قرآن اور ٹیلی پورٹیشن  23

قرآن اور ٹیلی پورٹیشن 

قرآن اور ٹیلی پورٹیشن 

مچیو کاکو کا تعلق امریکہ سے ہے اور وہ مسٹر پیرایل یونیورس کے نام سے پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔ مچیو کاکو سٹی کالج آف نیویارک میں فزکس کے پروفیسر ہیں اور کائنات کے رازوں کو جاننے کے لیے انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں Physics of the Impossible, The Physics of the Future, The Future of the Mind اور The God Equation شامل ہیں۔ ایک وقت تھا جب مچیو کاکو پر لوگ ہنسا کرتے تھے کیونکہ اس کا یقین تھا کہ آنے والے وقت میں ٹائم ٹر یول، پیرلل یونیورس اورہیو من ٹیلی پور ٹیشن بھی ممکن ہوجائے گا۔ ٹیلی پورٹیشن کا مطلب کسی بھی چیز کو اُس کے مقام سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا یعنی پہلے مقام سے غائب ہوکر کسی دوسرے مقام پر ظاہر ہوجانا ہے۔ 1966 میں ایک فکشن سیریل    سٹا ر ٹریک فلم چلی جس کو لوگوں نے بہت پسند کیا جس میں یہ مناظر دیکھائے گئے کہ فلم کا کیپٹن بٹن دباکر سیکنڈز میں ایک سیارے سے دوسرے سیارے پر پہنچ جاتا ہے۔

اس فلم کے ذریعے مصنف Roberto Orci  نے پہلی بار ٹیلی پورٹیشن کا نظریہ پیش کیا۔ اگر سائنس سے تعلق رکھنے والی فلموں اور ڈراموں کو دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ جو چیز ان میں دکھائی جاتی ہے وہ ٹیکنالوجی یا سوچ ہماری عملی دنیا میں ظاہر ہوجاتی ہے چاہے وہ اُڑنے والی گاڑی ہو یا پھر انسانوں کی طرح سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے والی مشین ہی کیوں نہ ہو۔ مچیو کاکو نے جب یہ نظریہ پیش کیا کہ کسی بھی مادے کو ہم لمحے بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں تو لوگوں نے اُس کا مذاق اُڑایا مگر ستمبر 2012 میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم جس میں آسٹریلیا، کینڈا اور جرمنی کے لوگ شامل تھے،مل کر روشنی کے سب سے چھوٹے ذرے فوٹو نز کو ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک جس کا فاصلہ 143 کلومیٹر تھا منتقل کیا تو لوگ اس پر حیران و ششدر رہ گئے۔

بعد ازاں جب  پروفیسر مچیو کاکو نے مشین کے ذریعے” ایٹم”  ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں ٹیلی پورٹ کردیا تو لوگ پروفیسر کاکو کے نظریہ ٹیلی پو ٹیشن کی صداقت تسیلم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پروفیسر مچیو کاکو کے مطابق بہت جلد ایک وقت آنے والا ہے جب ہم کسی بھی مادے کو چند لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل کر سکیں گیااور وہ وقت بھی دور نہیں جب انسان ٹیلی پورٹ ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا کر یں گے۔ ٹیلی پورٹیشن کے نظریہ کی تو ثیق کو قرآن کی سورۃ النمل آیات نمبر 27سے 40 میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کے واقعہ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔واقعہ یوں ہے جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کے ملک کی طرف سفر کر رہی تھی تو حضرت سلیمانؑ نے اپنے اہل دربار سے ملکہ سبا کا تخت جو انتہائی قیمتی، خوبصورت اور سونے کا بنا ہوا جس کے پائے،جواہر اور موتیوں سے بنے ہو ئے تھے اور اُس کی لمبائی اَسی ہاتھ اور چوڑائی چالیس ہاتھ تھی جو کہ تقریباََ 1500 میل کے فاصلے پر تھا۔حضرت سلیمانؑ نے کہا، اے اہل دربار! تم میں سے کون ہے جو اس عورت کا تخت ان کے تابعدار بن کر آنے سے پہلے ہی میرے پاس لے آئے؟ ایک قوی ہیکل جن نے کہا، آپؑ اپنی جگہ سے اُٹھے بھی نہ ہوں گے کہ میں اُس سے پہلے ہی وہ تحت آپؑ کے پاس لے آؤں گا، اور کہنے لگا یقین رکھیے کہ میں اس کام کی پوری طاقت رکھتاہوں، امانت دار بھی ہوں۔

پھر جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اُٹھا، میں آپؑ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اُسے آپؑ کے پاس لے آتا ہوں۔ چنانچہ جب سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا، یہ میرے پروردگار کا فضل ہے۔ اس شخص کا نام آصف بن برخیا تھا اوراس نے آپؑ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت کو آپؑ کے سامنے حاضر کردیا۔ یہ سارا واقعہ ٹیلی پو رٹیشن کے اس نظریہ کی تصدیق و تا ئید کرتا ہے کہ کسی بھی مادہ چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔مگر ہائے افسوس ہم نے قرآن پاک کی تعلیمات پر کبھی صد ق ِدل سے غور ہی نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کا ئنات کے بارے میں تحقیق و جستجو کو اپنامشن بنایا۔فرانس کے مشہور ڈاکٹر موریس بکائی نے تحقیق کے بعد وا ضح کیا “کہ جد ید سا ئنسی دریا فتوں کے بعد تما م بڑے بڑے مذاہب غیر معتبر ثا بت ہو چکے ہیں،صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کا جدید سائنسی دریافتوں سے کو ئی ٹکراؤ نہیں “۔ سائنس دانوں کا یہ یقین اب پختہ ہوتا جارہا ہے کہ ٹائم ٹر یول، پیرلل یونیورس اورہیو من ٹیلی پور ٹیشن بھی آنے والے وقت میں ممکن ہوجائے گا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب موبائل فون کی جگہ میموری  چِپ اور کمپیو ٹر کی جگہ ڈرون مشین اور روبو ٹس عام استعمال ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیااُس وقت کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہو گی اور ہم اُس وقت کس محرومی اور بے چارگی کی سیڑھی پر کھڑے دنیا بدلنے کا نقشہ دیکھ رہے ہو ں گے!

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں