35

اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 248 روپے پر پہنچ گئی – ایکسپریس اردو

 کراچی: کئی روز بعد انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی واقع ہوئی تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر چار روپے مہنگا ہوکر 248 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درآمدی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے حکومتی اقدامات، درآمدات کی مد میں ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی اور سیاسی کشیدگی میں قدرے ٹھہراؤ کے باعث جمعہ کو ڈالر کے انٹربینک ریٹ 241 روپے کی انتہائی سطح کو چھونے کے بعد تنزلی سے دوچار ہوا تاہم اس کے برعکس اوپن ریٹ بڑھ کر 248 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

کاروباری دورانیے میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ ایک موقع پر 241 روپے سے بھی تجاوز کرگئے تھے لیکن بعد از دوپہر ڈیمانڈ ختم ہونے اور سپلائی بڑھنے سے مذکورہ سطح میں کمی واقع ہوئی نتیجتا انٹربینک مارکیٹ میں گیارہ روزہ طویل وقفے کے بعد ڈالر کی قدر 57 پیسے کی کمی سے 239.37 روپے کی سطح پر بند ہوا۔ اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 4 روپے کے اضافے سے 248 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : ڈالر 242 روپے کو چھو کر 239 روپے کی سطح پر بند

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی اور ملک کو درپیش زرمبادلہ کے بحران سے ہر شعبے کا سرمایہ کار اگرچہ مضطرب ہے لیکن حکومت کی جانب سے اشیائے تعیش کی درآمدات پر مکمل پابندی اور وزیر خزانہ کے رواں ماہ درآمدات کے حجم میں 3 ارب ڈالر میں کمی کے دعووں کے ساتھ اگست میں قرضے کی قسط سمیت دیگر دوست ممالک سے فنڈز موصول کے بیان سے مارکیٹ میں امید کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جون کی ریکارڈ درآمدات کی مد میں ادائیگیوں کی وجہ سے گذشتہ گیارہ دنوں میں روپیہ کی قدر پر شدید دباؤ رہا جس کی وجہ سے 19 جولائی کو ملکی تاریخ میں پہلی بار صرف ایک دن میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 7 روپے کا بڑا اضافہ بھی ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ نہ ہونے کے حوالے سے وزیر خزانہ کے بارہا بیانات جاری ہونے اور اکتوبر میں نئے انتخابات پر بیشتر سیاسی جماعتوں کے اکابرین کی رضامندی کی اطلاعات سے سیاسی افق پر کشیدگی کم ہونے کے توقعات ہیں جو روپے کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں