mobile logo 26

  مہنگائی۔سب سے بڑا مسئلہ 

  مہنگائی۔سب سے بڑا مسئلہ 

آج کا سب سے بڑا مسئلہ جان لیوا مہنگائی ہے جو ہر نئے دن کے ساتھ ایک نیا ستم ڈھا رہی ہے اس وقت حکومت کے پاس کوئی ایسا پلان نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا کوئی علاج ہوگا ابھی تو حکومت کو آئی ایم ایف سے پروگرام لینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور اسی آئی ایم ایف کی وجہ سے ہی مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئے روز آئی ایم ایف کے دباؤ پر بڑھائی جا رہی ہیں اور پٹرول مہنگا ہونے سے تمام اشیاء  عوام کی قوت خرید سے نکلتی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے مہنگائی  کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا گیا شہرشہر مظاہرے ہوئے جن میں کارکنوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی اگرچہ مسلم لیگ نون کا یہ کہنا ہے یہ سب کچھ خود پی ٹی آئی کا کیا دھرا ہے، نہ وہ اتنا سخت آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتی اور نہ ملک کو یہ دن دیکھنے پڑتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ملک کی باگ ڈور مسلم لیگ نون کے ہاتھ میں ہے اور یہ ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے کہ ملک کو اس منجدھار  سے نکالے مگر حکومت ہے کہ کسی ایسے پلان سے عاری نظر آتی ہے جو مہنگائی کے اس بے قابو جن کو بوتل میں بند کر سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے جو حالات ہیں

ان میں سخت فیصلوں کی ضرورت ہے مگر کیا یہ سخت فیصلے صرف غریبوں پر ہی لاگو ہونے چاہئیں؟  پٹرول اور ڈیزل جیسی پروڈکٹ مہنگی کر کے اربوں روپے نکلوائے تو جا سکتے ہیں مگر اس کا اثر صرف غریب طبقے پر ہوتا ہے آج کل قومی اسمبلی سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ارکان اسمبلی کو اپنی تنخواہیں اور مراعات  کچھ عرصے کے لیے معطل کر دینی چاہیئں مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ایسا کوئی فیصلہ شاید کبھی نہ ہو سکے کیونکہ جنہیں لینے کی عادت پڑ گئی ہے وہ کبھی کچھ دینے کو تیار نہیں ہوں گے اربوں روپے کی سرکاری مراعات  اب بھی جاری ہیں لاکھوں لیٹر پیٹرول سرکاری طور پر مفت فراہم کیا جا رہا ہے صرف یہی نہیں بلکہ دیگر سرکاری سہولتوں کی مد میں بھی موجودہ بجٹ کے اندر اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔جہاں تک ٹیکسوں کا تعلق ہے تو حکومت اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کر رہی ہے براہ راست ٹیکس نافذ کر کے اربوں روپے حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر کسی حکومت میں اتنی جرّات نہیں کہ وہ ایسے جراتمندانہ فیصلے کر سکے خود اسمبلی میں موجود ارکان اسمبلی ٹیکس دیتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، ان کے ٹیکس گوشوارے اٹھا کر دیکھے جائیں تو وہ کسی عام تنخواہ دار ملازم سے بھی کم ہوتے ہیں جب تک ہم اپنی سمت متعین نہیں کریں گے اور ایک قوم بن کر نہیں سوچیں گے اس وقت تک ہم مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکتے۔ اس وقت ملک میں محروم اور مراعات یافتہ طبقوں کے درمیان واضح تقسیم نظر آتی ہے ایک طرف کروڑوں محروم اور مجبور عوام ہیں اور دوسری طرف چند فیصد اشرافیہ والے ہیں جس نے تمام وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا جمہوری نظام عوام کے بارے میں سوچنے پر اکساتا ہے مگر بدقسمتی سے ہماری جمہوریت اس عمل سے بھی محروم نظر آتی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں متوسط  طبقہ ختم ہو کر رہ گیا ہے یہی طبقہ کسی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔اسی پر معیشت چلتی ہے اگر اس وقت حالات یہ ہیں کہ ایک طرف انتہائی امیر طبقہ ہے دوسری طرف انتہائی غریب طبقہ ہے تو یہ صورتحال معاشرے کے استحکام کے لیے بھی خطرناک ہے اتنا بڑا تفاوت سنگین مسائل کو جنم دیتا ہے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے سنجیدہ اور دورس  فیصلوں کی ضرورت ہے مگر اس وقت حالات یہ ہیں کہ سیاسی طور پر واضح تقسیم کی وجہ سے کوئی لائحہ عمل بنتا نظر نہیں آ رہا۔یہ وہ موقع ہے کہ جب تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہیئں اور ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ایک قومی لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ خاص طور پر معیشت کے معاملے میں اتفاق رائے بہت ضروری ہے جب تک میثاق معیشت نہیں ہوتا اور طویل عرصے کی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی اس صورت حال پر قابو نہیں پایا جا سکتا اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف نے میثاق معیشت کی پیشکش کی ہے مگر موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کا اس نکتہ پر اکٹھے ہونا خاص طور پر تحریک انصاف کا موجودہ حکومت سے کسی قسم کا رابطہ ناممکن نظر آتا ہے، اس صورتحال میں ملک کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے فی الوقت اس کا جواب کسی کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔

موجودہ سیاسی سسٹم پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں ابھی تک کسی کو بھی یقین نہیں ہے یہ نظام اور یہ بندوبست کب تک چلے گا اسی بے یقینی کی وجہ سے حالات خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں اس صورتحال سے نکلنے کا سب سے آسان حل تو یہی ہے ک فورا انتخابات کی طرف جایا جائے  نیا مینڈیٹ لے کر نئی حکومت معرض وجود میں آئے جو ان مسائل کا حل نکالے مشکل فیصلوں کے باوجود اگر عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملتااور معیشت کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی تو اس سارے نظام کا کیا فائدہ۔ ہر  بات کی ذمہ داری عمران خان پر ڈال کر آخر کب تک کام چلایا جا سکتا ہے اس حکومت کو معرض وجود میں آئے دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اس دوران کوئی نہ کوئی راہ تو متعین ہونی چاہیے تھی مگر اب بھی بے سمتی کا سفر جاری ہے جس کے منفی اثرات اب اس قدر زیادہ مرتب ہو رہے ہیں کہ ایک طرف شہروں میں جرائم بڑھ گئے ہیں اور دوسری طرف  خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے یہ ایسی صورتحال نہیں ہے کہ جس سے نظریں بچا کر گزرا جا سکے بلکہ یہ ایک ایسا دشوار مرحلہ ہے جس سے گزرنے کے لیے قومی یکسوئی  کی ضرورت ہے کیا ہمارے سیاست دان ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ہمارے دیگر اسٹیک ہولڈرز ایک نقطے پر اکٹھے ہوں گے کہ ہم نے قوم کو تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے نکالنا ہے، اس وقت آئے روز  یہ بات ہوتی ہے کہ پاکستان کو سری لنکا بننے سے بچانا ہے کیا اس سے بچنے کا طریقہ صرف یہی ہے عوام کو مہنگائی کی نذر کر دیا جائے یا اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے طرز حکمرانی اور  طرز زندگی کو تبدیل کریں اس سوال کا جواب موجودہ حالات میں سنجیدگی سے تلاش کرنا ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں