرچہ مقابلہ ہمیشہ اسلام پسندوں سے ہوتا تھا، یہ بھی ایک بہت بڑی داستان یا کہانی ہے، جس کا تعلق اس موضوع سے نہیں اس پر پھر کبھی بات ہو جائے گی، آج تو بات کرنا ہے انقلاب کی کہ 1966ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے علیحدگی اختیار کی اور 1967ء میں پیپلزپارٹی بنائی، تب سے ایک اور انقلاب کی تحریک شروع ہو گئی تھی، یہ حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ایوب کابینہ میں وزیر بننے اور پھر وزیر خارجہ کی حیثیت سے بہت مقبول ہوئے، خاص طور پر ہم جیسے لوئر مڈل کلاس نوجوان بہت متاثر تھے اور ان کے لباس والا فیشن بھی اختیار کر چکے تھے۔ ایسے ہی 1965ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی اور پھر حکومت سے علیحدگی کے بعد بھٹو ہمارے بھی آئیڈیل بن گئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے وقت ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کا منشور جن حضرات نے لکھا ان کا تعلق نہ صرف ترقی پسند طبقے سے تھا بلکہ اکثریت سوویت انقلاب سے متاثر تھی، چنانچہ 1967ء کے بعد 1970ء تک کا دور ایسا زبردست تھا، جب سرخ اور سبز انقلاب آمنے سامنے تھے، سی آر اسلم (مرحوم) جیسے حضرات کے سوا قریباً سبھی ترقی پسند پارٹی کی حمایت کر رہے تھے، یہ الگ بات ہے کہ مرزا ابراہیم جیسے مزدور رہنما ڈاکٹر مبشر جیسے ”ترقی پسند“ رہنما سے بہت فرق سے ہار گئے تھے۔ یہ وہ دور تھا، جب میں بھی انقلاب کے جنون میں مبتلا تھا اور یہ وباء تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹی تک پھیل چکی تھی، تب نعرے لگتے ”سرخ ہے، سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے“ اور ”سبز ہے، سبز ہے، ایشیا سبز ہے“ یوں دائیں اور بائیں کی کشمکش عروج پر پہنچ گئی تھی اور یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں بھی یہی نعرے تھے، چلتے چلتے تفنن طبع کے لئے عرض کر دوں کہ آج کے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما نوید چودھری نے تب درمیانی راہ نکال کر نعرہ لگایا ”سرخ ہے نہ سبز ہے ایشیاء خاکی ہے“، بہرحال ذکر انقلاب کا مقصود ہے پیپلزپارٹی کے چار بنیادی نعروں میں ایک نعرہ ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ بھی تھا، اگرچہ  اس کا جو حشر ہوا، اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے کہ یہ نعرہ بھٹو کے نزدیک سوشل ڈیمو کریسی، مولانا کوثر نیازی کے نزدیک اسلامی سوشلزم اور محمد حنیف رامے کے لئے اسلامی مساوات بن گیا تھا، جبکہ جب ہم جیسے نوجوان اپنے بابوں سے پوچھتے کہ ہم عوام میں جا کر سوشلزم کی بات کرتے ہیں تو اکثر لوگ سبز انقلاب (دائیں بازو) والوں سے متاثر ہو کر کہتے ہیں کہ سوشلزم آیا تو سب کچھ چھن جائے گا اور ذاتی اثاثہ کچھ نہیں رہے گا تو ہمیں سمجھایا جاتا، یہ غلط ہے، بتاؤ کہ سوشلزم ایک حد مقرر کرکے نجی کاروبار کی بھی اجازت دیتا ہے، مثلاً 5لاکھ مالیت ہو گی (یہ 1969ء۔ 70ء کی بات ہے، جب والی پانچ لاکھ کی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے) یہ تو بہت بعد میں راز کھلا کہ جب ہمیں یہ بتایا جا رہا تھا تو اس وقت محترم بزرگ کی اپنی حیثیت اتنی ہی تھی۔

بات انقلاب کی ہو رہی ہے جو پیپلزپارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد ہی ٹھنڈا ہو گیا اور سوویت روس کے خاتمے کے بعد تو صورتِ حال ہی تبدیل ہو گئی کہ بزرگوں کی اکثریت اسی لابی سے تعلق رکھتی تھی اب ایسا کوئی انقلاب تو نظر نہیں آ رہا، پھر بھی انقلاب انقلاب کی بات ہو رہی ہے۔ میں نے مارکسزم اور ماؤزے تنگ ازم کے ساتھ چی گویرازم کی بات بھی کی تھی اس حوالے سے بھی ایک حقیقت بتا دوں کہ اسی دور میں پنجاب یونیورسٹی میں بھی ایک چی گویرا کی رونمائی ہوئی۔ یہ صاحب راولپنڈی سے تشریف لائے۔ بال لمبے اور حلیہ چی گویرا جیسا تھا، یونیورسٹی کینٹین میں مجمع لگاتے اور انقلاب کا راگ الاپتے تھے یہ صاحب جن کا نام نامی اسم گرامی راجہ انور ہے۔ بعدازاں الذوالفقار کی تشکیل کے حوالے سے جانے پہچانے گئے اور پھر اچانک ہی گم ہو گئے کہ طیارہ اغوا ہو جانے اور کئی اہم حضرات کے ملک سے ”جبراً“ چلے جانے کے بعد یہ بھی گم ہو گئے تھے۔ یہ راجہ انور بعد میں جرمنی سے برآمد ہوئے، مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے، اس کے حق میں مضمون نویسی کرتے رہے اور معاون خصوصی کا عہدہ بھی حاصل کیا، مسلم لیگ (ن) کے زوال کے بعد ہی یہ محترم پھر سے گم ہو گئے اور سنا ہے کہ اب امریکہ میں ہیں اور امیر آدمی ہیں، حلیہ درست اور بال تو مسلم لیگ (ن) کے دور ہی میں عام انسانوں والے ہو گئے تھے۔ عرض کرنے کا مقصد ہے یہاں انقلاب بھی تو دھوکا ہی ہے کہ درویشی اور سلطانی ہر دو عیاری سے مشہور ہیں۔

تفصیل اتنی زیادہ ہے کہ کالم میں گنجائش نہیں، اللہ نے کتاب لکھنے کی ہمت اور توفیق دی تو ایسے کئی ذکر بھی ہو جائیں گے تاہم عرض یہی کرنا ہے کہ نہ تو وہ انقلاب تھا جو ہمیں سکھایا جا رہا تھا اور نہ ہی راجہ انور انقلابی تھے کہ وہ بھی یہ ثابت کر چکے کہ یونیورسٹی کا دور شاید بہروپ تھا، اس لئے اللہ ہمیں انقلاب سے محفوظ رکھے کہ جو صاحب آج یہ بات کررہے ہیں، ان کی طرف سے پونے چار سالہ دور اقتدار میں تو کوئی انقلابی اقدام نہ ہوا، ماسوا ان کے جلسوں کی رونق کے، جن میں میلے کی کیفیت ہوتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں