18

 الیکشن اگلے سال ہوں گے؟ 



 الیکشن اگلے سال ہوں گے؟ 

 عام انتخابات اگلے سال ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں کیونکہ نون لیگ اور اس کے اتحادیوں کے پاس اس وقت ایک جاندار بیانیہ آگیا ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے سپریم کورٹ کی مدد سے پنجاب میں حکومت نہیں بنانے دی جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آیا اور انہیں زبردستی الیکشن میں دھکیلا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی عوام پس پردہ قوتوں سے اس قدر متنفر ہیں کہ جو کوئی جب بھی اس مُدے کو اٹھاتا ہے، کامیاب رہتا ہے۔ جیسے عمران خان نے بدترین گورننس کے باوجود جب امریکہ سمیت میر جعفر اور میر صادق کو تنقید کا نشانہ بنایا تو لوگ ان کے ساتھ جڑ گئے۔ اس سے قبل جب مریم نواز ایسا کر رہی تھیں، لوگ ان کے جلسوں میں جانا شروع ہو گئے تھے اور ان سے بھی قبل نواز شریف نے مجھے کیوں نکالا اور پانج ججوں نے ووٹ کی پرچی کو پاؤں تلے روند دیا کی تکرار کی تو وہ عوامی سروے میں بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر ٹھہرے تھے۔

چنانچہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ نون لیگ سے اس کا انٹی اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ چھن گیا ہے۔ وہ جب چاہے اس کو دہراکر پاپولر ہو سکتی ہے اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے لئے اکتوبر میں انتخابات کی رٹ الٹا اس کے گلے میں پڑ سکتی ہے کیونکہ نون لیگ لوگوں کو یہ پیغام دے گی کہ اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ 2018کی طرح آرٹی ایس بٹھا کر دھاندلی کرے گی اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے جس سے انتخابی دنگل ایک لڑائی میں بدل سکتا ہے اور ملک کے معاشی حالات ہرگز ایسے کسی ایڈونچر کی اجازت نہیں دیتے جب کہ دنیا بھر کی معیشتیں ہوا میں ڈول رہی ہیں اور تیل کی عالمی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اگر اس کے باوجود یہ ایڈونچر کیا گیا تو ملک کے اندر مہنگائی کا طوفان امڈ آئے گا اور نون لیگ اس کا ذمہ دار بھی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرائے گی، اس لئے ہماری اسٹیبلشمنٹ بہرطور ہوش کے ناخن لے کر ہی آگے بڑھے گی۔ عوام کی ایک بڑی اکثریت ابھی بھی اس با ت کی حامی ہے کہ نون لیگ نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیا تھا، اس نے ملک میں موٹر ویز اور سی پیک کی شکل میں انفراسٹرکچر کا جال پچھایا تھا جبکہ پی ٹی آئی نے سوائے تھوک سے پکوڑے تلنے کے کچھ نہیں کیا اور الٹا اپنی ہر نااہلی کو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو چور چور کہہ کر چھپاتی رہی ہے۔ 

اسی طرح اگر آئی ایم ایف کی جانب سے آرمی چیف کی مداخلت کے باوجود 1.7ارب ڈالر کا پیکج اگست کے بعد ریلیز کیا جاتا ہے تو بھی اسٹیبلشمنٹ کے لئے مشکل ہو جائے گی کہ وہ محض پچاس ساٹھ دنوں میں انتخابات کا ڈول ڈال سکے۔ اس لئے ابھی تک مرکزی حکومت کمانڈنگ پوزیشن میں ہے اور چاہے تو معاملات کو طول دے کر اس پوائنٹ پر لے جا سکتی ہے جہاں پر انتخابات اگلے سال پر چلے جائیں، خواہ وہ مارچ 2023میں ہی کیوں نہ منعقد ہوں۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی اور سیاسی جماعت اس وقت فوری انتخابات کے حق میں نہیں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم اگر مرکزی حکومت سے علیحدہ ہو جائے تو اس کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایم کیو ایم علیحدہ بھی ہو جائے تو پی ٹی آئی کون سا اس وقت ایوان میں بیٹھی ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش کرکے مرکزی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ دوسری جانب ایک فرینڈلی اپوزیشن کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ وہ مرکزی حکومت کے لئے کوئی مصیبت کھڑی کرے کیونکہ اس کے اکابرین نے تو نون لیگ کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی ہوئی ہیں۔

بعض حلقوں کے مطابق اداروں کے اندر بھی ایک تقسیم موجود ہے۔ یعنی وہاں پر بھی تمام لوگ سیم پیج پر نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دو جگہوں سے بھی پی ٹی آئی جس کمک کی توقع کر رہی ہے اگر وہ تقسیم شدہ کمک ثابت ہوتی ہے تو اس کے لئے فوری انتخابات کی مہم کو جاندار بنانا ممکن نہ ہوگا۔خاص طور پر وہ مناظر تو سب کو یاد ہوں گے کہ جب فواد چودھری لاہور کے ایک حلقے میں ضمنی انتخابات کے دوران پہنچے تو عوام، بالخصوص تحریک لببیک کے کارکنوں نے جوتے دکھا کر ان کا استقبال کیا تھا اور انہیں گاڑی سے نیچے نہیں اترنے دیا تھا۔  اب اگر پی ٹی آئی کے اراکین اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ مانگنے جاتے ہیں اور ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو فوری انتخابات کی مہم الٹا پی ٹی آئی کے اپنے گلے بھی پڑسکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی حلقوں کا خیال یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی عمران خان کو اس بات پر راضی کرلیں گے کہ اگلے ایک سال میں ترقیاتی فنڈز کے اجراء سے قاف لیگ اور پی ٹی آئی کے لوگ ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر اپنی فیس سیونگ کا اہتمام کرلیں۔ اس لئے اگر چودھری پرویزالٰہی اس میں کامیاب رہتے ہیں تو اس سے بھی فوری انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوگا۔ 

جہاں تک نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہی اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ عمران خان سے بھی واجبی سی مشاورت کرلیں کیونکہ اگر آئندہ ہفتے عمران خان کے خلاف فارن فنڈنک کیس کا مخالفانہ فیصلہ آتا ہے تو حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پاس پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کا نادر موقع ہوگا جسے وہ ضائع نہیں کریں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں