mobile logo 31

 نَشَّہ اقتدار

 ڈی چوک پر عمران خان کی چڑھائی اور پسپائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان بلوائیوں کی شکل میں پولیس اور رینجر کے جوانوں پر حملہ آور ہوئے۔ پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائی۔ 27 سے زائد پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو زخمی کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ اسلام آباد میں صحافیوں، صحافتی دفاتر اور ڈیوٹی پر مامور کیمرہ مینوں تک پر تشدد اور پتھراؤ کیا گیا۔ کراچی میں خاتون صحافی کے ساتھ نہ صرف انتہائی بدتمیزی کی بلکہ ان پر اور ان کی پوری ٹیم پر تشدد بھی کیا گیا۔ دوسری طرف سے پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان کی چیخ و پکار مسلسل جاری ہے۔ پولیس کی طرف سے کیے جانے والے تشدد، لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں پر شدید آہ وزاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عمران خان کا تبدیلی کا فلسفہ اور انقلاب کا بیانیہ بری طرح پٹ رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر برا حال اس کے احتجاجی جہاد کا ہوا ہے۔ عمران خان کے اقتدار سے نکلتے ہی طوفانی دوروں اور بڑے بڑے جلسوں سے یہ سمجھا جارہا تھا کہ واقعی جب یہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گا تو اسے سنبھالنا بہت مشکل ہو گا۔ مگر چند ہزار افراد کے ساتھ جس طرح اس نے ڈی چوک سے پسپائی اختیار کی اس سے اس کا سونامی تاثر بالکل ختم ہو گیا۔رہی سہی کسر اس کی طرف سے چھ دن کی دی ہوئی ڈیڈ لائن کے گزر جانے کے بعد طاری سکوت نے نکال دی۔اس کا دعویٰ تھا کہ وہ اسلام آباد میں بیس لاکھ افراد اکھٹے کرے گا مگر بیس ہزار کی گنتی کو پورا کرنا بھی مشکل نظر آیا۔پی ٹی آئی کے جنون کے غبارے سے چند معمولی جھٹکوں کے بعد ہی ہوا نکلنا شروع ہو گئی۔ یہ بات کھل کے سامنے آ گئی کہ پی ٹی آئی لڑکوں اور لڑکیوں کے ڈانس اور بے لگامی سے بھڑکتا ہجوم تو اکھٹا کر سکتی ہے مگر تند و تیز آندھیوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔اس کی طرف سے میوزک کنسرٹ نما پروگرامز تو بڑی دھوم دھام سے منعقد کیے جا سکتے ہیں مگر پرتشدد حالات میں اپنے کاز کے لیے آگے بڑھنا ان کی تربیت کا حصہ نہیں ہے۔ آئندہ لانگ مارچ کے لیے عمران خان اور اس کی پارٹی کی طرف سے جو تقاضے کیے جارہے ہیں، انہیں سن کر بندے کی ہنسی نکل جاتی ہے۔ ایک طرف تو عمران خان،ن لیگ اور اس کے اتحادیوں کی حکومت گرانے کی جد وجہد کو جہاد کے نام دے رہا ہے اور دوسری طرف سے سپریم کورٹ سے اس جدوجہد کے لیے پھولوں کی سیج کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

قارئین! آپ ذرا ان برائلرجہادیوں کا یہ بیان ملاحظہ کریں: ”پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت کا حکم دیا جائے، گرفتاریاں نہ کی جائیں، تشدد اور طاقت کا استعمال روکنے کو کہا جائے، سپریم کورٹ میں درخواست پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے علی ظفر ایڈووکیٹ نے جمع کرائی جس میں وزارت داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ہوم سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔ احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں، وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔“ یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایک ہی جھٹکے کے بعد پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے وہ اعصاب جن کے فولادی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، کس قدر کمزور ثابت ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کا وہ جنون جسے چٹانوں سے تشبیہ دی جارہی تھی، وہ ایک کھوکھلی دیوار ثابت ہوا ہے۔ جہاں تک پی ٹی آئی کو پولیس گردی اور تشدد کی شکایت ہے تو انہیں اپنا دورِ حکومت یاد کرنا چاہیے۔ آج پی ٹی آئی کے قائدین چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہونے پر آنسو بہا رہے ہیں۔ ابھی تو کل کی بات ہے کہ جب یہ سب کچھ انہوں نے ملک کی غالب اکثریت اہل سنت و الجماعت کے خلاف تاریخ کے بدترین کریک ڈاؤن میں کیا۔ظالمانہ کریک ڈاؤن کرنے والوں کے لیے قدرت کی تعزیریں ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک سیاہ تاریخ رقم کی۔مساجد، مدارس، دینی مراکز، مزارات، چادر، چار دیواری، داڑھی اور عمامے کا تقدس بری طرح پامال کیا گیا۔جتنی بڑی تعداد میں علماء  و مشائخ، ائمہ و خطباء  اور سنی ورکرز کو جیلوں میں ڈالا اور کئی مہینے ظلم کا بازار گرم رکھا گیا،اس کے مقابلے میں عمران خان اور اس کے کارکنوں سے تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ ملک کی سڑکوں کو خون سے رنگین کیا گیا۔ کتنے سنی کارکنان ہیں جو پولیس تشدد کے نتیجے میں اپاہج اور معذور ہوگئے۔ کتنے گھروں کے چراغ بجھے، کتنی مساجد اور مدارس میں کئی دنوں تک نظامِ صلوٰۃ اور نظام تعلیم معطل رہا۔ نابالغ بچوں سے لے کر اسی اسی سال کے بزرگوں تک بغیر کسی جرم کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔

ہزاروں کارکنان کے بوڑھے والدین کئی مہینوں تک تھانوں ا ور کچہریوں میں دھکے کھاتے رہے۔ آج جو پولیس کے ہاتھوں اپنی تذلیل پر رو رہے ہیں، کل انہوں نے اسی پولیس سے آج سے کہیں بڑے ظلم کروائے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب ٹولہ اقتدار کے نشے میں دھت تھا تو انسانیت کو بھولا ہوا تھا۔ ایسے ہی جو آج اقتدار کے نشے میں دھت ہیں، وہ بھی انسانیت بھولے ہوئے ہیں۔ جب بھی کوئی ادارہ سٹیٹ کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کا آلہ کار بن جائے تو پھر ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا سرکاری اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔ افسوس ہے کہ پاکستان میں عملاً جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔ اپنا ذاتی غصہ نکالنے کے لیے پولیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ملکی حالات بڑی تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ حکمران اتحاد ملکی معیشت سنبھالنے میں مکمل ناکام نظر آرہا ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی وغیرہ کے لوگ سب پڑھے ہوئے خط ہیں۔ وزارتوں پہ براجمان لوگوں میں اکثر وہی ہیں جن کی کرپشن کے چرچے زبان زدِ خلق ہیں۔ نیب میں اور دیگر عدالتوں میں جن پر قائم مقدمات زیر سماعت ہیں جنہیں اپنے مقدمات ختم کرانے اور پھر اسمبلی میں آنے کے لیے کچھ انتخابی اصلاحات کرنے کے سوا اور کچھ سوجھ ہی نہیں رہا، دوسری طرف عمران خان ہے جو ملک کے تین ٹکڑے ہونے اور اداروں کی تباہی جیسے بیان داغ رہا ہے۔ دونوں طرف کی قیادت شعوری یا غیر شعوری طور پر اس بات سے کوسوں دور ہے کہ اس نے ایک ایسے ملک کے مسائل کو حل کرنا ہے جس کی معیشت بدحالی سے دوچار ہے، سٹاک ایکسچینج ہر دوسرے روز کریش ہو رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے چلے جارہے ہیں۔

برآمدات کے مقابلے میں در آمدات کا حجم غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ توازنِ ادائیگی بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور تجارتی خسارہ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم سے مذاکرات کے ذریعے حل کر لیتے اور ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بجاتے مگر ایک ٹولہ اقتدار میں ہونے کی وجہ سے نشہ اقتدار میں دھت ہے اور دوسرا نشہ اقتدار ٹوٹ جانے پر سرگرداں ہے اور جائز یا ناجائز طریقے سے اس نشہ تک پھر پہنچنا چاہتا ہے۔ ان نشوئیوں کی جنگ میں ملک اور قوم کا حال بہت پتلا ہو چکا ہے۔ اللہ کرے کوئی بہتری کی راہ نکلے۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کاشانہئ نبوت  سے باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم نو افراد وہاں موجود تھے۔ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: میرے کچھ وقت بعد ایسے حکمران ہوں گے جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ شخص مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں ہوں اور وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہیں پہنچ سکے گا۔ اور جس نے ان حکمرانوں کی ان کے جھوٹ پر تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کی پس وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اور وہ میرے پاس حوض کوثر پہ وارد ہوگا یعنی میں اسے حوض کوثر سے پانی پلاؤں گا۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں