22

راولپنڈی میں اسپتال سے اغواء تین ماہ کا بچہ بازیاب، ملزمہ گرفتار – ایکسپریس اردو

ملزمہ کراچی میں اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں ملوث رہ چکی ہے

 راولپنڈی: پولیس نے بے نظیر ہسپتال سے اغواء کیے جانے والے تین ماہ کے بچے کا سراغ لگا کر اسے باحفاظت بازیاب کروا لیا اور ملزمہ کو اسکے ساتھی سمیت گرفتار کرلیا۔

ملزمہ کراچی میں اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں ملوث رہی اور قید بھی کاٹ چکی ہے۔ سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری نے معصوم بچے کوبازیاب کراتے ہی والدین کے حوالے کردیا جو بچے کو واپس پاکر خوشی سے نہال ہوگئے۔

پنڈی گھیپ سے تعلق رکھنے والے آفتاب احمد کے تین ماہ کے معصوم بیٹے موسی آفتاب کو بدھ کو بے نظیر بھٹو ہسپتال کی او پی ڈی سے اغواء کرلیا گیا ۔ جب والدین بچے کو دس سالہ بیٹی کے حوالے کرکے خود چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے کمرے میں گئے اور چند لمحوں بعد واپس آئے تو بیٹی نے پریشانی کی حالت میں بتایا کہ ایک خاتون نے کہا بچہ بہت پیارا ہے پکڑا اور اچانک غائب ہوگئی۔

بچے کے غائب ہونے کی اطلاع پر تھانہ وارث خان پولیس موقع پر پہنچی اور شواہد جمع کرکے والد کی درخواست پر بچے کے اغواء کا مقدمہ درج کیا ۔ سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری نے سنگین واقعہ کا نوٹس لیا اور ایس پی راول بابر جوئیہ کی نگرانی میں پولیس ٹٰیمیں تشکیل دیں ۔

پولیس نے بچی کی مدد سے ملزمہ کا خاکہ بھی تیار کروایا اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا تو ملزمہ جو صحت مند جسم کی مالک خاتون لگتی تھی بچے کو لے جاکر ایک رکشے میں سوار ہوتی دکھائی دی ۔

چہرہ پر نقاب ہونے کی وجہ سے اسکی شناخت ممکن نہ ہوسکی, تاہم پولیس ٹیم نے اس رکشے اور اسکے ڈرائیور کو ٹریس کر لیا جس نے ابتدائی پوچھ گچھ میں بتایا کہ خاتون صادق آباد جانے کا کہہ کر رکشے میں سوار ہوئی اور صادق آباد پہنچ کر اتر گئی اور مورگاہ کے لیے دوسرا رکشہ بک کروایا جو جھامرا مورگاہ کی گلی کے باہر ڈراپ ہوئی۔

پولیس نے دونوں رکشہ ڈرائیورز کو شامل تفتیش کرکے علاقے میں بچے و خاتون کی تلاش شروع کردی اور علاقے کے گھروں و دکانوں پر نصب کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کو بھی چیک کیا گیا ۔ رات گئے اطلاع ملنے پر پولیس نے حساس ادارے کی معاونت سے مورگاہ کے علاقے میں چھاپہ مارکر بچے کو باحفاظت بازیاب کروالیا اور خاتون سمیت اسکے ساتھی کو گرفتار کرلیا ۔

سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری نے بچے کو رات گئے ہی والدین کے حوالے کردیا جو بچے کی با حفاظت بازیابی پر نہایت خوش دکھائی دیئے اور بچے کو لیکر پنڈی گھیپ روانہ ہوگئے ۔

ادھر ملزمہ جس نے معصوم بچے کو اغواء کیا کے متعلق پولیس حکام کا کہنا تھا کہ کراچی میں اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں ملوث رہی اور سزا کاٹ چکی ہے اور شاطرانہ جواب دیتی ہے کہ بچے کی بہن نے بچے کو اسکو پکڑوایا تو وہ اسکو لیکر وہاں سے چلی گئی ۔

ملزمہ سے مزید تفتیش میں انکشافات توقع ہے ۔ سی پی او راولپنڈی کا بچے کی بازیابی پر کہنا تھا کہ بچے کی بحفاظت بازیابی پر بڑی کامیابی ملی ہے،خوشی ہے کہ بچے کو والدین سے ملوا دیا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں