غذائیں...جو آپ کو امراض نسواں سے محفوظ رکھیں - ایکسپریس اردو 32

غذائیں…جو آپ کو امراض نسواں سے محفوظ رکھیں – ایکسپریس اردو

غذائی ح؛ :غذائیت سے بھرپور غذا ورم رحم کے مریضوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ فوٹو : فائل

غذائی ح؛ :غذائیت سے بھرپور غذا ورم رحم کے مریضوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ فوٹو : فائل

 (نیوٹریشنسٹ)

کیا اِن دنوں تھکاوٹ آپ کی پریشانی کی ایک مستقل وجہ بن چکی ہے ؟کہیں لیکوریا آپ کو اندر ہی اندر کھوکھلا تو نہیں کر رہا؟کیا مخصوص ایام میں زیادہ خون بہنا آپ کی روز مرہ کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے؟کیا برتاؤ میں تبدیلی (موڈ سونگز)آپ کی پریشانیوں کو بڑھا رہی ہے؟ تو پھر آپ کو بھرپور توجہ دینی ہو گی۔

کیوں کہ آپ امراض نسواں یا نسوانی پیچیدگیوں کا شکار ہو رہی ہیں۔ تاہم یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر مرض کا علاج دوا ہی ہو، ہم اپنی روزمرہ کی زندگی اور غذا میں مثبت تبدیلیاں لا کر بھی بہت ساری بیماریوںکو شکست دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد امراض نسواں غیر صحت مندانہ طرز زندگی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور انہیں غذاء کے استعمال میں مثبت تبدیلیاں لا کر روکا جا سکتا ہے۔ لہذا یہاں ہم آپ کو خواتین کے چند امراض اور ان کے غذائی حل کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں۔

ورم درونِ رحم: یہ اس وقت ہوتا ہے جب رحم کی جلد کے ساتھ پایا جانے والا ٹشو(اینڈو میٹریم)جس کے اندر دوسرے حصوں (جیسے بیضے، فلاپین ٹیوب اور مثانے یا آنتوں کے اندر یا اس کے آس پاس) ظاہر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خواتین کے لیے کافی عام مسئلہ ہے۔ اس سے بنیادی طور پر لڑکیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ورم درون رحم کی اہم علامات میں پیٹ میں درد اور قربت کے تعلق کے دوران تکلیف ہے۔ یہ تکلیف کمزوری کا باعث بنتی ہے جو خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔

غذائی حل:غذائیت سے بھرپور غذا ورم رحم کے مریضوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ خصوصاَایسی غذا جس میں اومیگا تھری کی مقدار زیادہ ہوجیسے تخم ملنگا، ہرے پتوں والی سبزیاں، مچھلی اور مچھلی کاتیل، السی کے بیج اور پھل خصوصاَانگور وغیرہ۔

حیض سے پہلے کا مجموعہ علامات (پی ایم ایس): حیض سے پہلے عورتوں کے مزاج میں تبدیلی آنا بظاہر عام سی بات ہے جسے عام طور پر موڈ سونگز کا نام دیا جاتا ہے لیکن کیا یہ مزاج کی تبدیلی اتنی ہی غیر ضروری چیز ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے؟ہر گز نہیں۔ بظاہر عام نظر آنے والی یہ مزاج کی تبدیلی عورت کی جسمانی اور نفسیاتی صحت کو کئی طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے۔

پی ایم ایس دنیا بھر میں اسی فیصد سے زیادہ خواتین کو متاثر کرتا ہے۔ مزاج کی یہ تبدیلی حیض کے پانچ سے ساتھ دن پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق عام طور پر حیض شروع ہونے سے پہلے جنسی ہارمون اور سیروٹونن کی سطحوں میں تبدیلی سے ہوتاہے اور ہارمونز میں کسی بھی قسم کا عدم توازن اضطرابی حملوں، مزاج میں تبدیلی اور چڑچڑاپن کا باعث بن سکتا ہے۔

غذائی حل: حیض سے پہلے اپنی غذائی عادات میں تبدیلی لانے سے آپ ذہنی دباؤ، سر درد اور شدید قسم کے چڑ چڑے پن سے خود کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ حیض سے پہلے اپنی خوراک میں کیلشیم سے بھرپور غذائیں، ادرک ، ناریل کے تیل، فروٹ اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کردیں جبکہ نمک وغیرہ کا استعمال کم کر دیں۔ پانی زیادہ سے زیادہ پئیں اور پرسکون رہیں۔

پولی سسٹک سنڈروم: یہ ایک انتہائی گھمبیر مسئلہ ہے جو خواتین کی صحت کو بہت بری طرح سے متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے عورت کی حاملہ ہونے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کی عمومی علامات میں جسم پر بالوں کی غیر ضروری نشوونما، وزن کا بڑھنا، چہرے پر کیل مہاسوں کا ظاہر ہونا، حمل کا نہ ٹھہرنا اور خون میں انسولین کی مقدار بڑھنا شامل ہے۔

غذائی حل:پی ایس او ہارمونز کا عدم توازن ہے ، اگر خواتین اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں زیادہ مقدار میں شامل کر لیں اور تلی ہوئی اشیاء سے پر ہیز کریں تو وہ بہت حد تک اس بیماری سے بچ سکتی ہیں۔

لیکوریا: یہ خواتین میں عام پائی جانے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ عموماً خواتین اس بیماری کو سنجیدہ نہیں لیتیں لیکن لیکوریا اندر ہی اندر ان کے جسم کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس بیماری میں عورتوں کے رحم سے سفیدی یا زردی مائل پانی آتا ہے۔ اگر اس رطوبت یا پانی کی مقدار بڑھ جائے تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ لیکوریاکے باعث خواتین اعصابی کمزوری، ریڑھ کی ہڈی کا درد، سر درد، سستی اور ہڈیوں کی کمزوری کا شکار ہو سکتی ہیں۔

غذائی حل: لیکوریا کی شکار خواتین اپنی روزمرہ کی روٹین میں شہد ، دودھ اور دہی کا استعمال کریں۔ روزانہ دو کیلے کھائیں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

الغرض ہماری روزمرہ کی خوراک انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اس کے ذریعے ہم اپنے جسم کو وہ تمام ضروری غذائی اجزاء مہیا کر سکتے ہیں جو اچھی صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ غذائیں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں اور جسمانی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پر کشش وضع قطع بھی فراہم کرتی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں