سینئر صحافی سید طلعت حسین نے وزیر کیلئے روٹی لینے آنے والے پروٹوکول کو آڑے ہاتھوں لے لیا کھری کھری سنا ڈالیں  32

سینئر صحافی سید طلعت حسین نے وزیر کیلئے روٹی لینے آنے والے پروٹوکول کو آڑے ہاتھوں لے لیا کھری کھری سنا ڈالیں 

سینئر صحافی سید طلعت حسین نے وزیر کیلئے روٹی لینے آنے والے پروٹوکول کو آڑے …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )عوام کیلئے مہنگے پیٹرول اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ایک وقت کی روٹی کھانا مشکل ہو گیا ہے تو دوسری جانب عوام کو پیٹ پر پتھر باندھنے کے مشورے دینے والے وزیر سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جس کا ایک نمونہ سینئر صحافی سید طلعت حسین سامنے لے آئے ہیں۔

عوام کیلئے اکثر مشکلات سڑکوں پر دیکھنے کو اس وقت ملتی ہے جب کسی وزیر یا بڑے عہدیدار کے گزرنے کیلئے سڑکوں کو بلاک کیا جاتاہے لیکن آپ کو جان کر شدید حیرت ہو گی کہ وزیر کیلئے ریسٹورنٹ سے روٹی لانے کیلئے بھاری پروٹوکول کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس میں متعدد گاڑیاں مسلسل 40 منٹ تک سٹارٹ کھڑی رہیں اور ریسٹورنٹ کے باہر ٹریفک بلاک کیے رکھی جس سے شہریوں کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی سید طلعت حسین کو جب یہ معلوم ہوا جن کا دفتر اس مارکیٹ میں ہی تھا ،وہ باہر نکلے تو انہوں نے اس سارے منظر کو اپنے کیمرے میں عکس بند کر لیا ساتھ یہ وہ سیکیورٹی کے اہلکاروں کو راستہ صاف کرنے کیلئے کہتے رہے ، اتنی دیر میں ایک اہلکار آگے بڑھا اور اس نے کیمرہ بند کروانے کی کوشش کی جبکہ سینئر صحافی نے اسے واضح کیا کہ ہاتھ مت لگاﺅ ۔

سینئر صحافی طلعت حسین نے اپنی یوٹیوب پر جاری ویڈیو میں کہا کہ جو پیچھے والے ہیں ان پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا باتیں کیں۔ احسن اقبال نے جو چائے کم پینے کی بات کی ہے اس پربین الاقوامی طور پر میمز بنے اور بعض جگہوں پر تو پروگرامز بھی ہوئے ہیں۔چائے آپ کم کردیں، چینی کھانا چھوڑ دیں، آٹا نہیں ہے تو روٹیاں کم کردیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ نمک بھی مضر صحت ہے ،نمک بھی نہ کھایا کریں۔ لیکن افسران اورحکمران کے نخرے کم نہیں ہوتے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نخرے کا نیا زاویہ ہمارے سامنے آیا ہے۔ ہمارے آفس کے سامنے ایک ریسٹورنٹ ہے جس کا کھانا کافی مشہور ہے، اس ریسٹورنٹ کے پاس جب میں پہنچا تو وہ ساری کی ساری جگہ بلاک ہوئی تھی اور بیچ میں پروٹوکول کی اور تمام گن مینز سمیت لوازمات کے ساتھ گاڑیوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ اور اس کے پیچھے فیملی والے جو لنچ کے ٹائم پر آئے ہوئے تھے وہ اوپر سے چکر کاٹ کر ون وے وائلیٹ کرتے ہوئے دوسری طرف گاڑیاں پارک کررہے تھے۔ 

پتہ چلا کہ زین بگٹی صاحب یہاں تشریف لائے ہوئے تھے بڑی اچھی بات ہے، منسٹرز کو، ایڈوائزرز کو آنا چاہیے اور باہر نکل کر لوگوں میں گھل مل جانا چاہیے، یہ لوگوں میں گھلنے ملنے نہیں آئے تھے یہ کھانا کھانے آئے تھے ، پتہ چلا یہ تو کھانا کھانے کے لیے آئے ہیں اور یہ پروٹوکول ان کے ساتھ ہیں۔ میں ہوٹل کے اندر چلا گیا، منیجر سے پوچھا کہ کدھر ہیں بگٹی صاحب؟ سارا راستہ بلاک کیا ہوا ہے، لوگ پریشان ہیں، لوگوں کی گاڑیوں کے آگے پروٹوکول لگایا ہوا ہے، جس جگہ سے گاڑی گزرنی ہے وہ آپ نے بلاک کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بگٹی صاحب تو یہاں نہیں ہیں وہ گاڑی میں ہیں۔ میں گاڑی میں دیکھنے چلا گیا وہاں پر بھی مجھے نظر نہیں آئے۔

اب اس میں تین چار باتیں آپ ذہن میں رکھیں، اس منسٹر یا اس ایڈوائزر سے ریلیٹڈ معاملہ نہیں ہے۔ یہ پروٹوکول کا ہر جگہ پر حال یہی ہے۔ یہ لوگ ڈپلائڈ ہیں اور گاڑیاں چل رہی ہیں اور انجن بند نہیں ہیں۔ یہ آفیشل فیول ہے۔ فیول کا بڑا مسئلہ ہے، ان کی تنخواہیں ہماری جیبوں سے جاتی ہیں۔ قصور ان کا نہیں ہے، ان کو کہا گیا اور وہ وہاں آگئے۔ سب سے کمال بات یہ ہے کہ یہ روٹی کا پروٹوکول تھا، یہ کھانے کا پروٹوکول تھا، یہ پروٹوکول کسی منسٹر کا نہیں تھا، یہ اس کے لیے جس نے کھانا لانا ہے یہ اس کا پروٹوکول ہے۔ میرے آفس میں ٹیم نے بتایا کہ یہ تو یہاں پر 30منٹ سے کھڑے ہیں۔ یہ پچھلے 30 منٹ سے موجود تھے اور اندر کھانا پک رہا تھا، اور کھانے کو لیجانے کے لیے تمام اہتمام کیا ہوا تھا، یونیفارم پہنے ہوئے تھے، بندوقیں اٹھائی ہوئی ہیں اور لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ اس کی فلم نہ بنائیں۔ 

مزید :

قومی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں