کمبل مجھے نہیں چھوڑتا! 27

 کمبل مجھے نہیں چھوڑتا!

 کمبل مجھے نہیں چھوڑتا!

خیال تھا کہ جاری سیاسی اور مبینہ آئینی بحران سے جان چھڑا کر ذہنی سکون کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کے فرزند کے حوالے سے کچھ لکھا جائے۔یہ کمبل سے جان چھڑانے والی کوشش ہی ہو سکتی ہے،لیکن وہ کمبل ہی کیا جو جان چھوڑ دے،اس لئے مجبوراً حالات ہی کے مطابق گذارشات کرنا ہوں گی تاہم بھلا ہو بلاول بھٹو زرداری کا کہ انہوں نے حال ہی میں چین میں ہونے والی ایک کانفرنس اور پھر چین کے وزیر خارجہ سے خطاب اور تبادلہ خیال کر لیا۔ یہ زمانہ دور کی سہولتوں والے ورچوئیل عمل تھے۔ ان کی تقریر کو بہت سراہا گیا، یہ خطاب انگریزی میں ہوا،اور ان کی اس زبان پر قدرت نے بھی متاثر کیا جبکہ گلوبل حالات کے حوالے سے ان کی فی البدیہہ تقریر میں مسائل اور ان کے حل کی درست نشاندہی تھی۔ یہ تو ہوا، تشویش اس پر ہے کہ ان کے اس عمل کی مقامی طور پر کوریج نہ ہوئی تاہم آج(جمعرات) اس کی کسر اس حد تک نکل گئی کہ قومی اسمبلی میں بلاول نے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار خطاب کیا۔انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی رویے کے خلاف قومی پالیسی کے مطابق بات کی اور بھارتی حکومت کے غیر انسانی، غیر قانونی اور ظالمانہ عمل کی بھی کھل کر مذمت کی، قومی اسمبلی میں ان کا یہ خطاب صرف تنازعہ کشمیر اور بھارتی جارحیت تک ہی محدود نہ رہا،بلکہ انہوں نے اس کے بعد ملکی حالات پر بھی بات کی اور عمران خان اور تحریک انصاف کے رویے پر کھل کر بولے،ایک بار پھر کہا کہ ”عمران خان کے خلاف امریکی نہیں،جمہوری سازش ہوئی“۔ان کی حکومت باقاعدہ آئینی اور جمہوری طریقے سے عدم اعتماد کی منظوری کے بعد ختم ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی انہوں نے آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور سرکاری عہدیداروں نے حد کر دی،اس لئے ایک ایسا قومی کمیشن قائم کیا جائے جو یہ تحقیق کرے کہ کس کس نے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہونی چاہئے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عدم اعتماد کی منظوری سے ایک روز قبل مارشل لاء اور پھر خانہ جنگی تک کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

مجھے تو ان کے وزیر خارجہ بن جانے کے بعد تحمل اور دھیما ہو جانے کے حوالے سے بھی بات کرنا تھی کہ ان کو وزیر مملکت کے طور پر حنا ربانی کھر کا تعاون بھی حاصل ہے جو اس میدانمیں معقول تجربے کی حامل ہیں۔ میں مطمئن ہوا کہ بلاول نانا اور والدہ کی پیروی کرتے ہوئے خارجہ امور ہی سے اپنی حکومتی اننگ کا آغاز کر رہے ہیں، اب وہ جوشیلے نوجوان نہیں 33سالہ مدبر جوان ہیں اس لئے ان کا سنجیدہ ہونا درست اقدام ہے کہ وزارت خارجہ بھی سنجیدگی ہی کا تقاضہ کرتی ہے تاہم قومی اسمبلی میں وہ نسبتاً پرجوش تھے۔ یوں بھی مخالف (تحریک انصاف) کی عدم موجودگی ان کے لئے درست ہی تھی اور کوئی ضرورت بھی نہیں تھی،میں اس نوجوان کے لئے دعا گو ہوں اللہ کرے اسے ذاتی حیثیت میں آزادانہ کام کرنے کا موقع ملے اور وہ اپنے ننہال کی پیروی کا حق ادا کر سکیں۔

یہ اپنی جگہ تاہم بات سے بات نکلے تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر حالات اپنے لئے موافق ہوں اور فیصلے بھی اپنے حق میں آئیں تو سب اچھا ہے اور اگر ایسا نہ ہو، اور آپ کی اپنی سوچ سے مختلف فیصلہ آ جائے تو وہ منظور نہیں،اب تو ایک نیا رجحان بھی چل نکلا ہے کہ فیصلہ کرنے والے بھی سابقہ اپوزیشن اور حالیہ حزبِ اقتدار والوں جیسے ہی ہیں،لہٰذا ان کے خلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کیا جائے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے مبینہ منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف دائر وہ ریفرنس مسترد کر دیا جو ان کے ”منحرف“ ہونے کے حوالے سے دائر کیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن کے سہ رکنی فل بنچ نے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں متفقہ فیصلہ دیا کہ قومی اسمبلی کے ان اراکین کے خلاف آرٹیکل 63 اے کی کارروائی نہیں بنتی،ان اراکین کا موقف تھا کہ نہ تو انہوں نے عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیا، نہ پارٹی چھوڑی اور نہ ہی چیئرمین نے ان کو تحریری حکم دیا جس کی خلاف ورزی کی گئی ہو، فل بنچ نے یہ موقف تسلیم کر لیا کہ درخواست دینے والے حضرات نے بھی تو کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کئے جو انحراف ثابت کرتے ہوں، صرف سندھ ہاؤس میں اکٹھ ہونے پر جذباتی بات ہی کی گئی،اب اس فیصلے کو بھی نہیں مانا گیا یہاں تک فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے روبرو اپیل کرنے کا اعلان ہے تو یہ ان کا حق ہے،لیکن یہاں تو چیئرمین کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر دیا گیا اور کھلے بندوں فیصلے کے نکات پر کم اور الیکشن کمیشن پر زیادہ اعتراض کئے اور برا بھلا کہا جا رہا ہے، حالانکہ ابھی تو فضا میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل چیف جسٹس صاحبان کی آواز کی گونج موجود ہے،جو انہوں نے عدلیہ کے خلاف مہم کے حوالے سے اپنے ریمارکس کے دوران بلند کی تھی۔

یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ محترم عمر سرفراز نے نہ صرف خود کے آئینی گورنر ہونے کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سردار عثمان بزدار کا استعفیٰ غیر آئینی طور پر منظور کیا گیا،وہ وزیراعلیٰ ہیں، ساتھ ہی کہا پنجاب میں وہ وزیراعلیٰ ہیں۔یوں انہوں نے بالواسطہ ہی سہی حمزہ شہباز شریف کو بھی وزیراعلیٰ مان ہی لیا، مجھے تو ان کی یہ بات زیادہ مزہ دے گئی کہ میرا آبائی تعلق پرانے شہر کے اکبری اور موچی دروازے سے ہے وہ فرماتے ہیں، میں عثمان بزدار نہیں،جس سے دفتر ”غنڈہ گردی“ سے خالی کرا لیا جائے گا، میں آخری دم تک لڑوں گا یوں انہوں نے خود کو بہادرکہا اور اس کے ساتھ عثمان بزدار کو ”بزدل“ قرار دے دیا تاہم انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہی،گورنر ہاؤس لاہور میں نہیں۔ان کو بقول خود یہیں ہونا چاہئے تھا،بہادر  ہیں اس لئے وہ جب لاہور آئیں گے تو سیدھے گورنر ہاؤس آفس میں جائیں گے جو چودھری پرویز الٰہی کی طرف سے قائم مقام گورنر کے فرائض سنبھالنے سے گریز کی وجہ سے خالی پڑا ہے۔ویسے سابق گورنر چودھری محمد سرور نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے سردار عثمان بزدار کا استعفیٰ پوری تحقیق کے بعد منظور کیا۔یوں بھی ابھی تک سردار عثمان بزدار نے سرفراز عمر کی طرح خود کو وزیراعلیٰ ڈکلیئر تو نہیں کیا کہ ان کا بیان تھا،استعفیٰ تو کیا عمران خان کے لئے جان بھی حاضر ہے۔

میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا، وہ عدالتی احکام کے ذریعے ہوا تھا،اعتراض کا راستہ یہ کہ اپیل کی جائے۔یہ راستہ اب اختیار کیا جا رہا ہے جب ایک نہیں،تین تین فیصلے آئے اور ان پر عمل بھی ہو گیا۔یہی درست طریقہ ہے،رعب نہ دیں کہ ہم لاہوریوں کو جگا اور قلعہ گوجر سنگھ والے محمد اسلم اچھا پہلوان یاد آ جاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں