سب ذمہ داری کا مظاہرہ کریں! 51

 سب ذمہ داری کا مظاہرہ کریں!

 سب ذمہ داری کا مظاہرہ کریں!

ملکی حالات کے حوالے سے مجموعی طور پر پوری قوم پریشان ہے جو لوگ مطمئن ہوں گے یقینا وہ اپنے اپنے مفادات کے حوالے سے ہوں گے۔ برسراقتدار (طبقات) اپنے اپنے مقام پر اور مخالف اپنے طور پر خود کو اطمینان دلاتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی موقع کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔ ملکی سیاسی تقسیم کوئی پہلی مرتبہ ایسی نہیں، یہ تو 1977ء کے بعد ہی سے نصیبوں میں لکھ دی گئی تھی۔ تب مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی متحارب تھیں تو اب اس میں اتنا اضافہ ہوا کہ عمران خان کی قیادت میں ایک تیسری سیاسی قوت کو اقتدار مل گیا۔ حالات پھر بھی ماضی سے مماثل ہیں کہ تحریک انصاف وفاق۔ پنجاب اور خیبرپختون خوا میں برسراقتدار ہے۔ وفاق اور بلوچستان میں وہ مخلوط حکومت کی حامل ہے۔ سندھ میں البتہ پیپلزپارٹی مسلسل برسراقتدار اور اس کی اصل سیاسی قوت اندرون سندھ سے ہے۔ کراچی اور شہری سندھ میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف حریف کی صورت میں موجود ہیں جبکہ اندرون سندھ پیرپگارو کی قیادت میں جی ڈی اے کا پریشر گروپ بھی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر پیپلزپارٹی کو واضح تر برتری حاصل ہے اور وہ بلا شرکت غیرے اقتدار کی حق دار ہے۔ اسی صورت حال نے سیاسی منظر کو کچھ اور ہی طرح کا بنا دیا ہے۔ وفاق میں اقتدار کے باعث تحریک انصاف والے خود کو بہت سے امور میں بااختیار سمجھتے ہیں کہ گورنر  ہاؤس کے دروازے ان کے لئے وا ہیں۔ ایم کیو ایم حلیف ہے بلکہ دعویٰ ہے کہ وفاق میں تحریک انصاف کا اقتدار اسی کا مرہون منت ہے۔ یہ کوئی ایسی صورت حال نہیں کہ تشویش کا باعث ہو، تاہم ایسا ان ممالک میں ہے جہاں جمہوریت رواج پا چکی، حتیٰ کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت میں بھی وفاق اور ریاستی اقتدار مختلف جماعتوں کے پاس ہوتا ہے، وہاں بھی محاذ آرائی کی یہ صورت حال نہیں ہوتی جو پاکستان میں ہے۔ حالانکہ وہاں بھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی پیار نہیں، متحارب ہیں اور سخت مخالفت بھی، تاہم مجموعی طور پر جمہوریت ہے۔ خصوصاً اس کا الیکشن کمیشن بہت طاقتور اور آزاد ہے جس کی وجہ سے ہر عیب چھپا دیتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے، یہاں متحارب یا حزب اختلاف نہیں، دشمن تصور ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارا ملک ہمیشہ ہی خطرے میں رہا ہے۔

گزشتہ روز کراچی میں جو کچھ ہوا، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، مان لیتے ہیں کہ آئین ہم سب پاکستانیوں کو پرامن اجتماع اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن ایسا ہونا معجزہ ہی گنا جاتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کو ایک ماہ ہو گیا، کہیں کوئی تنازعہ نہ ہوا کہ فریقین نے تحمل کا مظاہرہ کیا، اب کہا جا رہا ہے کہ جماعت اسلامی اور برسراقتدار پیپلزپارٹی درپردہ مذاکرات میں کسی نتیجے پر پہنچنے والے ہیں، لیکن اس دوران متحدہ اور پولیس کے تصادم نے نئی صورت حال پیدا کر دی بلکہ متحدہ کے ایک اہم کارکن کی وفات نے نئے احتجاج کا راستہ کھول دیا ہے، یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، اب ہر دو جماعتیں جو مرضی کہتی رہیں۔ لیکن یہ واضح ہے کہ حالات بہتر نہیں ہیں۔ پولیس کی کارروائی کو کبھی اور کسی دور میں بھی مسائل کا حل نہیں سمجھا گیا، بلکہ پولیس کا دخل حالات کو خراب کرتا ہے، اب پولیس لاٹھی چارج کے حوالے سے جواب دہ ہے اور یہاں تو ایک کارکن کی وفات کا بھی ذکر ہے۔ حکومت سندھ جو بھی جواب یا عذر پیش کرے وہ بھی سن لیا جائے گا، تاہم مجموعی طور پر تو ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اب حالات کی نوعیت یہ ہے کہ متحدہ والوں کے لب و لہجہ میں تلخی ان کی تاریخ کے مطابق آ گئی ہے۔ ان کا کھیل تو عرصہ دراز سے یہی ہے کہ سیاست بھی کرو اور دبنگ بھی رہو اور اب وہ پھر سے یہی انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔

یہ سب ایسے موقع پر ہوا، جب چیئرمین بلاول بھٹو وفاقی حکومت کے خلاف تحریک کا اعلان کر چکے ہوئے ہیں، ٹریکٹر مارچ کیا اور کسانوں سے اظہار یکجہتی بھی ہوا، جبکہ 27فروری کے لانگ مارچ پر زور دیا جا رہا ہے۔ یوں محاذ آرائی کئی پہلوؤں سے سامنے آ رہی ہے۔

جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو پیپلزپارٹی اور اے این پی کی علیحدگی کے بعد مولانا نے بھی مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ جو 23مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا۔ اس روز یوم جمہوریہ پاکستان ہے اور اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ بھی ہوتی ہے وزیرداخلہ شیخ رشید نے اسی بناء پر پی ڈی ایم سے کہا کہ وہ 23مارچ کو اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دے اور 27مارچ کو شوق پورا کرے کہ اس روز اسلام آباد میں پریڈ ہونا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں طے ہوا کہ تاریخ تبدیل نہیں ہوگی۔ البتہ لانگ مارچ نے تو وسیے بھی نماز ظہر کے بعد اسلام آباد آنا ہے۔ اس وقت تک پریڈ مکمل ہو چکی ہو گی جس یا جن اداروں نے یہ خدمت سرانجام دینا ہیں ان کی طرف سے ان حالات میں کوئی مداخلت کی گئی اور نہ ہی کوئی بیان جاری ہوا ہے ویسے بھی یہ پریڈ فرائض کی انجام دہی ہی تصور ہوتی ہے۔ بہرحال حالات کی سنگینی اپنی جگہ موجود ہے۔ 

اب جو صورت حال کراچی میں بنی اور جس انداز سے ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اور مقابلے کا چیلنج دیا یہ کوئی نیک شگون نہیں کہ ایم کیو ایم تجربہ کار ہے۔ پیپلزپارٹی اپنی جگہ عوامی حمائت کی دعویدار ہے اور سعید غنی نے الزام بھی لگایا ہے کہ متحدہ والوں نے انتظامیہ کی بات نہ مان کر ایسے حالات پیدا کئے۔ وزیر اطلاعات سعید غنی کے مطابق بلدیاتی قانون سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ اس سلسلے میں واضح مثال جماعت اسلامی کی ہے جس نے حقیقتاً پُرامن احتجاج کرکے دکھایا اور صوبائی حکومت اور انتظامیہ نے بھی شرمندہ نہیں کیا۔ اس لئے عوامی خواہش تو یہی ہے کہ تمام معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات سے ہی حل ہوں اور اس کے لئے کسی ایک فریق کی نہیں، ذمہ داری سب کی ہے، وفاق ہو یا صوبے۔ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف،جمہوریت کا دامن تھام کر رہیں اور صرف نام نہ لیں عمل کرکے دکھائیں۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں