نجی خلابازی میں نئی جہتوں کا آغاز - ایکسپریس اردو 52

نجی خلابازی میں نئی جہتوں کا آغاز – ایکسپریس اردو

ماہ اپریل 2022ء میں انسانی خلائی پرواز کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم ہوچکی ہے جب پرائیوٹ خلائی فر م ’’ایکسیم‘‘ نے خلاء کی تاریخ میں پہلی بار مکمل پرائیویٹ خلابازوں کا مشن “Axiom Mission-1″کو خلائی اسٹیشن پر پہنچادیا۔

اس پہلے نجی خلائی مشن کو جنوری 2022 ء میں ہونا قرار پایا تھا مگر اسکی حتمی تاریخ التوا کا شکار رہی ۔AX-1 اپنے چاروں خلابازوں کو اسپیس ایکس ڈریگن جہاز کی مدد سے خلاء میں پہنچے تھے ، اس کی لاؤنچنگ کمپلیکس39-A، ناسا کے کینڈی خلائی مرکز فلوریڈا سے ہوئی جب ا سے راکٹ فیلکن نائن سے چھوڑا گیا۔

خلائی جہاز اینڈیور(Endeavour) کی خلائی اسٹیشن پر ڈوکنگ اگلے روز 9 اپریل کو صبح مشرقی وقت    8:29 پر ہوئی اس میں 45 منٹس کی تاخیر ہوئی۔ خلائی جہاز ڈریگن اینڈیور نے 21 گھنٹے کے قریب سفر جاری رکھا۔ دو سال قبل ناسا نے پرائیویٹ کمپنی اسپیس۔ایکس کے ساتھ اشتراک میں خلائی پروازوں کا سلسلہ شروع کیا تھا جب مئی 2022 ء میں ناسا کے خلاباز باب بینکن اور ڈوگ ہرلی نے اسپیس ایکس کے ڈریگن۔ڈیمو2 کو عالمی خلائی اسٹیشن پہنچا کر پہلی نجی خلائی جہاز کی پرواز کا نیایکارڈ بنایا اور دونوں خلاباز اسٹیشن پر دو ماہ تک رہے۔

اس کے بعد اس اسپیس ایکس سلسلے کی مزید تین انسان بردار پروازیں کی جاچکی ہیں اور بارہ خلابازوں کو اسٹیشن لے جاچکا ہے جس میں اب اسپیس ایکس۔ڈریگن کرو۔4 بھی روانگی کے لیے تیار ہے۔ حالیہ نجی طور پر خلابازوں کی یہ پرواز ناسا کی معاونت میں کی گئی ہے لیکن اس میں ناسا کے آفیشل خلاباز کے بجائے ریٹائرڈ سنیئر خلاباز نے مشن کی کمانڈ کی ہے جب کہ دیگر ساتھیوں نے پہلی بار خلائی مسافر یا سیّاح کے طور سفر کیا ہے۔

اس پرائیویٹ خلائی مشن ایکس۔ ون کے مشن کمانڈر مائیکل لَوپیز الیگیریا (Michael Lopez-Alegria) ہیں جو کہ اسپین میں پیدا ہوئے اور ناسا کے سابق خلاباز ہیں وہ ’’ایکسیم ۔اسپیس‘‘ کے وائس پریزیڈنٹ بھی ہیں ۔63 سالہ الیگیریا خلائی اسٹیشن پر ایکسپیڈیشن۔14 کے رکن رہ چکے ہیں اور وہ خلائی شٹل و سوئیز خلائی مہمات میں حصہ لے چکے ہیں اور حالیہ پرواز ان کی چوتھی پرواز ہے۔

دوسرے ساتھی خلابازوں میں امریکی سرمایہ کار 72 سالہ لیِری کونر(Larry  Conner)ہیں جوکہ رئیل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی بزنس مین ہیں اور کونر گروپ کے ہیڈ ہیں، تیسرے رکن اسرائیل کے سابق لڑاکا پائیلٹ ایٹن اسٹیب(Eytan Stibbe) ہیں ان کی عمر64 برس ہوچکی ہے جب کہ چوتھے رکن کا تعلق کینڈا سے ہے۔ 52 سالہ مارک پیتھی(Mark Pathy) بزنس مین اور سرمایہ کار ہیں۔

خلائی اسٹیشن پہنچے پر مشن کمانڈر ٹام مارش برن نے Ax-1 کے چاروں خلابازوں کا خیرمقدم کیا جب کہ دوسرے اسٹیشن کے ایکسپیڈیشن۔67 کے عملے نے بھی نئے مشن ٹیم کو خوش آمدید کہا ان میں راجہ چاری ، کیلا بیرن میتھائس مورر اور روسی خلاباز آرتموف، سرگئی کورساکوف اور ڈینس میتویف شامل ہیں اور اس طرح خلابازوں کی اسٹیشن پر کل تعداد 11 گیارہ ہوچکی تھی۔ دنیا کی یہ پہلی مکمل خلابازی کی مہم دس روز جاری رہی جس میں خلابازوں نے خلاء میں آٹھ دن گزارے اور سائنسی تحقیقی اور کمرشل نوعیت کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا۔

مکمل پرائیویٹ طور پر تحقیق عملے کے ساتھ یہ پہلا مشن ہے جو کہ خلائی اسٹیشن اور اس کی گردش پذیر لیبارٹری پہنچا ہے۔ مشن کے مقاصد میں تجارتی نچلے زمینی مدار (Commercial Low-Eatrh Orbit) یا LEO تجارتی مارکیٹ کو فروغ دینا اور خلائی تحقیق کے لیے ناسا کے ساتھ معاونت میں نمائندگی کرتے ہوئے کاوشیں کرنا ہے جو زیادہ سے زیادہ افراد کی مہمات کی پروازوں کو قابل عمل بنانا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا کہ یہ تیزی کے ساتھ واضح ہوچلا ہے کہ ایکس۔ون کے ذریعے تجارتی خلائی پروازوں کے سنہری دور کا آغاز ہے۔ کارگو سروس اور دیگر عملے کے پروگراموں کے توسط سے اس صنعت میں ناسا کی شراکت داری ہے جو کہ ایک قابل تجارتی خلائی شعبے کی مسلسل ترقی کے لئے ضروری ہے ۔ ایسی آزمائشوں سے ڈیمانڈز بڑھ رہی ہیں جس سے ملک کے اطراف زیادہ اعلیٰ ادائیگی کی ملازمتیں پیدا ہورہی ہیں۔

ناسا اس Ax-1 مشن پروگرام میں آپریشنز کی ذمے داری کا انضمام کرتا ہے جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے خلائی جہاز کے نقطہ نظر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ عملے کے ساتھ آٹھ دنوں تک جاری رہتا ہے اس دوران سائنس، تعلیم اور تجارتی سرگرمیوں میں حصہ بٹایا جاتا ہے۔

خلائی اسٹیشن کے اس پروگرام کے مینجر نے کہا کہ خلائی اسٹیشن ISS ایک حیرت انگیز صلاحیتوں کا حامل مقام ہے اور ناقابل یقین جائے وقوع ہے اور یہاں ہم اپنے قیام کے دوران اپنے سائنسی اور ترقیاتی کاموں کو منظم کرتے ہیں اور اسمیں عملے کے مفاد کو خوش آئند طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خلائی اسٹیشن پر ہونے والی نباتاتی و حیاتیاتی تجربات و نمونوں اور دوسرے ہارڈویئرز کو زمین پر واپس لایا جائے گا۔

انٹرنیشنل اسپیس پروگرام کے مینجرJoel Montalabano نے بتایا، ناسا کے بائیلوجی تجربات، پودے،  Habitat-4،Rodent Reasearch-18 اور Veggie Ponds Validation کے پروجیکٹ کی تحقیق و جستجو کو زمین پر واپسی پر جاری رکھا جائے گا جو کہ ناسا کے اگلے خلائی مشن ’’آرتھیمس‘‘ کے لیے ہیں اور چاند پر جانے سے متعلق اہم ترین ہوںگے۔ ناسا کے LEO کے ترقیاتی پروگراموں کی مینجر انجیلا ہارٹ کہتی ہیں کہ یہ پرائیویٹ خلائی مسافر مشنز ہماری مجموعی کاوشوں کا ایک جز ہے یوں ہم تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں جس میں یہ خلائی عملے اسٹیشن پر نقل وحمل کریں گے۔

مستقبل کے یہ خلائی مسافر خلابازوں کو مضبوط ماحولیاتی نظام کو بہتر کرنے کے لیے نجی فرموں سے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ ناسا کے LEO پروگرام میں تجارتی شرکت داروں اور دیگر سرکاری اداروں اور انڈور دفاتر میں تمام ذمے داران کے ساتھ مل کر کام کیا جارہا ہے۔ یہ شراکت داری کے دائرے کو تبدیل کررہا ہے، نچلے زمینی مدار میں خلائی اسٹیشن کی جانب زیادہ سے زیادہ سیّاحوں کی رسائی ہوسکے گی اور زیادہ سائنسی و کمرشل نوعیت کے مواقع میسّر آسکیں گے۔

ناسا نجی کمپنی ایکسیم کی خدمات کے ساتھ منسلک معاوضہ ادا کررہا جس میں ٹرانسپورٹ کی سپلائیز کے لیے خلائی اسٹیشن جانے اور آنے کے اخراجات شامل ہیں۔

ایکسیم کے خلاباز لیری اور الیگیریا سب سے زیادہ صلاحیتوں کے حامل اور تجربہ کار خلاباز ہیں۔ دوسرے مشن کے ماہر مارک پیتھی اور ایٹن اسٹیب نے ڈی این اے کی سیکوئنس پر کھوج لگائی، برین ڈائنامکس، کارڈیو وسکولر نظام اور ہولو پورٹیشن یا ٹرانسمیٹنگ مکس ریالٹی اور خلاء میں انسانی امیج 360 ڈگری کے ٹیسٹس کیے گئے جب کہ لیری کانر نے صفر کشش ثقل پر یہ کھوج لگانے کی کوشش کی سیلولر عمر بڑھنے اوردل کے خلیات کیسے عمل کرتے ہیںان کے ساتھ Cleve Land Clinic اور Mayo Clinic نے تعاون کیا ہے۔

پیتھی کے ساتھ مانٹریال چلڈرن اسپتال اور کینڈین خلائی ایجنسی نے تعاون کیا تھا جب کہ اسٹیب نے اسرائیل کی خلائی ایجنسی، منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے تجربات کو منظم کیا۔ ایکس۔ ون کو مستقبل کی خلائی پروازوں کے لیے گیم چینجر کہا جارہا ہے۔

اسپیس ایکس کا ڈریگن کُرو۔4 مشن روانگی کے لیے تیار!

ناسا کے کمرشل پروگرام اسپیس ایکس۔ڈریگن کرو۔4 سلسلے کا چوتھا دوری مشن ہے جو مزید چار نئے خلابازوں کو خلائی اسٹیشن پہنچائے گا جہاں وہ اگلے چھ ماہ تک قیام کریں گے اور سائنسی تجربات میں مصروف رہیں گے۔

ناسا کے ان چار خلابازوں میں کِیل لنگرِن) (Kjell Lindgren، بوب ہائینز(Bob Hines)، جسیکا واٹکنز(Jessia Watkins) اور یورپی خلائی ایجنسی کی سمانتھا کرسٹوفوریٹی (Samantha Cristoforetti) شامل ہیں۔ اس بار خاتون خلاباز کی تعداد دو کردی گئی جب کہ پچھلے کمرشل ڈریگن کر و کی تین پروازوں میں ایک ایک خاتون خلاء باز کو موقع دیا گیا تھا۔23 اپریل 2022 ء کو مشن کی روانگی لاؤنچنگ پیڈ 39-A ، ناسا کے کینڈی خلائی مرکز، فلوریڈا سے ہورہی ہے جسے فلیکن۔9 راکٹ سے داغا جائے گا۔ نئے ڈریگن خلائی جہاز کا نام ـ”Freedom” ہے۔

اس نئے کرو۔4 کے فرائض میں کئی ماہ تک سائنسی تجربات کرنا ہے جس میں لیبائیٹری اور خلائی اسٹیشن کی مرمت و دیکھ بھال شامل ہیں۔ لنگرِن اور ہائینز نے کرومشن۔فور کی فروری 2021 ء میں سائن کیا تھا اور تب سے وہ خلائی اسٹیشن پر خدمات کے لیے ٹریننگ کررہے تھے جس میں نئی جنریشن کے انسانی خلائی جہاز اور خلائی اسٹیشن پر کام کرنا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کی خاتون خلاباز کرسٹوفوریٹی نے اس مشن فور کو مارچ 2021 ء میں جوائن کیا جب کہ کرو۔ فور کی چوتھی ممبر کے طور پر جسیکا واٹکنزنومبر 2021ء میں اس کا حصہ بن گئیں۔ لنگرِن ڈریگن کرو۔فور کے خلائی جہاز اور کروفور کے عملے کے کمانڈر ہیں لاؤنچنگ سے لیکر گھر واپسی تک پرواز کے تمام مراحل کی کارکردگی انکی ذمے داری ہے اور وہ عالمی اسٹیشن پر ایکسپیڈیشن۔67 کے فلائیٹ انجنیئر کے طور پر اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ لنگرِن کے 2009 ء میں ان کے خلاباز بننے کے بعد ان کی یہ دوسری خلائی میں انٹری ہے۔

وہ 2015 ء میں 141 دن خلائی اسٹیشن پر بسر کرچکے ہیں۔ لنگرِن نے اس دوران بطور فلائیٹ انجنیئر ایکسپیڈیشن 44 ،45 میں تجربات کیے۔ وہ پہلے ایمرجینسی میڈیسن میں کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے جانسن آپریشنز میں معاونت کی تھی اور خلائی شٹل STS-130 اور ایکسپیڈیشن24 کے لیے کرو سرجن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ لنگرِن Taipe ، تائیوان میں پیدا ہوئے تھے ان کا زیادہ تر بچپن انگلینڈ میں گزرا ہے، جس وقت انہوں نے معاونت کا فریضہ انجام دیا تب تک انہوں نے امریکی ائیر فورس سے گریجویٹ نہیں کیا تھا۔

خلاباز باز بوب ہائیز ڈریگن خلائی جہاز کے پائیلٹ اور کرو۔4 مشن کے سیکنڈ کمانڈر ہیں۔ اسٹیشن و جہاز پر رہتے ہوئے وہ خلائی نظام اور اس کی کارکردگی کے ذمے دار ہوں گے۔

ہائینز ایکسپیڈیشن۔67 کے فلائیٹ انجنیئر کے طور پر مشن کا حصہ ہیں،2017 ء میں بطور خلاباز منتخب ہونے کے بعد سے ان کی پہلی فلائیٹ ہے۔ بوب نے امریکی فضائیہ میں بطور لڑاکا پائیلٹ اور انسٹریکٹر رہتے ہوئے 22 سال خدمات انجام دی ہیں اور اپنے خلابازی سلیکشن سے پہلے وہ جانسن میں تحقیقاتی پائیلٹ تھے۔

خاتون خلاباز جسیکا واٹکنزمشن کی ماہر کے طور پر عملے میں شامل ہیں۔ متحرک لاؤنچ اور پرواز کے دوبارہ داخلے کے وقت کے مراحل، خلائی جہاز کی نگرانی کرنا اور کمانڈر وپائیلٹ کے ساتھ مل کر کام کرنا ان کے فرائض میں شامل ہے۔

خلائی اسٹیشن آئی ایس آئی پر سوار ہونے کے ساتھ ہی وہ ایکسپیڈیشن۔67 کی فلائیٹ انجینئر بن جائیں گیں۔ جسیکا Lafayette” ” میں پلی بڑھی ہیں جو کہ کولورَاڈو، امریکا میں واقع ہے۔ انہوں نے اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی، “Palo Alto” یونیورسٹی کیلی فورینا اور یونیورسٹی آف کیلی فورینا۔ لاس اینجلز سے بطور ماہرارضیات تعلیم حاصل کی ہے۔ جسیکا نے مریخ کی سطح کا مطالعہ کیا ہے اور ناسا کی جیٹ حرکت (Jet propulsion) کی لیبارٹری، پیساڈینا، کیلی فورینا کی ٹیم میں معاونت کی، یہ مریخ کی سائنس لیبارٹری ـ’’رورکیوروسٹی‘‘ پر کام کررہی تھیں۔ وہ 2017 ء میں ناسا کی خلاباز کے طور پر منتخب ہوئیں اور یہ ان کا پہلا خلائی مشن ہے۔

مشن فور ٹیم کی دوسری خاتون مشن کی ماہر خلاباز سمانتھا کرسٹو فوریٹی ہیں جن کا تعلق اٹلی سے ہے۔ وہ بھی لاؤنچنگ اور پرواز کے واپسی کے عمل کے دوران خلائی جہاز کی نگرانی کریں گی اور ایکسپیڈیشن۔67 کی فلائیٹ انجنیئر ہیں۔2015 ء میں ان کی پچھلی پرواز ایکسپیڈیشن ۔43 ،44 میں بھی وہ فلائیٹ انجنیئر تھیں اور اس دوران سمانتھا نے اسٹیشن پر پانچ ماہ گزارے تھے۔

اس کے بعد سے یہ ان کا دوسرا خلائی مشن ہے۔ میلان، اٹلی میں پیدا ہونے والی کرسٹوفوریٹی نے یورپی خلائی ایجنسی میں 2009 ء میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ پہلے اٹلی کی فضائیہ میں لڑاکا پائیلٹ رہ چکی ہیں۔2019 ء میں انہوں نے بطور ’’کمانڈر‘‘ خدمات انجام دیں، یہ ناسا کا ’’اسٹریم انوائرمنٹ مشن آپریشن ‘‘ تھا،کرسٹوفوریٹی نے اس کے لیے قائم “Aquarius” میں دس روز قیام کیا، ایکیوریئس دنیا کا واحد زیرِزمین سمندری تحقیق اسٹیشن ہے۔ چاروں خلاباز اب قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

اسپیس ایکس کرو۔4 کے ارکان خلائی اسٹیشن پر پہنچ کر وہاں پر موجود پچھلے کروکے عملے اسپیس ایکس کر و۔3 کو ریلیز کریں گے جو کہ گذشتہ چھ ماہ سے خلائی اسٹیشن پرڈیوٹیاں کر رہے ہیں۔ اسپیس ایکس ڈریگن۔کرو۔3 ،10 نومبر2021 ء کو بھیجا گیا تھا جس کی اگلے ماہ مئی میں واپسی ہورہی ہے۔ عملے کے ارکان میں کمانڈر ٹام مارش برن، انڈین نژاد امریکی فلائیٹ انجنیئر راجا چاری، یورپی ایجنسی کے جرمن خلاباز میتھائس مورر اور امریکی خاتون فلائیٹ انجنیئر کیلا بیرن شامل ہیں جو کہ فلیش ڈاؤن کے ذریعے واپس زمین پر آئیں گے۔

ڈریگن کرو۔ تھری نے اسٹیشن پر رہ جو مشاہدات کیے ان میں پودے پر تجربات اور خشک سالی سے مزاحمت والے کاٹن کے پودوں کا تجزیہ کیا، کرو ممبران نے ایک نئی ڈیوائس کا مطالعہ بھی کیا کہ صفر کشش ثقل پر آگ سے کیسے حفاظت کرتی ہے، خلاء میں آثارِقدیمہ پر تجربات ہوئے اور شمسی توانائی کی اِیریز کو اپ گریڈ کرنے کے لیے خلائی چہل قدمیاں کی گئیں۔

نیا ڈریگن کرو۔فور کا عملہ ایکسپیڈیشن۔67 کو جاری رکھتے ہوئے اسٹیشن پر سائنس، صحت، ٹیکنالوجیز اور پودوں کی سائنس جیسے شعبوں میں نت نئی اور دل چسپ تحقیقات کرے گا تاکہ زمین کے نچلے مدار سے باہر نئے انسانی وسائل تلاش کیے جاسکیں جن سے زمین پر زندگی کو مفید فوائد حاصل ہوں۔ ان تجربات میں مدافعتی نظام کی صلاحیت بڑھانے، نامیاتی مواد کے ٹھوس متبادل اور مائیکرو گریویٹی کے لمبے عرصے کے دوران انسانی دل کی دھڑکنوں پر اس کے اثرات کا مطالعہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ ان 200 تجربات میں سے کچھ ہیں جو کہ صفر کشش ثقل میں کیے جارہے ہیں۔

ایک سب سے ضروری اور اہم انسانی صحت کے حوالے سے تحقیق انسانی آنکھ کی بینائی کے لیے لازم جز آنکھ کا پردہ یا ریٹناRetina) ( ہے۔ ریٹنا کے لیے پروٹین پر مبنی مصنوعی پردے کی تیاری، صفر کشش کی تجربہ گاہ میں مصنوعی پردے ’’ریٹناامپلانٹس‘‘ کی تیاری اور اس کی جانچ پرتال کرنا ہے۔ اس تحقیق کی کام یابی کے لیے جہاں بڑی امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں کیوںکہ خلاء میں رہتے ہوئے اس کی پیداواری صلاحیتوں کو کئی گنا بہتر بنانا ممکن ہے جس سے یقینی طور پر بنی نوع انسان کی نابینا آبادی کو بصارت واپس لوٹائی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں