27

اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ممبران کی فریاد



اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ممبران کی فریاد

میں نے گزشتہ22سال میں لاہور سمیت ملک بھر میں سینکڑوں ہاؤسنگ سکیمیں بنتے اور ڈوبتے دیکھی ہیں، سوسائٹی مالکان کے اخلاص، بدنیتی اور آئندہ کے منصوبوں سے بھی آگاہ ہونے کا موقع ملا ہے آج میں ایک ایسی سوسائٹی کا ذکر کروں گا جس کے ممبران کی تعداد16ہزار سے زائد ہے۔روزنامہ ”پاکستان“ کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر، بلڈر اور ڈویلپرز سے خاص تعلق ہے، تعلق بننے کی بنیادی وجہ ”ویلیو ٹی وی“ اور روزنامہ ”پاکستان“ کی طرف سے اچھے بلڈرز اور ڈویلپرز کے ساتھ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی حوصلہ افزائی اور ان کے دُکھ درد میں شریک ہونا اور ان کی کارکردگی منظر عام پر لانا ہے۔

تقریباً22سال پہلے اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے آغاز کے موقع پر راقم کو اس کی بکنگ کے موقع پر فارموں کی خرید و فروخت دیکھنے کا موقع ملا ہے آج جب میں 16ہزار ممبران کی کسمپرسی کی داستان عبرت حکام بالا اور عوام الناس کے سامنے روزنامہ ”پاکستان“ کو موصول ہونے والے خطوط کی روشنی میں تحریر کرنے لگا ہوں تو میرے ذہن اور دماغ میں اسلام آباد سوسائٹی کی بکنگ کی ملک بھر میں بالعموم اور لاہور میں بالخصوص لاہور میں چلنے والی فلم کے چند سین پیش کروں گا۔2002ء کے بعد پاکستان میں جو عروج پراپرٹی کے شعبے کو ملا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔جنرل مشرف کا دور جو جتنی مرضی مخالفت کرے پاکستانی عوام کا رہن سہن اور لیونگ سٹینڈرڈ اسی دور میں اَپ گریڈ ہوا۔ مجھے یاد ہے ایک کنال پلاٹ کی بکنگ80ہزار روپے کے پے آرڈر کے ساتھ شروع کی گئی اور پلاٹ کی زمین کی قیمت4لاکھ رکھی گئی جو اقساط میں وصول کرنی تھی،80ہزار والا فارم میں نے دو دو لاکھ میں فروخت ہوتے دیکھا ہے۔ وائی بلاک ڈی ایچ اے لاہور اُس وقت پراپرٹی کے کاروبار کا مرکز تھا اس کی بنیادی وجہ ڈی ایچ اے کا دفتر بھی وائی بلاک میں تھا اور گول مارکیٹ ملک بھر میں پراپرٹی کے کاروبار کا مرکز سمجھی جاتی تھی اور اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی لاہور میں بکنگ کے کئی مراکز میں پاک ڈیل میں بلیووارڈ کا نمایاں  مقام تھا۔حاجی پرویز اور ان کے بعد شعیب ہاشمی کرتا دھرتا تھے،18،20سال کے نوجوانوں کو میں نے اسلام آباد ہاؤسنگ سوسائٹی کے بکنگ کے فارم بلیک میں دو دو تین تین لاکھ میں فروخت کرتے اور نوٹوں کی بوریوں کے ساتھ بنکوں کی طرف جاتے اور لاکھوں روپے روزانہ کی دیہاڑی لگاتے دیکھا ہے۔ لاہور میں اور بھی بہت زیادہ لوگ تھے جنہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ شروع میں پانچ سے آٹھ کنال کی خوبصورت سوسائٹی کا خواب اسلام آباد ایئر پورٹ کے قریب ہونے اور مستقبل کا سونا بنا کر پیش کرنے سے ہوا۔ یاد رہے اس کی بکنگ کے لئے لاہور کے ڈیلرز نے اشتہار بازی بھی بڑی کی، ہمارے اخبار نے بھی خوب بزنس حاصل کیا، 5 سے8کنال سے شروع ہونے والی سوسائٹی کی کہانی خطوط کے ذریعے موصول ہوئی ہے اب سوسائٹی کے ممبران500 یا800نہیں،بلکہ16ہزار سے بھی زیادہ بن چکے ہیں، 80ہزار بکنگ والے بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔

معلوم ہوا ہے ایکسٹینشن کے نام پر اور فیز2کے نام پر ہزاروں کنال فروخت کی جا چکی ہے اور ہزاروں ممبران کو تاریخی سوسائٹی کا خواب دکھا کر اربوں روپے ہڑپ کیے جا چکے ہیں۔دلچسپ بات اور لمحہ فکریہ ایک ساتھ جو میرے سامنے آیا ہے۔سوسائٹی کی بکنگ کرنے والے اور سنہرے خواب دکھانے والے صدر، سیکرٹری اور ان کی ٹیم راجہ رفیق، مہدی خان اور دیگر اب تک موجود ہیں۔ایک سینئر ممبر نے سنجیدہ انداز میں 20سال پہلے کے دکھائے گئے خواب اور سوسائٹی کی موجودہ حالت ِ زار کی تصویر کشی کی ہے۔ڈاؤن پیمنٹ پھر اقساط اور قیمتوں میں اضافہ کے نام پر رقم اکٹھی کرنے کا ڈرامہ تاحال جاری ہے اس کے کردار 20سال پہلے والے ہیں،ان کے ایجنٹ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔اس وقت تک سوسائٹی میں 20فیصد ایریا پر بھی ڈویلپمنٹ نہیں ہوئی ہے افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے،درجنوں ممبران کا کہنا ہے ہم رجسٹرار کوآپریٹو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو سوسائٹی میں ہونے والی لوٹ مار اور ممبران سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کر چکے ہیں، پہلے دن سے قابض مافیا اتنا طاقتور ہے کسی ممبر کی شنوائی نہیں ہو پا رہی۔ ایک ممبر کا کہنا ہے گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی مافیا نے کوآپریٹو محکمہ سے ساز باز کر کے مرضی کا الیکشن کمیشن بنایا اور کاغذات کی وصولی، سکورٹنی اور کاغذات مسترد اور وصول کرنے کا ڈرامہ رچایا اور مخالفین اور حق کی آواز اٹھانے والوں کے کاغذات مسترد کر دیئے اور بلامقابلہ منتخب ہونے کی کوشش کی،اللہ بھلا کرے اسلام آباد ہائی کورٹ کا جس نے ممبران کی داد رسی کی اور الیکشن کا انعقاد معطل کرتے ہوئے نئے سرے سے الیکشن کمیشن، ووٹر لسٹ اور الیکشن کے انعقاد کا حکم دیا۔انتظامیہ ڈھٹائی سے باز نہیں آئی، 22جولائی کو پرانی لسٹوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھر الیکشن روک دیا اور 28 جولائی کو دوبارہ طلب کر لیا اور اب28 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے12اگست کو الیکشن کمیشن سے پیرا وائز رپورٹ طلب کر لی ہے اور دوسرے فریق سے نئی لسٹ پر اعتراض داخل کرنے کا  کہا ہے۔عدالت کے ممبران کو بڑا ریلیف دیا ہے عملاً کیا ہوتا ہے۔ مافیا نیا الیکشن کمیشن بناتا ہے نئی ووٹر لسٹ تشکیل دیتا ہے سب کی نظریں 12اگست کی تاریخ پر ہے۔

پہلی دفعہ ممبران کو خوشی ملی ہے کم از کم انصاف تو زندہ ہے ممبران کی بڑی تعداد اب بھی2002ء سے قابض مافیا کے اثر رسوخ سے خوفزدہ ہیں ان کا کہنا ہے کچھ نہیں ہو گا۔میں روزنامہ ”پاکستان“ کو دو درجن وصول ہونے والے ممبران کی داد رسی کے لئے ان کی کہانی اپنے قلم کے ذریعے حکومت وقت تک پہنچا دی ہے۔امید ہے ممبران بھی بیدار ہوں گے اور عدلیہ بھی انصاف کرے گی۔محکمہ کوآپریٹو کو بھی داغدار بنانے والوں کی نشاندہی بھی ہو گی اور محکمہ کی ساکھ بچانے کے لئے کوآپریٹو کے ذمہ داران اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے صدر، سیکرٹری سے ساز باز کر کے الیکشن کو مشکوک بنانے اور ممبران کو ان کے حق سے محروم رکھنے والوں کی بھی تحقیقات کرے گا اور مافیا سے سوسائٹی کا قبضہ چھڑوا کر حقیقی ممبران جو خدمات کرنا چاہتے ہیں ان کو آگے آنے کا موقع دیں گے حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا،میں نے ذمہ داری پوری کر دی آپ اپنا کام جاری رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں