ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورپاکستان کا ایٹمی پروگرام  34

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورپاکستان کا ایٹمی پروگرام 

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورپاکستان کا ایٹمی پروگرام 

جب چاغی کے پہاڑوں کی رنگت بدلی تو پاکستان دشمنوں کے رنگ بھی اڑ گئے پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن گیا تو دنیا میں کہیں خوشیوں کے میلے تو کہیں حزن وملال نے ڈیرے جمالئے اسلامی ممالک اور امن کے داعی خطوں میں تو خوشیاں تبسم فرماتی رہیں لیکن انسانیت کے دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے ایسا نہیں کہ پاکستان کوئی برتری چاہتا تھا بلکہ جب بھارت نے ایٹمی طاقت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان کے پاس بھی کوئی دوسرا راستہ نہ تھا پاکستان کو بھی یہ قدم اٹھانا پڑا جسکا مقصد خالص سرحدوں کی حفاظت اور امن کو یقینی بنانا ہے نہ کہ بھارت کی طرح دہشت کو فروغ دینا پاکستان معرض وجود میں آیا تو بھارت کو ایک آنکھ نہ بھایا اسے یہ زعم تھا کہ یہ نوازئیدہ مملکت زیادہ دیر چل نہ سکے گی اور بالآ خر اسے بھارت میں ضم ہونا پڑے گا لیکن پاکستان کی جسے میں عشاق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسکن کہتا ہوں اور جسکی بنیاد ہی کلمہ طیبہ ہے اسے زوال کیسے آتا؟قیام پاکستان کے بعد ہی بھارت نے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا عمل شروع کردیا کبھی گولہ بارود سے کام لیا گیا تو کبھی آبی دہشتگرد ی کی گئی سازشوں کے جال بنے گئے  بھارت ایٹمی طاقت بننے کی دوڑ میں شامل بھی ہوگیا لیکن پاکستان امن اور محبت کے نغمے لکھتا رہایہ کوئی ساٹھ کی دہائی کی بات ہے کہ ہندوستان بڑی تیزی سے جوہری اسلحے کی سمت بڑھ رہا تھا لیکن پاکستان جوہری اسلحہ سے گریزاں رہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور مصلحت سے کام لیا بس پاکستان کی مصلحت پسندانہ پالیسیسوں کو پاکستان کی کمزوری سمجھ لیا گیا 1963میں ذوولفقار علی بھٹونے کابینہ میں تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری شروع کرنی چاہئے

لیکن اس وقت کے سیاستدانوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کچھ امریکہ نواز سیاستدان ایٹمی پروگرام کی راہ میں حائل ہوتے رہے یہ ایسا آسان نہیں تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن کر ابھرتا پاکستان کبھی معاشی پابندیوں کی زد میں تو کبھی دھمکیوں کے گرداب میں رہاپاکستان کو1965میں ہی بھارت کے ایٹمی پروگرام کا علم ہو گیا تھا بھارت اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی کے غرور میں اپنے تیور بدل گیا پاکستان کے حوالے سے بھارت کے لہجے میں تلخی آتی گئی 1971 میں جب پاکستان نے اپنا مشرقی حصہ کھو دیا تب یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر صورت ایٹم بم بنانا ہوگا اس وقت کے وزیر اعظم ذوولفقار علی بھٹو اس سلسلے میں پرعزم ہوگئے 1974 میں انڈیا ایٹمی تجربات کی طرف بڑھا تو پاکستان کے لے اب ایٹمی طاقت حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پھر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی یہ بات عرصہ پہلے ہمیں ایک سائنسدان نے بتائی کہ جب ذوولفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ایٹمی پروگرام کا ذکر کیا تو ڈاکٹر صاحب نے بھٹو صاحب سے کہا میں آپکی صداقتوں پر کیسے یقین کر لوں؟ جس پر بھٹو صاحب نے اپنے بازو پر چھری چلا کر کہا میرے خون سے لکھ لیجئے بس پھر ڈاکٹر صاحب نے ایٹمی پروگرام کی طرف جو قدم اٹھایا وہ کامیابیوں کی منزلوں سے گذرتا گیا  ۔

 1979 میں امریکہ نے پاکستان کی امداد معطل کر دی اور موقف اپنایا کہ اب پاکستان کا ایٹمی پروگرام پرامن نہیں رہا۔لیکن جب روس نے افغانستان کے پر چڑھائی کی تو امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پاکستان کی امداد پھر سے بحال کردی اور ساری پابندیاں ہٹا دیں پھر سویت یونین کو شکست ملی اور امریکہ سپرپاور بنا توایک بار پھرپاکستان پابندیوں کے بھنور میں پھنس گیالیکن پاکستان نے تمام تر پابندیوں کے باوجود ایٹمی پروگرام جاری رکھا اور بھارت نے 1996 میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے پرتھوی میزائل کا تجربہ کیا۔ پھر 1998 کو جب بھارت نے یکے بعد دیگر دو دھماکے کئے پہلا 11 اور دوسرا 13مئی کو تب پاکستان کے اندر سے تمام حلقوں کی جانب سے آوازیں آنا شروع ہوئیں کہ بھارت کو جواب دینا چاہئے پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ایٹمی دھماکوں سے روکا گیا اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف تھے لیکن تمام تر اندیشوں، دھمکیوں اور لالچ کے باوجود  28 مئی 1998 کوچاغی کے پہاڑ ایٹمی دھماکوں کے امین ٹھہرے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنس دانوں نے 1984میں ایٹم بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی لیکن 98میں جب ہندوستان نے جوہری تجربات کئے تو پاکستان کے لئے کوئی دوسرا آپشن نہ رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیاپاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل پہنچانے میں محسن پاکستان کا کردار کلیدی رہا جنہیں کبھی دھمکیوں اور دوسرے طریقوں سے اس پروگرام سے باز رہنے کا کہا گیا لیکن 27 اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہونے والے عبد القدیر خان نے ایٹمی میدان میں بھونچال پیدا کر دیا برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں عبد القدیر خان اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے تھے اور ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے اور 15 برس قیام کے دوران انہوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔

1974 میں پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رابطہ کیا تو 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر وطن واپس آگئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی جسکا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاالحق نے تبدیل کر کے ان کے نام پر ‘ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز’ رکھ دیا تھا۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہر دور کے حکمران نے نمایاں کردار ادا کیا لیکن ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام ہمیشہ تابندہ رہے گا کہ قدرت نے انہیں خاص جس کام کے لئے منتخب کیا وہ اسے احسن طریقے سے مکمل کرکے ملک عدم رخصت ہوئے ہیں ……اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں