ایک لاکھ بچوں کی گواہی اور ڈاکٹر فائزہ اصغر 32

ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ         (1)

ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ         (1)

پانچ مارچ 2011ء کا واقعہ ہے۔ ہم ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے وسیع و عریض احاطے کے ایک حصے میں آراستہ ایک خوش نما پنڈال میں موجود ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی کا سالانہ کانوکیشن منعقد ہورہا ہے، اس موقع پر ہمارے انتہائی فاضل کرم فرما جناب سید نعیم حامد علی الحامد کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی جانی ہے، اسی نسبت سے ہم بھی وہاں موجود ہیں، یہ موقع نہ ہوتا تو شاید ہی ہم کانوکیشن کا حصہ بن پاتے، انتظار کی کوفت اور بھوکے پیاسے رہنے کی زحمت ہم جیسوں کی برداشت سے باہر ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم نے اپنی سند بھی گھر بیٹھے ہی وصول کی تھی۔ نعیم صاحب کو سند دینے کا مرحلہ تقریب کے آخری حصے میں آیا، جیسے ہی انہیں سند تفویض کی گئی، انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے اشارے سے اپنے جذبات تشکر شعری قالب میں پیش کرنے کی اجازت چاہی، اعلان ہوا، اور انہوں نے اپنا پہلا شعر پیش کیا:بہ فیض مقتدائے نغز گویانِ جہاں کہییبہ طرز بیدل اسطورہ شعر و بیاں کہییپھر وہ ایک ایک شعر پڑھتے رہے اور داد سمیٹتے رہے، مگر جب اس شعر پر پہنچے:وہ پاکستان کے محسن جنہیں اے کیو خان کہییانہیں فخر جہانِ ملتِ اسلامیاں کہییتو مت پوچھیے کیا سماں بنا، زبانی داد و تحسین کے ساتھ تالیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تو دراز تر ہوتا چلا گیا، چند لمحوں کے لیے شعرخوانی موقوف ہو گئی، جب تالیاں زیادہ بڑھیں تو ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے ہلکا سا ہاتھ ہلایا، اس پر تالیوں کا ارتعاش کئی گنا زیادہ ہو گیا۔ ہو یہ رہا تھا کہ جوں ہی تالیاں مدھم پڑنا شروع ہوتیں تو ایک جانب سے تازہ دم تالیوں کی نئی لہر پورے ہال کو پھر سے ڈھانپ لیتی اور پھر مزید کچھ دیر یہی سماں رہتا۔

جب یہ سلسلہ پانچ سات منٹ سے بھی زیادہ دراز ہوگیا تو ڈاکٹر صاحب اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر شکریہ ادا کرنے لگے، یہ دیکھ کر پور ا پنڈال جو کم و بیش پانچ سے دس ہزار افراد پر مشتمل ہوگا ایک ساتھ کھڑا ہو گیا اور پوری قوت کے ساتھ تالیاں پیٹی جانے لگیں۔ یہ سلسلہ کم و بیش پندرہ منٹ تک جاری رہا اس کے بعد ہی کہیں جا کر تقریب اپنے ڈھب پر واپس آ سکی۔ نائن الیون کے بعد ڈاکٹر صاحب پر بیتنے والی ایک انتہائی غیر معمولی آزمائش کے بعد کسی عوامی مجمعے میں کم از کم ہمارے سامنے یہ پہلی اور بھرپور پذیرائی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو میں نے غالبا   میں کراچی یونیورسٹی میں شیخ زاید اسلامک سنٹر کے آڈیٹوریم میں دیکھا تھا، وہ اسٹیج پر تشریف فرما تھے اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے آخری گفتگو بھی انہوں نے فرمائی، اب یاد نہیں کیا سلسلہ تھا، لیکن کسی تعلیمی مقصد کے لیے فنڈریزنگ ہو رہی تھی، ڈاکٹر صاحب نے جہاں ایک جانب وہاں موجود دوسرے اہل خیر حضرات کو عطیات کی ترغیب دی، وہیں اپنی جانب سے بالکل ابتدا ہی میں ایک لاکھ روپے چندے کا اعلان کیا اور ساتھ میں یہ جملہ بھی کہا کہ یہ صرف اعلان نہیں ہے، یہ رقم یا اس کا چیک میں ابھی وائس چانسلر صاحب کے حوالے کر رہا ہوں۔ اس روز بھی ڈاکٹر صاحب کی انتہائی عوامی پزیرائی کے مناظر نگاہوں میں محفوظ ہیں۔مگر ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی نوبت بہت عرصے کے بعد آ سکی۔

ڈاکٹر نعیم حامد علی الحامد صاحب کی ایک کتاب، شاید بیدل کی خدماتِ شاعری پر تازہ تازہ شائع ہوئی تھی، ان کی خواہش تھی کہ میں اس کتاب کے چند نسخے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں از خود حاضر ہو کر پیش کروں، اسی دوران اسلام آباد کا سفر بھی پیش آگیا تو میں نے نعیم صاحب سے عرض کردیا، اور ان ہی کے توسط سے مجھے ڈاکٹر صاحب کے گھر پر حاضری کی اجازت مل گئی۔ میں وقت مقررہ پر پہنچ گیا، تعارفی گپ شپ رہی، میں تو سنتا ہی رہا، وہی بولتے رہے، اپنی جوانی کے قصے، تعلیمی احوال یا پھر بھوپال، جو ان کا رومانس تھا، کچھ بھی ذکر کرتے، گھوم پھر کر بھوپال پر ضرور آجاتے، خیر نعیم صاحب کی کتابیں پیش کیں، شاید اپنی بھی کوئی کتاب پیش کی، لوازمات کے ساتھ چائے نوش کی اور واپس چلا آیا، اس سفر میں ہمارا قیام فیصل مسجد سے متصل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے آئی آر ڈی گیسٹ ہاوس میں تھا، ڈاکٹر صاحب کے گھر سے وہاں پیدل کوئی دس منٹ کا فاصلہ تھا، سرد موسم تھا،  نماز مغرب کا وقت تنگ ہوتا جا رہا تھا، کمرے میں پہنچتے پہنچتے دس منٹ صرف ہوئے، وہاں پہنچ کر اپنے اضافی کپڑے ایک طرف رکھ کر وضو کیا، بہ مشکل نماز سے فارغ ہوا تھا کہ سعودی عرب سے نعیم صاحب کا فون آگیا، مصنوعی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ تم مل کر آگئے، اور بتایا تک نہیں، میں نے کہا کہ حضور ابھی کمرے میں آکر صرف تازہ وضو سے نماز مغرب کی تین رکعات ادا کی ہیں، میں آپ کو فون کرنے ہی والا تھا، بولے کہ جیسے ہی تم نے ان کے گھر سے واپسی کے قدم بڑھائے، انہوں نے فورا مجھے کال کی اور اس ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا، ان کا نمبر محفوظ کر لو، اب وہ تم سے خود رابطے میں رہیں گے۔

انہیں تم سے مل کر خوشی ہوئی ہے۔ اور واقعی اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے انتقال کے محض چند روز پہلے تک از خود رابطہ رکھنے کی روایت ایسے نبھائی کہ با ید و شاید۔ شاید سیکڑوں لوگوں کے ساتھ ان کا معمول یہ تھا کہ کچھ کو روزانہ اور کچھ کو ہر ہفتے جمعے کے روز ایک میسج ان کی جانب سے موصول ہوا کرتا تھا، چناں چہ برسوں یہ معمول رہا کہ صبح میں موبائل آن ہوتے ہی ڈاکٹر صاحب کا ایک خوبصورت سا میسج موصول ہو جاتا۔ مگر پھر یہ سلسلہ آج سے کوئی آٹھ، دس ماہ پہلے اچانک منقطع ہوگیا۔  دو ایک بار میسج ہی کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی خیریت دریافت کرنے کی کوشش کی، اس دوران وہ کئی بار علیل ہوئے، ہسپتال  میں بھی داخل ہونا پڑا، اس لیے مناسب محسوس نہیں ہوا کہ انہیں کال یا میسج کے ذریعے زحمت دی جائے، لیکن دو تین ماہ پہلے ایک روز خیال ہوا اور میں نے ایک چھوٹا سا میسج واٹس ایپ کیا، تھوڑی دیر میں میسج کا جواب آگیا، میں نے میسج میں یہ پوچھا تھا کہ آپ کا روزانہ میسیج وصول ہونے کا سلسلہ منقطع ہے،خیریت تو ہے، فورا جواب میں فرمایا کہ میرا موبائل تبدیل ہوا تھا، بہت سے نمبر ضائع ہوگئے آپ کا نمبر محفوظ نہیں تھا اور پھر روزانہ تو نہیں، ہر جمعہ میسج  کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب کے ان پیغامات کا سلسلہ زیادہ عرصے جاری نہ رہ سکا کہ وہ مسلسل علالت کا شکار رہے،اورآخر وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ڈاکٹر صاحب اپنے بارے میں کہا کرتے تھے: گزر تو خیر گئی ہے تری حیات قدیرستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہیآج وہ کوفیوں سے اٹھ کر مدنیوں میں منتقل ہوگئے۔

یقینا ان کی کی بے قراری کو اب قرار آچکا ہوگا،یقینا وہ مرد حر اپنی مراد پاچکا ہوگا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ڈاکٹر صاحب عملی زندگی میں انتہائی مذہبی مزاج کے حامل تھے، اور مذہبی معاملے میں کیا ہر معاملے میں عملیت پسندتھے،لمحوں میں فیصلہ کرتے اور جس قدر بس میں ہوتا لمحوں میں ہی اس پر عمل شروع کر دیتے۔ ایک بار میں ڈاکٹر صاحب کے پاس موجود تھا، کسی ضرورت مند کا میسج آیا،ایک بیوہ خاتون کی دو بچیوں کی اکٹھے شادی کا معاملہ تھا، خداجانے کس حوالے سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب تک رسائی حاصل کی، میرے سامنے ڈاکٹر صاحب نے میسج پڑھا،اس کے بارے میں کچھ تفصیلات مجھے بھی بتائیں، اور چائے پیتے پیتے کراچی میں ایک سرمایہ دار شخصیت کو فون کیا، انہیں ان ہی کے حلقہ احباب میں سے مزید دو افراد کے نام دیے اور کہا کہ آپ تینوں افراد ایک ایک لاکھ روپے تیار رکھیں، اللہ کے ان بندوں نے بھی ڈاکٹر صاحب سے کوئی سوال نہیں پوچھا، ڈاکٹر صاحب نے از خود صرف اتنا کہا کہ کسی کی ضرورت پوری کرنی ہے، میں میسیج پر آپ کو ان کا اکاونٹ بھیج رہا ہوں یہ رقم اس میں بھجوادیجیے،پھر جس نمبر سے میسج آیا تھا اسی وقت اسے ایک میسج کردیا کہ اپنا اکاونٹ بھیجیے تاکہ رقم بھیجی جا سکے۔

یہ بات لکھنے میں ہمیں زیادہ وقت صرف ہوا ہے،اس سے کہیں کم وقت میں ڈاکٹر صاحب نے یہ کام کر ڈالا۔ڈاکٹر صاحب کسی بھی نیک کام کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے  غالبا دو ہزار ایک یا دو میں کسی وقت کراچی میں دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریجنل کیمپس کے لیے بھاگ دوڑ شروع ہوئی، ایک ٹرسٹ کی جانب سے ایسے پلاٹ کا انتظام ہوگیا،جو اب تک کسی مصرف میں استعمال نہیں ہو سکا تھا،اس وقت کے کچھ اہل دل نے ایک فنڈ ریزنگ تقریب کا اہتمام کیا ڈاکٹر صاحب سے سرپرستی کی درخواست کی گئی،آپ تشریف لے آئے اور ان کی برکت سے اچھے خاصے فنڈز کا وعدہ ہوا،جن میں سے خاصی رقم میسر بھی آگئی، یوں ایک معقول درجے کا کیمپس عوامی چندے سے کھڑا ہو سکا،یقینایہ سینٹر بھی ڈاکٹر صاحب کے لیے صدقہ جاریہ کا درجہ رکھتا ہے،جو اس وقت سے اب تک اپنی بساط کے مطابق مسلسل تعلیم اور تربیت کے مختلف صرف دائروں میں سرگرم عمل ہے۔     (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں