24

 امورِ سلطنت میں شفافیت



 امورِ سلطنت میں شفافیت

ترقی یافتہ معاشروں میں قانون کی حکمرانی بنیادی اُصول ہوتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے معاملات میں شفافیت کی بڑی اہمیت ہے ہر شہری کا یہ حق تسلیم کرنا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری معاملے کی حقیقت جاننے کا مجاز ہے، شفافیت اور جوابدہی کا یہ تصور دراصل اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اس سلسلے میں خلیفہ ئ دوم حضرت عمر  ؓ کا وہ واقعہ بہت مشہور ہے جس میں ایک عام شہری نے سب کے سامنے حضرت عمرؓ سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ کی یہ چادر کیسے بنی کیونکہ آپ کے حصے میں اتنا کپڑا تو نہیں آیا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ دراصل میرے بیٹے نے اپنے حصے کا کپڑا مجھے دے دیا تھا۔بعد میں یہ تصور یورپ نے اپنا لیا وہاں اِسے Sunshine Lawکہا جاتا ہے،سب سے پہلے 1766 ء میں سویڈن نے اس معاملے سے متعلق قانون کا نفاذ کیا اب یہ قانون 132 ملکوں میں نافذ ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان پہلا ملک ہے جہاں 2013ء میں رائٹ آف انفارمیشن سے متعلق قانون میں آرٹیکل 19-A کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت پبلک انٹرسٹ سے متعلق معاملات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا اس معاملے سے متعلق قانون سازی 2017ء میں ایک ایکٹ کے ذریعے ممکن ہوئی، تاہم اس کا پس ِمنظر کافی طویل ہے۔ اِس سلسلے میں پہلی دفعہ 1997ء میں نگران حکومت کے وزیر قانون شاہد حامد نے قانون بنوایا، شاہد حامد کے دعوے کے مطابق اِس دور میں کی گئی 70 فیصد قانون سازی سے آنے والی حکومت نے اتفاق کر لیا لیکن یہ قانون نظرانداز کر دیا گیا انہی دنوں جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے سینیٹ میں اِس سلسلے  میں بل پیش کیا لیکن یہ منظور نہ ہو سکا، جنرل پرویز مشرف کے دور ّ(2002ء) میں کچھ کام ہوا اور اس معاملے پر بل آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا لیکن پارلیمنٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے قانون نہ بن سکا۔ آخرکار 2010ء میں اٹھارویں ترمیم میں اِسے شامل کر لیا گیا اور یوں یہ باقاعدہ قانون بن گیا۔

اِس قانون کے ذریعے 1918ء میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا کمیشن کے تین رکن ہیں، ایک سول سروس سے گریڈ 22 کا افسر جو اِس وقت کمیشن کے سربراہ ہیں۔ دوسرے رکن فواد ملک ایڈووکیٹ ہیں جو 15 سال سے زیادہ قانونی پریکٹس کا تجربہ رکھتے ہیں اور ہائی کورٹ کے جج کی پوسٹ کے لئے کوالیفائی کرتے ہیں اور تیسرے رکن سول سوسائٹی کے نمائندے زاہد عبداللہ ہیں۔ چیف انفارمیشن کمشنر ہمارے مہربان جناب محمد اعظم صاحب ہیں۔ محمد اعظم کا تعلق انفارمیشن سروس سے ہے وہ اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے سروس کے دوران وہ وزارت کی تمام اہم پوسٹوں پر کام کرتے رہے۔ اِس کے بعد وہ دو سال تک گلگت بلتستان کی عدالت عالیہ کے رجسٹرار رہے اور پھر انفارمیشن کمیشن کے پہلے چیف بنے۔چیف کمشنر کے عہدے کی معیاد چار سال ہوتی ہے۔ کمیشن کادفتر اسلام آباد میں ایف ایٹ مرکز میں ہے باقی صوبوں میں بھی کمیشن کے دفاتر قائم ہو چکے ہیں بلوچستان کے علاوہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں دفاتر جلد قائم ہو ں گے۔

اب تک کمیشن میں پچیس سو سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن میں 1600 درخواست دہندگان کو ضروری معلومات مہیا کی جا چکی ہیں اگر کوئی محکمہ مناسب وقت پر جواب نہ دے تو کمیشن اُس پر جرمانہ کر سکتا ہے، ایک صحافی رانا ابرار خالد کی درخواست پرتوشہ خانہ کیس میں کارروائی کے سلسلے میں سیکرٹری کابینہ کو جرمانہ بھی کیا جا چکا ہے کیونکہ انہوں نے یہ کہہ کر جواب دینے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ سیکرٹ انفارمیشن ہے اس قانون اور توشہ خانہ ریفرنس کے اثرات کے نتیجے میں موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے گلف کے حالیہ دورے کے بعد تقریباً 350 ملین کے تخالف جمع کرا دیئے ہیں اور اب یہ تحائف وزیراعظم ہاؤس میں رکھے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے آزادکشمیر کے الیکشن کے بعد کچھ  ارکان کو وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منگوایا تھا ایک شہری کی درخواست پر اس کا بھی نوٹس لیا گیا جس پر حکومت نے ہائیکورٹ میں اپیل کی لیکن کورٹ نے مسترد کر دی۔ ادارہ ہر منگل بدھ اور جمعرات کو عوامی سماعت کرتا ہے جس میں لوگوں کے مسائل سُنے جاتے ہیں، اعظم صاحب نے بتایا کہ شروع شروع میں عوامی سطح کے علاوہ سرکاری حلقوں  میں ادارے کے متعلق بہت کم معلومات تھیں اس لئے محکموں سے جواب حاصل کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں لیکن اب جواب موصول ہونے کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے انہوں نے بتایا کہ اِس قانون کے تحت حساس معاملات جن کا تعلق دفاع  اور خارجہ امور سے متعلق ہو کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ معلومات کے حصول کے لئے درخواست کا طریق کار بہت آسان ہے، کوئی بھی شہری معلومات کے حصول کے لئے کسی بھی محکمے کو درخواست دے سکتا ہے وہ اس انفارمیشن کے حصول کے لئے وجہ بیان کرنے کا پابند نہیں اگر وہ محکمہ 10 دن کے اندر جواب نہ دے تو شہری پبلک انفارمیشن کمیشن سے رجوع کر سکتا ہے۔ضروری انفارمیشن کے حصول کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر کو سول کورٹ اور سول جج کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں  اگر کوئی افسر متعلقہ معلومات فراہم نہیں کرتایا متعلقہ دستاویزات تلف کر دیتا ہے تو انفارمیشن کمیشن اُس کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں