پی ٹی آئی کے تین سالوں کا نچوڑ  45

پی ٹی آئی کے تین سالوں کا نچوڑ 

پی ٹی آئی کے تین سالوں کا نچوڑ 

پی ٹی آئی حکومت کے تین سالوں کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ کچھ وقت کے لئے تو کچھ لوگوں کو بیوقوف بناسکی مگر سارا وقت سارے لوگوں کوبیوقوف نہیں بناسکتی۔اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور میڈیااگرایک پیج پرہوں اورعوام ساتھ نہ ہوں تو ریاست کے اہم ستون بھی ایک قدم پیچھے ہٹ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ طاقت کے ساتھ ہوتے ہیں اور ریاست میں سب سے بڑی طاقت عوام ہوتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کامن سینس اتنی بھی کامن نہیں ہوتی!

عوام کو دکھ اس بات کا ہے کہ عمران خان کرپشن تو کیا ختم کرتے، الٹا مہنگائی شروع کردی۔ اس حکومت نے سوائے باتوں کے کچھ نہیں بنایا، لیکن حکومتی بھونپو بھول گئے تھے کہ تھوک سے پکوڑے نہیں تلے جاتے۔ حکومت اس بری طرح ایکسپوز ہوئی ہے کہ اس کا احساس پروگرام عوام کی نظر میں اس کی بے حسی کا تازیانہ بن گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر افسوس تو اس بات کا ہے کہ بارہ ربیع الاول کے مبارک دن کی سب سے بڑی کانفرنس کو بھی سیاسی بیانات کے لئے استعمال کیاگیا اور ایک بار پھر سے قطری خط اور کیلیبری فونٹ کی بازگشت وزیر اعظم کے منہ سے سنائی دی حالانکہ اس بات کا موقع تھا نہ محل!لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی پاکستانی معاشرے کو تقسیم کرنے کی ایک بڑی سازش رو بہ عمل ہے اور ان کے حکمران اپنے بھولپن میں اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

کہاں ہیں وہ دودھ اور شہد کی نہریں جوپی ٹی آئی کی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں بہائی تھیں اور کہا جاتا تھا کہ اسی لئے پی ٹی آئی کو صوبے کے عوام نے دوبارہ سے ووٹ دیا ہے۔ کہاں ہے اس صوبے کی مثالی پولیس کا ماڈل جسے عمران خان نے پورے ملک میں لاگو کرنا تھا۔جس طرح 2008ء سے 2013ء کے درمیان پیپلز پارٹی کی حکومت کی نااہلی عوام پر عیاں ہو گئی تھی اسی طرح اب پی ٹی آئی کی نااہلی عیاں ہوگئی ہے۔ وہ سارے لوگوں کوسارے وقت کے لئے بیوقوف نہیں بناسکے!

پی ٹی آئی حکومت کے برے دنوں کا آغاز ہونے والا ہے یاایک بری حکومت کا اختتام ہونے والا ہے، کہیں سے بھی دیکھا جائے ایک ہی بات لگتی ہے۔ نواز شریف کواعلیٰ عدلیہ کے چند ججوں نے نااہل قراردیا تھا یہاں 75فیصدعوام نے عمران خان کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکر لے کر بدنامی کمائی تھی، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی حمائت پاکر بدنام ہو گئے،بلکہ سچ پوچھئے تو خود اسٹیبلشمنٹ کے حصے میں بھی بدنامی ہی آئی ہے۔ عمران خان کرپشن کا کٹا باندھنے چلے تھے، مہنگائی کا کھول کر آگئے اور اب لوگ نواز شریف کو یاد کر رہے ہیں مگر نواز شریف کے متوالے حالات کی سختی کا شکار ہونے کے باوجود چاہتے ہیں کہ تب تک حکومت تبدیل نہ ہوجب تک پی ٹی آئی کے چیتے اور چیتیاں ناک سے لکیریں نہیں نکالتے۔دوسری جانب پی ٹی آئی والوں کاحال یہ ہے کہ انہیں اب اچھا نہیں لگتا کہ ان کے محبوب لیڈر بات بے بات پر ریاست مدینہ کا راگ الاپنا شروع کردیا کریں۔ وہ خود سمجھتے ہیں اور برملا کہتے پائے جاتے ہیں کہ حکومت کی ناکامی میں کسی جادو کا ہاتھ ہے!

اسٹیبلشمنٹ نے الیکٹرانک میڈیا کو پراپیگنڈے کے لئے استعمال کیا، وہ فارغ ہو گیا۔ اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ یہی کام مذہبی جماعتوں سے لیا کرتی تھی، جن میں سے کچھ فارغ ہو چکی ہیں اور کچھ فارغ ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں مذہبی جماعتوں سے مراد جمعیت علمائے اسلام نہیں ہے، کیونکہ اس جماعت کی لیڈر شپ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ ریاست کے امور کو سیاسی بالغ نظری سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ کسی ادارے کی بی ٹیم نہیں ہے۔ خیر الیکٹرانک میڈیا ہو یا مذہبی حلقے، اسٹیبلشمنٹ کے تمام مہرے پٹ چکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اب خود اسٹیبلشمنٹ کی باری ہے۔ 

عوام کو ایک بڑے پیمانے پرمایوسی نے گھیر لیاہے اور اب تو پی ٹی آئی کے حامی ڈرتے عمران خان کی کھلم کھلا حمائت بھی نہیں کرتے کہ کہیں جواب میں جوتے نہ پڑ جائیں۔ حکومتی رٹ کی دھجیاں بکھر چکی ہیں اور عوام ذلیل و رسوا ہونے کے بعد اب حکومت کو ذلیل و رسوا کرنے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ عوام نے پسند نہیں کیا کہ عمران خان فوج میں ہونے والی تعیناتیوں کو چیلنج کرکے ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ وہ اسلام آبا دکے میئر نہیں ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی حقِ حکمرانی تیزی سے کھوتی جا رہی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کو اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اتنے بڑے بڑے فیصلے کرے۔ اس کی بجائے اب فیصلے گلی کوچوں اور چوک چوراہوں میں ہوں گے،مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کی تقریروں میں ہوں گے کیونکہ پی ڈی ایم نے احتجاجی تحریک کا آغاز کردیاہے جو کم از کم تب تک تو جاری رہے گی جب تک سخت ترین سردی نہیں پڑتی،بلکہ ہوسکتا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کے کارکنوں کی طرح مولانا کے کارکن بھی برف باری کے دوران اسلام آباد میں ڈی چوک کاگھیراؤ کئے ہوئے ہوں۔

 اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا بلاول بھٹو کراچی کے علاوہ بھی کہیں پیپلز پارٹی کی سرکس لگا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ٹھیک وگرنہ اسے پھر سے پی ڈی ایم کے جھنڈے تلے آناپڑے گا اور اگلے انتخابات کے اعلان سے قبل پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے کا اعلان کرنے سے باز رہے گی۔ یہی فیصلہ پیپلز پارٹی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت  ہوگا!یہ بات تمام سیاسی جماعتوں کوسمجھ لینی چاہئے کہ اب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اقتدار میں آنے کے زمانے لدگئے۔ اب جو بھی ایسا کرے گا عوام اس کا پی ٹی آئی بنادیں گے!

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں