15

  اللہ کرے اتر جائے دلوں میں یہ بات!



  اللہ کرے، اتر جائے دلوں میں یہ بات!

ملک میں سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور ہمارے سیاسی اکابرین کی تمام تر توجہ اس طرف ہے اور اسی حوالے سے ہم میڈیا والے بھی مجبور ہیں کہ ہر روز نئے نئے حالات سے عہدہ برآ ہوں۔ فیلڈ میں کام کرنے والے دوستوں کو تو ہر روز درجن دو درجن زعماء کے بیانات اور جواب الجواب بھی سننا،نشر کرنا اور تحریر کرنا پڑتے ہیں، میں بھی مجبور رہا کہ بدلتے حالات کے تناظر میں قارئین کو باخبر رکھوں اگرچہ دل سے پشیمان رہا کہ صرف سیاست ہی حقیقت نہیں۔ حقائق تو منہ کھولے ہماری طرف لپک رہے ہیں۔ کرسی کھینچ سیاست اپنی جگہ، دیوالیہ پن کی باتوں کی حقیقت مزید ہے تاہم جس طرف سے ہم سب نظریں چرا رہے ہیں، وہ قدرتی آفات ہیں جنہوں نے دنیا بھرکو متاثر کیا ہے اور خدشہ ہے کہ ایسی صورت حال برقرار رہی تو قیامت ہی نہ آ جائے کہ قرب قیامت کی نشانیاں تو کھل کر ظاہر ہو رہی ہیں، ہم ہیں کہ ہوش نہیں کرتے اور نہ ہی خائف ہیں۔

ان دنوں ہمارے اپنے الیکٹرانک چینلز یہ خبریں بھی مسلسل دکھا رہے کہ ملک بھر میں بارشوں نے تباہی مچا دی ہے بلوچستان، کراچی، سندھ، جنوبی پنجاب کے اضلاع، شمالی علاقہ جات بہت زیادہ متاثر ہو چکے اور ابھی برسات کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان، کے پی کے اور جنوبی پنجاب میں شہریوں کے جان سے گزر جانے کی خبریں بھی ہیں گھروں کا گرنا اور فصلوں کی تباہی اپنی جگہ جاری ہے۔ دکھ یہ ہے کہ متعلقہ حضرات کی کارگزاری تسلی بخش نہیں اور پاک فوج کو اس حوالے سے بھی اپنی خدمات پیش کرنا پڑی ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سڑکوں اور پلوں کے بہہ جانے،دیہاتوں کے دیہات غرق آب ہو جانے، فصلوں اور جانی اتلاف کی صورت میں جو نقصان ہو چکا وہ ہماری بیٹھی ہوئی معیشت کے لئے اور خطرہ ہے کہ برسات گزر جانے کے بعد جب پھر سے بحالی کا کام شروع ہو گا تو فنڈز کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ یوں قدرتی آفت کی صورت  میں ایک نیا بوجھ بھی آ چکا ہے اور جو بھی برسراقتدار ہو، اسے اس سے بھی نبردآزما ہونا ہوگا۔

میں خود بھی حیران ہوں اور یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ احساس زیاں جاتا رہا والی کیفیت ہے اور اس حوالے سے ہنگامی حالات کا بھی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی سیاسی جماعتیں وقفہ لے رہی ہیں، حالانکہ فریقین میں لڑائی کی جو کیفیت ہے اس محلے والی ہے جہاں صبح ناشتے سے فارغ ہو کر خواتین کھڑکیوں میں آ جاتیں اور پکارتی ہیں، ”آ نی بہناں لڑیئے“ اور پھر لڑائی (زبانی مغلظات والی) شروع ہو جاتی۔ قارئین کرام یہ لڑاکا خواتین بھی دوپہر کے وقت وقفہ لیتی ہیں اور کھڑکیوں کے باہر روٹی پکانے والا جو توا لٹکایا ہوتا ہے اسے الٹا کرکے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا جاتا ہے اور گھر کے کام کاج سے نمٹ کر پھر سے لڑائی کا آغاز ہوتا ہے، لیکن یہاں تو وقفہ بھی نہیں ہار جاؤ تو نئی جدوجہد اور کشمکش شروع کر دو۔ جیت جاؤ تو دوسرے کی زندگی اجیرن بنانا شروع کر دو اور یہ تصور کرو کہ (نعوذ باللہ) صرف تم ہی کاروبار حیات چلا سکتے ہو اس حوالے سے پوری دنیا اس مالک حقیقی کی طرف توجہ نہیں دے رہی جس نے یہ کائنات بنائی اور اپنے آخری نبیؐ کے ذریعے آگاہ بھی کر دیا کہ گمراہ ہو جاؤ گے تو اللہ ناراض ہو گا اور اس ذات باری کی ناراضی ناقابل برداشت ہوتی ہے لیکن ہمارے پیارے رسولؐ نے اللہ سے یہ دعا منظور کرا لی تھی کہ اب قوم عاد وثمود کی طرح عذاب نازل نہ کیا جائے اور نہ ہی قوم نوح علیہ السلام کی طرح قوموں کو غرقاب کیا جائے لیکن یہ ہدایت تو موجود ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

پوری دنیا اس وقت آفاقی آفات میں گرفتار ہے۔ یورپ جیسے سرد ملک گرمی کا مزہ چکھ رہے ہیں اور ٹھنڈے جنگل خاکستر ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے علاوہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی جنگل جل اٹھے اور درخت راکھ ہو گئے ہیں۔ ان ممالک کے پاس جدید آلات اور ذرائع ہیں اس کے باوجود جنگل والی آگ پھیلتی رہتی ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں۔ سمندری طوفان اور سیلابوں نے صرف ہمیں ہی متاثر نہیں کیا جدید ترقی یافتہ ممالک بھی شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انسان کے غور کرنے کے لئے وبائی امراض بھی ہیں۔ قدرت شاید خود براہ راست کچھ نہ کرے تو بھی حضرت انسان اپنی تباہی کے لئے کافی ہے۔ مشرق وسطیٰ سے مسلم ممالک کی تباہی اور مسلسل ہنگامی صورت حال کے علاوہ افغانستان میں کھیلا گیا بارودی کھیل، کشمیر میں مسلسل آنسو گیس اور اب یوکرین پر روسی یلغار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان تمام تر وجوہات کے باعث موسمیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ افسوس ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیات کے لئے بنائی گئی تنظیمیں بھی دیگر وجوہات تو بیان کرتی ہیں لیکن اس بارود کے  کھیل کی آلودگی کو بوجوہ نظر انداز کر دیتی ہیں۔

میں آج ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کرونا اور ڈینگی کے علاوہ ملیریا جیسے امراض سے دوچار ہے اور یہ سب انسانوں کا کیا دھرا ہے۔ اب تو یہ ظاہر ہو چکا کہ ”جراثیمی جنگ“ کے لئے کئے جانے والے تجربوں ہی کی وجہ سے ایسے وبائی امراض بھی وجود میں آئے لیکن عوام کو دھوکا دینے کے لئے سائنسی توضیح گھڑ کر بتائی جا رہی ہیں۔ کورونا کے حوالے سے یہ بحث اب بھی ہے کہ چین کی لیبارٹری سے آیا یا امریکیوں کی مہربانی سے، ہر دو انکاری ہیں اور ملبہ ایک دوسرے کی طرف منتقل کرتے ہیں تاہم یہ جراثیمی وبا موجود ہے اور دنیا بھر کومتاثر کیا ہوا ہے۔

میں یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ دنیا آج جن مصائب اور آفات میں گھری ہوئی ہے ان کے بارے میں تو ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا حتیٰ کہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ریت کے میدانوں میں آسمانوں کو چھوتی ہوئی عمارتیں تعمیر ہوں گی میرا سوال دوسری اقوام عالم سے نہیں کہ وہ سائنسی فکر میں مبتلا ہیں لیکن ہم تو مسلمان اور اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفےٰﷺ کے ماننے والے ہیں ہمیں تو ان کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ حضورؐ نے فرمایا تھا کہ قیامت قریب ہو گی تو جھوٹ، فریب اور دھوکے کی فراوانی ہو گی۔ بھائی بھائی کو اور بیٹا باپ کو مار دے گا۔ حتیٰ کہ ایسے ایسے جرائم ہوں گے جن کو سننا بھی باعث ندامت ہو گا ایسے طوفانوں اور وباؤں کے بارے میں بھی بتا دیا گیا ہوا ہے لیکن ہم مسلمان ہیں کہ تعلیمات نبویؐ پر توجہ نہیں دیتے حالانکہ سب کھول کر بیان کیا گیا اور انسانیت کی بقاء کے لئے ہی فرامین بھی موجود ہیں۔ زیادہ بات کی جائے تو دور جائے گی بہرحال میں علماء حق سے گزارش کروں گا کہ اللہ کے واسطے خود پر اور دنیا پر رحم کریں کم از کم مسلمان جو کلمہ گو ہیں وہ تو اپنے آباء (اصلی ریاست مدینہ والے) کے بیانات اور رسول اکرمؐ کی سنت کی پیروی کریں۔ میری طرف سے یہ دعوت ہے کہ ختم المرسلینؐ نے قیامت کے بارے میں جو جو کہا اس پر غور کریں اور توبہ کریں۔ آفات جونازل ہیں ان سے بچنے کے لئے راست پر آنا ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں