گلگت بلتستان چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت کل نہیں ہو گی اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم بیان جاری کر دیا  24

گلگت بلتستان چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت کل نہیں ہو گی اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم بیان جاری کر دیا 

گلگت بلتستان چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت کل …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت کل نہیں ہو گی بلکہ 30 نومبر کو کی جائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر 26 نومبر کو سماعت کا آرڈر جاری کیا تھا ، ہائیکورٹ نے فریقین کو ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے 7 روز میں جواب طلب کیا تھا ۔میر شکیل الرحمان ، انصار عباسی اور عامر غوری نے تحریری طور پر جواب جمع کروا دیاہے ، رانا شمیم کی جانب سے احمد احسن کا بطور وکیل وکالت نامہ ہائیکورٹ میں جمع کروا دیا گیاہے ، میر شکیل الرحمان ، انصار عباسی اور عامر غوری نے عامر عبداللہ کو اپنا وکیل مقرر کر دیا ہے ، عامر عبداللہ ایڈووکیٹ نے اپنا وکالت نامہ ہائیکورٹ میں جمع کروا دیاہے ۔

یاد رہے کہ سینئر صحافی انصار عباسی نے خبر جاری کی تھی جس میں رانا شمیم کی جانب سے دیئے گئے بیان حلفی کے مندرجات کا ذکر کیا گیا تھا ، رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 14جولائی 2018 کو ایک 27 رکنی وفد کے ہمراہ گلگلت بلتستان آئے تھے، وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لان میں بیٹھے تھے اور وہ ٹیلی فون پر ہدایات دے رہے تھے۔ ایک روز وہ لان میں اپنی مرحومہ اہلیہ کے ہمراہ میاں ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان پریشان بیٹھے تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے اور انھیں ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کے پاس جاو¿۔

رانا شمیم کے بقول پاکستان کے سابق چیف جسٹس کہہ رہے تھے کہ اس جج سے میری بات کرواو اور اگر بات نہ ہو سکے تو اس جج کو میرا پیغام دے دیں کہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے۔

مزید :

قومی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں