لباس پر بَیج کی طرح نصب ہونے والا کووڈ سینسر - ایکسپریس اردو 31

لباس پر بَیج کی طرح نصب ہونے والا کووڈ سینسر – ایکسپریس اردو

تصویر میں دکھائی دینے والا کم خرچ سینسر لباس پر لگا کر کسی بھی جگہ پر سارس کووٹو وائرس کی آسانی سے شناخت کی جاسکتی ہے۔ فوٹو: ییل یونیورسٹی

تصویر میں دکھائی دینے والا کم خرچ سینسر لباس پر لگا کر کسی بھی جگہ پر سارس کووٹو وائرس کی آسانی سے شناخت کی جاسکتی ہے۔ فوٹو: ییل یونیورسٹی

 نیویارک: تصور کیجئے کہ آپ کے لباس پر نصب ایک چھوٹا سی بَیج نما سینسر نہ صرف اطراف کی ہوا کو محسوس کرسکتا ہے بلکہ سارس کوو2 سے بھرپور ماحول سے بھی خبردار کرسکتا ہے۔

مشہور ییل یونیورسٹی نے اس چھوٹے سے سینسر کو ’فریش ایئرکلپ‘ کا نام دیا ہے جو بالخصوص چاردیواری کے اندر مہلک وائرس سے فوری طور پر خبردار کرے گا۔ یہ ہلکا پھلکا سسٹم کسی دقت کے بغیرلباس سے چپک سکتا ہے اور اطراف میں اڑنے والے سارس کوو2 وائرس کو فوری طور پر محسوس کرلیتا ہے۔

سستے اور ہلکے پھلکے آلے کو کالر سے بھی جوڑا جاسکتا ہے جو آپ کے منہ اور ناک کی اطراف میں پرواز کرنے والے سارس کوو2 وائرس کو شناخت کرسکتا ہے۔

اس پر پولی ڈائی میتھائل سائلوکسین کی تہہ چڑھائی گئی ہے جو وائرس کو جمع کرتی رہتی ہے اور بعد میں اسے تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔ ابتدائی تجربات میں یہ ننھا منا سینسر بہت ہی مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اس کے لیے خاص ماحول میں کام کرنے والے 62 رضاکاروں کے لباس پر اسے لگایا گیا ہے۔ پانچ روز کے بعد جب بَیج سینسر کو تجربہ گاہ میں جانچا گیا تو ان میں سے پانچ میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوگئی۔

اس نظام کو بازاروں اور ہوٹلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اِن ڈور کھانے کے مقامات سے اس نے دو مثبت کیس شناخت بھی کیے ہیں۔ اس طرح بہت درستگی کے ساتھ سارس کوو2 وائرس کو ماحول میں دیکھا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں