25

 آرمی چیف کی تعیناتی 



 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی ایک بھی تحریک حکومت وقت کو ایک تعیناتی سے روکنے کے لئے نہیں چلی ہو گی، اس کا سہرا عمران خان کے سر ہی ہے کیونکہ خود ان کے فالوئرز کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آخر آرمی چیف کی تعیناتی کا سیاست سے کیا لینا دینا ہوسکتا ہے اور اس کام سے روکنے کے لئے کیونکر ممکنہ طور پر ایک خون آشام تحریک چلائی جا سکتی ہے  اگر عمران خان آرمی چیف کی تعیناتی میں تاخیر پر تحریک چلا کر حکومت کو آئینی ذمہ داری پوری کرنے پر مجبور کرتے تو کوئی بات بھی تھی، یہ کیا بات ہوئی کہ تحریک اس لئے چلائی جائے گی کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہ کرے!

خود عمران خان کا حال یہ ہے کہ 2019میں جب انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا تو قدم قدم پر ایسی قانونی حماقتیں کیں کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ وزارت دفاع کی جانب سے ایک سمری پر آناً فاناً مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی گئی اور اس وقت کے اٹارنی جنرل آف پاکستان سپریم کورٹ میں اس حوالے سے کوئی قانونی بات نہ کر سکے جبکہ معزز عدالت کا اصرار تھات کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے آرمی چیف کو توسیع دینے کا مطلب چھکڑے کو گھوڑے کے آگے جوتنے کے مترادف ہے۔ 

عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے ”علاقائی سلامتی کی صورت حال“ کو جواز بنایا تھا جس پر معزز عدالت نے کہا کہ اگر اس جواز کو مان لیا جائے تو فوج میں خدمات سرانجام دینے والا ہر شخص اسی بنیاد پر اپنی مدت ملازمت میں توسیع کا طالب ہوجائے گا، اس پر اٹارنی جنرل گویا ہوئے کہ یہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ایک غیر تحریر شدہ کنونشن ہے جو ہر اعتبار سے آئینی دائرہ کار میں آتا ہے اس پر معزز عدالت نے انہیں یاد کروایا کہ 2016میں نون لیگ کی حکومت نے جب جنرل راحیل شریف کی بھی مدت ملازمت کی بجائے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نئے آرمی چیف کے طور پر تعینات کیاتھا تب تو ایسے کسی کنونشن کا تذکرہ سامنے نہیں آیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آرمی ایکٹ رولز 1954کے تحت جن شقوں کا حوالہ دے کر مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی ہے وہاں ان شقوں میں ایسا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ توسیع کی صورت میں آرمی چیف کی تنخواہ اور دیگر مراعات کا سٹیٹس بھی واضح نہیں ہے۔ دوسرے معنوں میں قانون اس حوالے سے قطعی طور پر ساکن ہے لیکن اسے جھوٹ موٹ حرکت میں لا کر مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی ہے، بالآخر اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور کہا کہ پاک فوج سے متعلقہ قوانین میں کہیں بھی صراحت کے ساتھ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی شق موجود نہیں ہے۔ 

دلچسپ حماقت یہ تھی عمران خان نے بطور وزیر اعظم خود ہی 19اگست 2019کو آرمی چیف کی دوسری مدت کے لئے تعیناتی کا آرڈر پاس کردیا تھا جبکہ آئین کے آرٹیکل 243کے مطابق یہ تعیناتی صدر مملکت کا اختیار ہے  جونہی حکومت کو غلطی کا احساس ہوا، اسی روز وزیر اعظم کے آفس سے ایک سمری صدر کے نام نکالی گئی اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے کہا گیا اور صدر مملکت نے عین اسی روز اس سمری پر دستخط ثبت کردیئے اور یوں وزیر اعظم کی ایڈائس پر مدت ملازمت میں توسیع عمل میں آگئی، اس پر عدالت نے اعتراض اٹھایا کہ وزیر اعظم اور صدر مملکت اپنے تئیں کیسے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں جب تک کہ کابینہ سے اس کی توثیق نہ کر دے  چنانچہ اگلے روز کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ کابینہ نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔ عدالت نے کابینہ کا ریکارڈ منگوا کر دیکھا تو معلوم ہوا 25رکنی کابینہ میں سے صرف 11اراکین نے اس کی منظوری دی تھی جس کا مطلب تھا کہ کابینہ کی اکثریت نے اس تجویز کی حمائت نہیں کی تھی، اس سے بھی بڑھ کر حماقت یہ کی گئی کہ کابینہ کی منظوری کے بعد معاملے کو وزیر اعظم اور صدر کو بھیجا ہی نہیں گیا تاکہ نئے سرے سے ایڈوائس پر صدر نیا آرڈر نکال سکیں۔ 

اس ساری بات کا مقصد قارئین کو صرف یہ یاد دلانا ہے کہ عمران خان کی حکومت اس اہم معاملے پر کس قدر حماقتوں کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی میں التوا کے لئے ایسا کوئی عذر پیش کر سکتے ہیں کہ وزیر اعظم یہ تعیناتی کرنے کے اہل نہیں ہیں جبکہ حکومت سے مراد وزیر اعظم نہیں بلکہ کابینہ ہوتا ہے جس کی منظوری کے بغیر معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ عذر دیا جا سکتا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی اس لئے ملتوی کردینی چاہئے کہ موجودہ اتحادی حکومت اپنی کرپشن بچانے کے لئے ایک کمپرومائزڈ آرمی چیف لے آئے گی؟ ایسی بات کرنے والے کو اگر کوئی عدالت میں لے جائے تو وہاں ان کا وکیل ویسی ہی ٹامک ٹوئیاں مارتا نظر آئے گا جیسی عمران خان کے اٹارنی جنرل 2019میں مارتے نظر آئے تھے کیونکہ تب حکومت نے علاقائی سلامتی کی صورت حال کو جواز بنایا تھا تو عدالت نے کہا تھا کہ پھر تو ساری فوج کو توسیع دے دینی چاہئے۔سوال یہ بھی ہے کہ اگر کابینہ اور وزیر اعظم کی ایڈوائس کو صدر بھی رد نہیں کر سکتا تو کوئی سیاسی لیڈر، خواہ وہ کتنا ہی پاپولر کیوں نہ ہو، ایسی بات کیسے کر سکتا ہے؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر اس دوران نیوی اور ایئرفورس کے سربراہوں کی تعیناتی کا معاملہ آن پڑے تو بھی کیا عمران خان ایسی ہی بچگانہ بات کریں گے جیسی وہ بری فوج کے سربراہ کی تعیناتی پر کر رہے ہیں؟

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں