29

 اشرافیہ کو ٹول ٹیکس بھی معاف



 اشرافیہ کو ٹول ٹیکس بھی معاف

 ملک سیلاب کی وجہ سے کس برے حال میں ہے، ہماری ایلیٹ کلاس،المعروف اشرافیہ کی ترجیحات کیا ہیں؟میرے سامنے این ایچ اے کا 16ستمبر2022ء کو جاری ہونے والا ایک نوٹیفکیشن پڑا ہے یہ نوٹس چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار اِس ملک کو کچھ نہیں دینا چاہتے،اُن کی بس صرف ایک ہی خواہش ہے کہ اس کے خزانے کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا جائے، اس نوٹیفکیشن کے ذریعے این ایچ اے نے اپنے چیف آپریٹنگ افسر کو حکم دیا ہے کہ آئندہ ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ موٹرویز سے گزریں تو اُن سے ٹول ٹیکس نہ لیا جائے۔یاد رہے کہ ابھی چند ہفتے پہلے ہی این ایچ اے نے موٹرویز پر سفر کرنے والوں سے لیے جانے والے ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا،یعنی ایک طرف عوام پر بوجھ در بوجھ اور دوسری طرف ارب پتی اشرافیہ پر نوازشات، حیرت ہوتی ہے کہ عوامی نمائندے کہلانے کے دعویدار یہ سب کچھ کیسے ہضم کر لیتے ہیں،اُن کا ضمیر جاگتا کیوں نہیں جن کے ووٹوں سے وہ اسمبلی میں پہنچتے ہیں اُن پر ظلم ہوتا رہے وہ دیکھتے رہتے ہیں اور اپنے لیے مراعات مانگتے ہیں،یہ پہلی حکومت ہے جس کے وزراء اور معاونین خصوصی کی تعداد72 ہو چکی ہے۔قومی  خزانے پر اتنا بوجھ ڈال کے بھی حکومت کی تشفی نہیں ہوئی اور موٹرویز کا ٹول ٹیکس جسے عام آدمی محدود آمدنی کے باوجود برداشت کرتا ہے،ارکان اسمبلی پر یہ بھی ایک بوجھ سمجھ کر ہٹا دیا گیا ہے۔

پاکستان میں جتنی نوازشات ہوتی ہیں،وہ عوام پر نہیں خواص پر ہوتی ہیں جن کی تنخواہیں لاکھوں میں ہیں،جنہیں سرکاری گھر اور گاڑیاں ملی ہوئی ہیں،اُن کی بجلی بھی مفت ہے اور پٹرول بھی، جو غریب آدمی ہے یا تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتا ہے وہ پٹرول بھی اپنے پلے سے ڈلواتا ہے اور بجلی کے بھاری بل بھی ادا کرتا ہے۔ ایسی گنگا تو دنیا کے کسی ملک میں نہیں بہتی جیسی ہمارے ہاں بہہ رہی ہے۔قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے تو ایسی کوئی روایت نہیں ڈالی تھی، وہ سرکار  سے کچھ نہیں لیتے تھے۔ آج کا منظر نامہ کچھ ایسا ہے کہ سرکاری فنڈز سے اشرافیہ کے کچن بھی چل رہے ہیں،کوئی عدالت کوئی محتسب تو ایسا بھی ہو جو اس امتیازی سلوک پر کارروائی کرے۔سوال یہ ہے کہ این ایچ اے کسی کا ٹول ٹیکس کیسے معاف کر سکتی ہے،آئین میں تو سب کے حقوق برابر ہیں چاہے کوئی شاہ ہے یا گدا، پھر عوام پر ٹول ٹیکس کا بوجھ بڑھا کر نیشنل ہائی وے اتھارٹی خواص پر نوازشات کیسے کر رہی ہے، کیا یہ عوام کی توہین نہیں کہ انہیں غلام سمجھ لیا گیا ہے؟ ارکان اسمبلی او رسینیٹ کو بھی اپنی غیرت جگانی چاہیے، کوئی تو ان میں مردِ حُر ہو جو یہ کہے میں یہ رعایت نہیں لیتا،رعایت دینی ہے تو سب کو دو، وگرنہ یہ کالک ہمارے منہ پر نہ ملو،مگر کہاں صاحب، اس رعایت سے ارکان اسمبلی کو دس بار سفرکریں تو دس پندرہ ہزار کی بچت ہو جائے گی گویا ایک پھیرے میں ایک پندرہ سو بچا لیں گے، کیا اتنی سی رقم کے لیے وہ خود کو ان لوگوں میں شمار کرنا گوارا کریں گے جو عوام کے دوست نہیں دشمن قرار پاتے ہیں مگر نہیں صاحب کسی کی غیرت نہیں جاگے گی سب اِس بات پر سینہ پھلائے کہیں گے دیکھا ہم اس ملک کے وی آئی پی ہیں، ہم پر عوامی قانون نافذ ہوتا ہے اور نہ ہم سے کسی کو پیسے مانگنے کی جرأت ہوتی ہے ہم دندناتے ہوئے موٹرویز کے ٹول پلازوں سے نکل جاتے ہیں،عوام کا مسئلہ ہے یہ کہ وہ قطاروں میں لگ کر  ذلیل بھی ہوتے اور پیسے بھی دیتے ہیں۔

خیر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں،ہماری سیاسی اشرافیہ کا کبھی اس ملک کے عوام سے دُکھ درد کا تعلق رہا ہی نہیں، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں،اِس وقت ملک میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے،لاکھوں نہیں کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں، لوگ اور این جی اوز اپنی اپنی سطح پر ان کی مدد کر رہے ہیں، حکومتی ادارے بھی کوشاں ہیں اور جس سے جو بن پڑ رہا ہے، کر رہا ہے مگر آپ کو ارکان اسمبلی کہیں نظر نہیں آئیں گے وزراء بھی ہلکے پھلکے دوروں کے بعد اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں،اصل سوال یہ ہے جو سبھی پوچھتے ہیں کہ ارکان اسمبلی ہوں یا وزراء،انہوں نے اپنی جیب سے سیلاب زدگان کی کیا امداد کی ہے عوام سے امداد مانگی جا رہی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور بجلی بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔یہ ارکان اسمبلی جن میں سے شاید ہی کوئی کروڑ پتی نہ ہو، کیا سیلاب زدگان کی مدد کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچے،کیا امدادی ٹرک لے کر وہاں گئے،کیا انہوں نے وزیراعظم کے سیلاب فنڈ میں کوئی عطیہ جمع کرایا، نہیں صاحب نہیں یہ ایسا کام نہیں کرتے، یہ تو لینے والے ہیں دینے والے نہیں،انہیں تو اس بات سے غرض ہے کہ مفت کی چیز کہاں سے مل سکتی ہے؟ انہیں موٹرویز پر چلتے ہوئے ٹول ٹیکس بھی ایک بوجھ لگتا ہے،اُسے بھی ختم کرا لیتے ہیں انہیں ہر سال کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں،جو یہ اپنی من پسند سکیموں اور من پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے خرچ کرتے ہیں،جتنے فنڈز قیام پاکستان سے لے کر اب تک ارکان اسمبلی کو ملے ہیں اگر ان کا پچاس فیصد بھی دیانت داری سے منصوبوں پر خرچ ہوتا تو آج ملک کی حالت یہ نہ ہوتی،آپ سندھ کو دیکھ لیں،سندھ چھوڑیں، کراچی کو دیکھیں جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے،اربوں روپے کے فنڈز اس کے نام پر جاری ہوتے ہیں لیکن نجانے کہاں چلے گئے،شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں،سیوریج کا نظام تباہ ہو چکا ہے،صفائی کا ناقص نظام ہے جس سے شہر متعفن رہتا ہے۔دنیا کے گندے ترین شہروں میں اس کا شمار ہوتا ہے یہ تو ایک بڑی مثال ہے وگرنہ پورے ملک کا یہی حال ہے، جہاں ارکان اسمبلی کے لالچ کا علم یہ ہو کہ موٹرویز کا ٹول ٹیکس بھی ادا کرنے کو اپنی جیب پر بوجھ سمجھتے ہوں،وہاں کروڑوں روپے کے فنڈز ڈکارنے سے انہیں کون روک سکتا ہے۔

تو صاحبو! مان جائیں کہ اس ملک میں اشرافیہ کا جہان اور ہے عوام کا جہاں اور،دونوں میں کوئی مطابقت، کوئی مماثلت نہیں، عوام بوجھ اٹھاتے ہیں اور اشرافیہ بوجھ ڈالتی ہے ہر قسم کی مراعات لینے کے لیے پاگلوں کی طرح قومی خزانے پر ٹوٹ پڑنے والی اشرافیہ کبھی عوام کے لیے آواز نہیں اٹھاتی، کیونکہ اُس پر مہنگائی کا براہ راست اثر ہوتا ہی نہیں،اُس کے لیے تو ہر چیز مفت فراہمی کی قطار میں لگی ہوتی ہے اگر کہیں ایسا نہ ہو تو یہ لوگ دباؤ ڈال کر اُسے مفت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،اس کی تازہ ترین مثال موٹرویز پر ٹول ٹیکس کا اِن بے چارے ”غریبوں“ کے لیے خاتمہ ہے اس اشرافیہ کی قسمت بھی بڑی اچھی ہے کہ اسے لائی لگ عوام ملے ہیں جو سب دیکھنے کے باوجود انہی لوگوں کو منتخب کرتے ہیں،انہی کے نعرے لگاتے ہیں جس دن عوام نے اپنی روش بدل لی،احتساب کا ڈنڈا اٹھا لیا،اُس دن اصل تبدیلی آئے گی مگر یہ دن نجانے کب آئے گا،کب عوام غفلت کی نیند سے بیدار ہوں گے؟

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں