سب آٹو پر چل رہا ہے 27

 سب آٹو پر چل رہا ہے

ہم کیسی پہنچی ہوئی قوم ہیں۔ ووٹ…… نواز شریف کو۔ جلسہ…… عمران خان کا۔ مدد…… چیف آف آرمی سٹاف سے۔ قرضے…… چین سے۔ اسلحہ…… امریکہ سے۔ رہائش…… یورپ میں۔ نوکری…… سرکاری۔ آمدن…… بل گیٹس جیسی۔ تعلیم و صحت، علاج کی خواہش…… امریکہ سے۔ فلمیں …… بھارتی۔ محبوب ترین مشغلہ…… ملاوٹ و کم تولنا۔ شوق…… جھوٹ بولنا و دھوکہ دینا۔ عادت…… بے صبری و جلد بازی۔ قومی مسئلہ…… رشوت خوری۔ قومی بے چینی…… کسی کی بات نہ ماننا بس اپنی کرنا۔ قومی نشان…… ذاتی مفاد۔ قانون کا اطلاق……صرف غریبوں پر۔ مدفن کی خواہش…… مدینے میں۔ آخرت کا یقین…… صرف جنت الفردوس۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں …… ہمارا کیا بنے گا……؟

اللہ کے آخری رسول کریمؐ مدنی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ”صبر کرو کیونکہ تم پر جو بھی دور آتا ہے، اس کے بعد آنے والا اس سے بھی برا ہو گا…… یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو“۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک اگر دیکھا جائے تو ملکی حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتری کی طرف ہی گامزن ہیں۔ صبح سات بجے نکلنا اور شام چھ بجے آتا ہوں اور چھ سو روپے ملتے ہیں وہ بھی کبھی لگتی…… کبھی نہیں لگتی ہے۔ میرا بچہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے بیمار پڑا ہے…… میرے واسطے ہُن علاج کرانا بہت مشکل اے۔ خاکسار ایک دیہاڑی دار کی بات سن کر کانپ اٹھا کہ ہمارے بے رحم معاشرے میں تو چھ سو روپے کا ایک برگر کھا لیا جاتا ہے۔ 

کتنا مشکل ہے، صبح سویرے اٹھ کر غبارے، ٹافیاں، اس قسم کی چھوٹی چھوٹی چیزیں فروخت کر کے روزانہ کی بنیاد پر آٹا، گھی، دال، چینی کے بیس، بیس…… تیس، تیس روپے والے پیکٹ خرید کر بچوں کا پیٹ پالنا۔ اوپر سے آئے روز بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ سمیت اشیائے خورونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کو کنٹرول نہ کرنا۔

کتنا آسان ہے…… سرکار کے پیسوں پر گل چھرے اڑانے والوں کا یہ کہہ دینا۔ کورونا کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی۔ پاکستان میں تو ابھی مہنگائی بہت کم ہے اور پیارے دیس میں ہونے والی مہنگائی کا ذمہ دار پچھلا کرپٹ حکمرانوں کا ٹولہ ہے۔ عوام حکومت وقت کی پالیسیوں سے مت گھبرائے…… اچھے دن آنے والے ہیں۔ ریاست مدینہ کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری ہے کہ اگلے جنرل الیکشن میں ہر خاص و عام اپنے ووٹ سے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اقتدار میں لائے۔

حکمرانوں کے بقول شفاف انتخابات کے لئے، نئی مردم شماری، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے جیسے کام کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔

اپوزیشن، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو جھرلو پھیرنے کا نیا طریقہ واردات خیال کرتی ہے۔ جناب عمران خان اگلے الیکشن، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہی کرانے پر بضد ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ کسی کی بات سننے، ماننے کو تیار نہیں یہی پی ٹی آئی حکومت کی سب سے بڑی خامی ہے۔ میرے خیال میں کپتان اپنی چار رکنی کمیٹی کے ساتھ بنا سوچے سمجھے پانچ منٹی فیصلے کرتے ہیں۔ یہ فیصلے غلط ہوں یا ٹھیک پھر ان کو کوئی مائی کا لعل بھی تبدیل نہیں کرا سکتا۔

جناب عمران خان کی کچن کیبنٹ کا حصار اتنا تگڑا ہے کہ کوئی پرندہ بھی وہاں پر نہیں مار سکتا۔ کپتان کے مشیران نے ان کے دماغ میں یہ بات ٹھونس دی ہے۔ جنرل الیکشن ای وی ایم سے لڑا جائے تو فتح یقینی ہے۔ اب یہ معلوم نہیں۔ پیارے دیس کے ناگفتہ بہ حالات نے عوام کا کچومر نکال دیا۔ کون لوگ خوشی خوشی دھڑا دھڑا پی ٹی آئی کے بکسوں میں ووٹ ڈالنے کے ریکارڈ پاش پاش کر دیں گے۔ ایک دوست کے مطابق عام انتخابات کے دوران اس کی ڈیوٹی بطور پریذائڈنگ آفیسر لگی۔ پولنگ کے اختتام پر گنتی کی گئی۔ الیکشن لڑنے والی تمام پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹ کے سامنے نتیجہ تیار ہوا۔ اختتام پر رزلٹ کی کاپی ہر پولنگ ایجنٹ، میڈیا کو دی گئی۔ حتیٰ کہ پولنگ اسٹیشن کے باہر بھی چسپاں کی گئی تو پھر کیسے دھاندلی ہوسکتی ہے۔

جناب عمران خان الیکشن کمیشن کے ذریعے بوگس ووٹر لسٹوں، انتخابی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے بجائے ای وی ایم، ای وی ایم کی صدا بلند کر رہے۔ ای وی ایم کے معاملے پر کپتان کے پیروکار واہ واہ کے ڈھول پیٹ رہے۔ وزرا اور مشیران اپنی صفر کارکردگی پر خود سے وازرت کی جان چھوڑنے کے بجائے ہر خرابی کا ذمہ دار بیوروکریسی کو قرار دے کر بری الذمہ ہو رہے ہیں۔

آئے روز کے تبادلوں سے سرکاری افسروں میں بددلی اور بداعتمادی کی فضا جنم لے رہی ہے۔ جبھی تو عوام گڈ گورننس نام کی بلا دیکھنے کو ترس گئے۔ جس کا جو جی چاہے وہ کر رہا ہے…… کوئی پوچھنے، سننے، دیکھنے والا نہیں …… کچھ سمجھ نہیں آ رہا، آخر ہو کیا رہا ہے۔ ہر شے جمود کا شکار ہے۔ ملک تجربات کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے سب آٹو پر چل رہا ہے…… ارباب اختیار بٹن دبا کر سو گئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں