صاف دریا کیوں ضروری ہیں؟ ہم دریا کیسے صاف کر سکتے ہیں؟ - ایکسپریس اردو 26

صاف دریا کیوں ضروری ہیں؟ ہم دریا کیسے صاف کر سکتے ہیں؟ – ایکسپریس اردو

ہمارے دریا اور نہریں گندگی، آلائش اور آلودگی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔فوٹو : فائل

ہمارے دریا اور نہریں گندگی، آلائش اور آلودگی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔فوٹو : فائل

دریا انسانی زندگی کا اہم ترین حصہ ہیں، مگر اس بنیادی حقیقت سے آگہی سب کی نہیں۔

ثبوت یہ ہے کہ ہمارے دریا اور نہریں گندگی، آلائش اور آلودگی کا منظر پیش کر رہی ہیں اور بدبو یوں جیسے یہ کوئی گندگی کی ذخیرہ گاہیں ہیں۔ دریاؤں میں گندگی نظر آنا، صرف بندنما منظر نہیں بلکہ یہ ممکنہ طور پر ہمارے پینے کے پانی کی تباہی اور فطری حیات کی زندگیوں کو خطرات کی بھی آئینہ دار ہے۔ یہ معاملہ اتنا سنجیدہ، حساس اور پیچیدہ ہے کہ کسی گلی میں پھینکا جانے والا کچرہ بھی بالآخر دریاؤں اور نہروں میں پہنچنے والے کوڑاکرکٹ کا حصہ بنتا ہے۔

دریا پینے کے پانی کا منبع

شہروں، قصبوں اور دیہات میں قریب تمام انسانی آبادی دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ ہمارے گھروں کے نلوں تک پانی پہنچنے سے قبل تاہم صفائی کے عمل سے گزرتا ہے۔ تاہم اگر ہمارے دریا آلودہ رہے، تو پھر پانی کبھی اتنا صاف نہیں ہو پائے گا کہ اسے انسانی ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے دریائی نظاموں کی حفاظت کریں اور انہیں آلودگی سے بچائیں، تاکہ ہمارے گھروں کے نلوں تک پانی پہنچتا رہے۔

دریا جانوروں اور انواع حیات کا مسکن

دریا سینکڑوں جانورں اور دیگر حیات کی آماج گاہ ہیں۔ گو کہ دریاؤں میں بسنے والی آبی حیات کی زیادہ تر اقسام ان دریاؤں میں بہائے جانے والے کچرے، کوڑے، زہریلے مواد اور کیمیائی مادوں کی وجہ سے پہلے ہی بقا کے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ان میں کچھ حیاتی انواع ایسی ہیں، جنہیں شاید اب صرف اس صورت میں بچایا جا سکتا ہے کہ جب ہم اپنے دریاؤں کو صاف کریں۔

صاف دریا، سماجی اور اقتصادی ترقی کا راستہ

صاف اور صحت مند دریا انسانی صحت کو لاحق خطرات کو کم اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار کے حامل ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر کم گندگی اور فطرت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں کمی سے، یہ کنارے صاف اور محفوظ گزرگاہیں اور واکنگ ٹریکس میں تبدیل ہوتے ہیں، جہاں لوگ چل سکتے ہیں اور اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ صاف ستھرے کناروں اور صحت مند سرگرمیوں کے ذریعے سیاحوں کو بھی ان علاقوں کی جانب متوجہ کیا جا سکتا ہے، جو اس علاقے کے باسیوں کی اقتصادی حالت کی بہتری میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

شہری کوڑا اور صنعتی فضلہ

دریاؤں کو شہری کوڑاکرکٹ اور پلاسٹک کے علاوہ صنعتوں کی جانب سے بہائے جانے والے فضلے سے بھی شدید خطرات ہیں۔ صنعتی فضلہ ایسے کیمیائی مادوں کا حامل ہوتا ہے، جو نہ صرف پانی کو ناقابل استعمال بنا دیتے ہیں بلکہ اس پانی پر انحصار کرنے والی تمام تر آبی و جنگلی حیات کی بقا کو بھی خطرات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ پھر یہ صنعتی فضلہ آسانی سے پانی سے الگ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ صنعتی فضلے کو پانی میں بہانے کی بجائے خصوصی طریقوں سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے، تاکہ وہ دریاؤں، نہروں یا زیرزمین پانی کی تباہی کا باعث نہ بنے۔

آپ دریا کیسے صاف کر سکتے ہیں؟

صاف دریائی پانی اور بہاؤ ہمارے لیے صاف پانی اور بہتر زندگی کے علاوہ جنگلی اور آبی حیات کی بقا کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ صاف ستھرے دریا خود ایک خوب صورت فطری منظر کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں حکومتی اقدامات پر بھروسہ کرنا یا بڑی بڑی تنظیموں کی مہموں کا انتظار کرنا ہرگز ضروری نہیں بلکہ تمام افراد کو خود آگے بڑھ کر دریاؤں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ حکومتوں اور فطرت سے جڑی تنظیموں پر دباؤ بنے لیکن آپ خود یا کوئی کمیونٹی اگر اپنی مدد آپ کے تحت صفائی مہم کا آغاز کرنے نکلیں، تو اس سلسلے میں کچھ بنیادی چیزیں مدنظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

ہاتھوں میں ربر کے دستانے پہنیے

اگر آپ کسی ایسی جگہ پر دریا کی صفائی کے کام کا آغاز کر رہے ہیں، جہاں دریائی پانی میں کیمیائی مواد کی بھاری مقدار موجود ہو سکتی ہے، تو ایسے میں ننگے ہاتھوں پانی سے پلاسٹک یا دیگر نظر آنے والا مواد نکالنے سے قبل انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنے آپ کو محفوظ بنائیں۔

اس سلسلے میں ربر کے موٹے دستانے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ گندگی، کوڑے اور آلائشوں وغیرہ کو دریا سے نکالنے کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ آپ دریا کے کناروں پر نہ رکھ چھوڑیں بلکہ انہیں باقاعدہ ڈبوں میں ڈالیں۔ ان ڈبوں پر ’ بائیو ہیزرڈ‘ یا ’ خطرناک مواد‘ تحریر کیجیے تاکہ کوئی دوسرا بے خبری میں اسے نہ چھوئے۔

پھر یہ جمع کردہ کوڑا کرکٹ یا دیگر مواد کسی منظم انداز سے تلف کیجیے، جو ماحول دوست طریقہ ہو۔ زیادہ مناسب ہو گا کہ آپ ایسے مواد کو ٹھکانے لگانے والی کسی ماحول دوست تنظیم سے رابطہ کریں یا اسے اپنی اس مہم کا حصہ بنائیں۔ دوسری صورت میں آپ کا دریا سے نکالا گیا کچرہ اور مواد، دوبارہ سے دریا ہی میں پہنچ جانے کا خطرہ موجود رہے گا۔

دریا کنارے پارک

دریائی آلودگی اب جس نہج پر ہے، وہاں چھوٹے سے چھوٹا قدم بھی نہ صرف مددگار ہے بلکہ اس سے ماحول کے اعتبار سے مجموعی عوامی شعور میں اضافے کا پیغام بھی ملتا ہے۔ دریا کے کناروں کی صفائی میں ان پارکوں اور پکنک پوائنٹس کو ضرور یاد رکھیے، جہاں لوگ سیرو تفریح کے لیے آتے ہیں، تاہم جانے سے قبل وہاں پلاسٹک سمیت بہت سا کوڑا کرکٹ چھوڑ جاتے ہیں۔ ان تمام مقامات پر صفائی کے ساتھ ساتھ آئندہ ماحول دوست روش اپنانے کے پیغامات اور یاددہانی کے اشارے نہایت ضروری ہیں۔

کچرے کے لیے ڈبے

دریا کے کنارے پر جس جس حصے کی صفائی کی جائے، وہاں کچرے کے ڈبوں کا بندوبست کیا جائے۔ صفائی مہم کرنے یا ایک بار کنارے کے کسی حصے کو صاف کر دینے سے بات نہیں بنے گی۔ بلکہ وہاں کچرے کے ڈبے لگانے اور کچرے کو یہاں وہاں پھینکنے کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے شعور و آگہی میں اضافے کی روش اپنانا بھی ضروری ہے۔

مہم کیسے شروع کی جائے؟

ظاہر ہے دریا کے کنارے کی صفائی کا کام کوئی ایک فرد نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے سوشل میڈیا پر دریا کی صفائی کا کوئی ایونٹ ترتیب دیا جا سکتا ہے، جس میں اپنے علاقے کے لوگوں یا کمیونٹی کی شرکت کا راستہ کھولا جائے۔ اس میں خاندان اور دوست احباب کو شامل کیا جائے اور پھر دیگر لوگوں کو اس ایونٹ کا حصہ بنایا جائے۔ ایسے کسی بھی ایونٹ کے لیے مقامی حکومت اور حکام کے علاوہ ماحول دوست تنظیموں کو بھی شامل کیا جائے، تو صفائی کا ایونٹ اور بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ ڈی ڈبلیو )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں