38

 اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی قیادت بالغ نظری سے کام لے



 اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی قیادت بالغ نظری سے کام لے

 یوں تو پاکستان کئی برسوں سے نازک اور خراب صورتحال سے گزر رہا ہے لیکن اس سال مارچ سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام نے رہی سہی کسر نکال دی ہے اتنے برے حالات کے باوجود بھی ہماری سیاسی قیادت اپنے اپنے مفادات کے دفاع میں کھیل پر کھیل کھیلے جا رہی ہے۔ بظاہر ہر کوئی ملک اور عوام کے مفاد میں فیصلوں کا راگ الاپتا ہے۔ مگر حقیقت میں تمام سیاستدانوں اور اداروں کی پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آ رہی ہے اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو پھر ملک معاشی طور پر سنبھل سکے گا نہ سیاسی استحکام ممکن ہو سکے گا اور اس ساری افراتفری اور معاشی بدحالی سے پاکستان کے دشمن خوب فائدہ اٹھائیں گے۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو ان حالات سے نکالنا ناممکن ہے تو وہ عقل سے پیدل ہے یا پھر منافق ہے پاکستان کے مسائل کا حل مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اسٹیک ہولڈر ملک سے مخلص ہوں اور ذاتیات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھیں۔

اب اس میں شک نہیں رہا کہ ملک کے دو صوبوں اور پاکستان کے بڑے شہر کراچی میں عمران خان کے بیانیے کی حمایت اور ان کی اکثریت ہے دوسری طرف تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم ہے، جس میں پنجاب میں اثر رسوخ کی حامل ن لیگ اور سندھ کی اکثریتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا فضل الرحمان خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے ایک مخصوص مذہبی گروپ کی نمائندگی رکھتے ہیں۔

ان سیاستدانوں کے علاوہ اعلانیہ یا غیر اعلانیہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے  ان تمام قوتوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ سب پاکستان اور پاکستانی عوام کے ہمدرد ہیں اور اسی تناظر میں اپنے فیصلے کرتے ہیں  لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ یہ آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کر سکتے اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنوں والا رویہ رکھتے ہیں؟ اگر یہ سب پاکستان کے مفاد میں کام کر رہے ہیں تو پھر پاکستان کو موجودہ حالات تک کس نے پہنچایا ہے؟؟

لمبی بحث میں گئے بغیر میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ متذکرہ بالا اسٹیک ہولڈر آپس میں بیٹھیں اور ملکی مسائل کے قابل عمل حل پر متفقہ فیصلے کریں۔  اس کا طریقہ کار ایسے ہو سکتا ہے کہ دو بڑے سیاسی متحارب گروپوں میں سے کوئی ایک پہل کرتے ہوئے دوسرے کو مذاکرات کی مخلصانہ دعوت دے۔ عام طور پر یہ کام حکومت کرتی ہے اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے تو حکومت کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے عمران خان کو مذاکرات کی دعوت دینا چاہیے۔ ملاقات کے ایجنڈے میں فوری انتخابات کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔  اس کے علاوہ عوامی مفاد میں کئی اصلاحات پر بات کرنی چاہیے۔ جن میں بدعنوانی کا راستہ بند کرنا، زرعی اصلاحات، آبادی پر کنٹرول، عدالتی نظام میں بڑی اصلاحات، محکمہ مال اور زمینوں کے ریکارڈز کی درستگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اصلاحات شامل ہوں۔ اس کے علاوہ معاشی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر سب کا اتفاق ہو اور ان پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے۔تمام اداروں کو ان کی حدود کے اندر ایمانداری سے کام کرنے کا پابند بنایا جائے۔یاد رہے کہ یہ سارے کام اسی صورت میں ممکن ہو سکتے ہیں جب ساری قومی سیاسی قیادت ذاتی مفادات اور انا سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں مخلص ہو اور ایمانداری سے مسائل کا حل تلاش کریں۔ دنیا کے تمام ممالک میں جتنی اصلاحات ہوئی ہیں یہ وہاں کی سیاسی قیادت ہی نے بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے کی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں