12

 استعفے منظور نئی حکمت عملی فواد چودھری نے بحران قرار دے دیا



 استعفے منظور، نئی حکمت عملی فواد چودھری نے بحران قرار دے دیا

قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے طویل انتظار کے بعد تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا سلسلہ شروع کر دیا اور پہلی قسط کے طور پر گیارہ اراکین کے استعفے منظوری کے ساتھ الیکشن کمیشن کو نشستیں خالی کرنے کے لئے بھجوا دیئے ہیں جن حضرات کے اسعفے منظور کر لئے گئے ان میں شیریں مزاری، علی محمد خان، فرخ حبیب، سید اعجاز شاہ کے علاوہ اکرم چیمہ بھی شامل ہیں یوں اب ایک اور نئے ضمنی انتخابات کا امکان ہے۔ گیارہ کی فہرست بھی جاری کر دی گئی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سپیکر نے جس ترتیب سے استعفوں کا اعلان کرنے والے اراکین کو گروپوں کی شکل میں  تصدیق کے لئے دعوت دی اور وہ نہیں آئے تھے تاہم ان کی جماعت اور جماعتی اکابرین کی طرف سے استعفوں کی تصدیق کے ساتھ منظور کرنے کے بیانات بھی دیئے  گئے تھے۔یہ واقع اپنی جگہ ہے کہ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے سپیکر اسد قیصرکی عدم موجودگی میں اجتماعی استعفے منظور کرنے کا اعلان کر دیا اور خود اٹھ کر بھی چلے گئے تھے بعد کے واقعات تاریخ ہیں جن کا تسلسل سب کو یاد ہے۔تاہم جب اتحادی حکومت آئی اور راجہ پرویز اشرف سپیکر بن گئے تو انہوں نے قاعدے کے مطابق اراکین کو گروپوں کی صورت میں قومی اسمبلی آکر ان کی تصدیق کرنے کے لئے کہا لیکن مقررہ تاریخوں پر کوئی نہ آیاا ور یوں یہ سلسلہ اختتام کو پہنچا کراستعفوں ں کی منظوری اس توقع میں نہ دی گئی کہ یہ حضرات پہلے کی طرح واپس آکر پارلیمینٹ کی کارروائی میں حصہ لیں تاہم پنجاب حکومت کی تبدیلی سے حالات میں نمایاں تبدیل ہو گئی اور فواد چودھری نے وفاقی حکومت گرانے کی دھمکی دے دی۔ دوسری طرف پی ڈی ایم نے اپنے حالیہ اجلاس میں مقابلے کا فیصلہ کر لیا چنانچہ قومی سطح پر حکومت بچانا ضروری ہو گیا۔

استعفوں کی منظوری کے فیصلے کے پیچھے یہ حکمت بھی ہے کہ تحریک اتحاد کے جن اتحادیوں نے عمران کا ساتھ چھوڑ کر عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لیا وہ اپنے تحفظات کے باعث اتحادی حکومت کا بھی ساتھ نہ چھوڑ دیں۔ چنانچہ فوری طور پر عددی حالات بہتر بنانا ضروری ہو گئے، اب گیارہ ہوئے اس کے بعد دوسرے گروپ کی باری آئے گی اور یہ سلسلہ اب جاری رہے گا۔ وقفہ کی وجہ ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا الگ الگ ہونا ہے کہ یکایک پونے دو سو کے قریب نشستوں پر انتخابات نہ ہوں بلکہ گروپوں کی خالی نشستوں کی تاریخوں کے حوالے سے ضمنی میں بھی وقفہ آ جائے یہ بھی حکمت عملی ہے جس کے تحت یہ ذہن میں ہے کہ تحریک انصاف کی ان نشستوں پر ضمنی انتخابات پی ٹی آئی کو مشکل میں ڈال دیں گے نہ کھاتے بنے اور نہ اگلا جائے والی کیفیت ہو گی کہ استعفوں کے بعد ضمنی انتخاب میں جماعتی حیثیت سے حصہ لینا بھی یوٹرن شمار ہوگا عمران خان نے استعفوں پر اصرار اس لئے کیا تھا کہ بیک وقت اتنے استعفےٰ دیئے گئے تو ان کی منظوری کے بعد ضمنی انتخاب بھی عام انتخابات جیسا ہوگا لیکن یہ ان کی خواہش اور حکمت عملی ہو سکتی ہے دوسرے فریق نے اپنے طور پر حکمت عملی بنا لی ہے اور بیک وقت ضمنی انتخابات سے گریز کا راستہ اختیار کیا ہے۔

تحریک انصاف کے مرکزی راہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس فیصلے پر تنقید کی اور کہا ہے کہ اتحادی حکومت بحران کو اور بڑھا رہی ہے۔ فواد چودھری کے اس بیان سے یہی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ 2014ء کی طرح اپنی مرضی اور پسند سے کسی بھی وقت اچانک واپس آ جائیں گے۔ 2014ء اور موجودہ صورت حال میں یہ فرق ہے کہ اس وقت وزیر اعظم محمد نوازشریف دھرنے کے باعث دباؤ میں تھے اور انہوں نے باہمی مشاورت سے یہ طے کیا کہ استعفےٰ منظور نہ کئے جائیں اس وقت ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر تھے۔ یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ دھرنے کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف والے نہ صرف واپس آئے بلکہ انہوں نے غیر حاضری کے دنوں والے تمام واجبات بھی وصول کر لئے تھے۔ اس بار یہ فرق تھا کہ موجودہ سپیکر نے استعفےٰ والی شیٹ پر دستخط کرنے والوں کو ادائیگی روک دی تھی اور یوں اس عرصہ کے کوئی واجبات ان کو نہیں مل سکتے اور اب احساس ہوتا ہے کہ یہ سب رکنیت سے فارغ ہو جائیں گے البتہ یہ موقع موجود ہے کہ کچھ لوگ واپس آئیں اور سپیکر سے درخواست کریں کہ دستخط مرضی سے نہیں کئے تھے لیکن حالات حاضرہ میں یہ بھی ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ کوئی بھی رکن کپتان کی ناراضی مول لینے پر تیار نہ ہو گا کہ پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ ان کو خوفزدہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ تاہم فواد چودھری کے بیان سے مترشخ ہوتا ہے کہ وہ چت اور پٹ اپنے ہی پاس رکھنا چاہتے ہیں کہ دباؤ سے بات نہ بنے تو قومی اسمبلی کا رخ کر لیا  جائے کہ انہوں نے چٹکی بجا کر کہا تھا کہ وفاقی حکومت ختم کرنا پانچ منٹ کا کام ہے۔

فواد چودھری کی گفتگو یا مبینہ خواہش کے برعکس اب پی ڈی ایم نے بھی مقابلے کا اعلان کر دیا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے تو یہ تجویز بھی دے دی ہے کہ اسلام آباد سے لاہور تک مارچ کیا جائے یہ پی ڈی ایم کے اس فیصلے کی روشنی میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اب ان حضرات نے کھل کر فنڈنگ کے حوالے سے الزام لگایا کہ ممنوعہ ذرائع سے فنڈ اکٹھے ہی نہیں ہوئے خورد برد اور غلط استعمال بھی ہوئے مولانا نے اسرائیل اور بھارت کا نام لیا اور بعض ایسی کمپنیوں کا بھی ذکر کیا جو صیہونیوں کی ہیں اب قوم منتظر ہے کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کے حوالے سے اپنا محفوظ فیصلہ کب سناتا اور کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے پی ڈی ایم اور درخواست دہندہ ایس۔ بابر کا موقف ہے کہ فیصلہ فوری طور پر سنایا جائے۔ سابق وزیر مملکت فرخ حبیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیا موقف پیش کر دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیس سننے کا اختیار ہی نہیں ہے۔

یہ معاملہ 8 سال سے لٹکا چلا آ رہا ہے اور تحریک انصاف مختلف موقف اپنا کر عدالتوں سے رجوع کر کے فیصلہ ملتوی کراتی رہی ہے۔ تاہم اب معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید کا بھی ہے کہ وہ کب محفوظ فیصلہ سناتا ہے۔ اگرچہ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت نے فیصلہ سنانے سے روک رکھا ہے فیصلہ سنانے والوں کے علم میں یہ امر ہے یا نہیں اور یا پھر یہ بات غلط ہے کہ کوئی حکم امتناعی موجود ہے۔

بہرحال نوبت اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب کچھ ہوا تب کچھ ہوا خان صاحب نے ایک بار پھر یہ اعلان کر کے کہ وہ قوم پرستوں اور تحریک طالبات والوں سے بات کر سکتے ہیں۔ پی ڈی ایم والوں سے کبھی نہیں یوں یہ دروازے بند کے بند ہیں اور ہم جیسے مایوس ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں