زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی 37

 زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

 زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

اقبال تین سال تک (1905ء تا 1908ء) انگلینڈ میں رہے۔ کچھ وقت جرمنی میں بھی گزارا۔ ان ایام میں ہنوز جوہری قوت دریافت نہیں ہوئی تھی اور موٹر ٹرانسپورٹ کی بھی اتنی بھرمار نہیں تھی۔ سی این جی (CNG) وغیرہ کا زمانہ بھی بعد میں آیا۔ لکڑی اور پتھر کا کوئلہ جلایا جاتا تھا۔ چنانچہ یورپ میں گرین گیسوں کی افراط نہیں تھی۔ اور ان وجوہات کی بناء پر یورپ کی گرمیاں کم گرم اور سردیاں شدید سرد تھیں …… فارسی زبان میں موسم سرما کو ’زمستان‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ قیامِ یورپ میں اقبال نے شاعری کی طرف بہت کم توجہ دی لیکن پھر بھی کبھی کبھی کوئی نظم یا غزل کہہ لیا کرتے تھے۔ انہی دنوں کہی گئی ایک غزل کا مطلع تھا:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحرخیزی

کڑاکے کی سردیوں میں اقبال کا لندن میں سحر خیزی کے آداب کی پابندی کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کو یہاں سیالکوٹ اور لاہور میں رہتے ہوئے صبح سویرے منہ اندھیرے اٹھنے کی جو عادت پڑ گئی تھی وہ پردیس جا کر بھی ان کے معمولاتِ روز و شب کا حصہ بنی رہی۔ چنانچہ اس شعر میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ وہ علی الصبح اٹھ کر تہجد، نماز اور پھر قرآنِ حکیم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

اقبال ہی پر کیا منحصر، کوئی بھی شخص اپنے معمولات کی مسلسل پابندی کرکے ان کو عادت بنا سکتا ہے اور پھر یہی عادت اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے…… جب میری پہلی پوسٹنگ (فوج جوائن کرنے کے بعد) مردان میں پنجاب رجمنٹ سنٹر میں ہوئی تو میں دیکھا کرتا تھا کہ نوشہرہ سے رسالپور اور رسالپور سے مردان جاتے وقت برلبِ سڑک، کئی عمر رسیدہ باریش حضرات بس کے انتظار میں کھڑے اپنی تہمد میں ہاتھ ڈالے کچھ نازیبا سی حرکات کرتے نظر آیا کرتے تھے، جونہی  بس اپنے سٹاپ پر رکتی، وہ حضرات ”فٹا فٹ“ مٹی کے ڈلے باہر پھینک کر جھٹ پٹ بس میں آ گھستے۔ بس میں سوار مرد و خواتین یہ مناظر دیکھتی تھیں لیکن خاموش رہتی تھیں …… پھر میں نے انہی حضرات کو سینما بینی کے دوران ”باکسوں“ میں بیٹھ کر نسوار کی تھوکیں دائیں بائیں پھینکتے دیکھا۔ میں نے دوسال مردان میں گزارے اور حالانکہ فلمیں دیکھنے کا شوق تھا لیکن ”نسوار خوروں“ کی موجودگی کی وجہ سے صرف ایک بار سنیما جانے کی ہمت کر سکا کیونکہ بعد میں گویا چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ لیکن انہی پٹھان حضرات کو میں نے کوئٹہ، ایبٹ آباد اور مالا کنڈ وغیرہ میں شدید برف باری کے دوران علی الصبح نمازِ فجر کی ادائیگی کے لئے مسجدوں کی طرف بھاگتے بھی دیکھا۔

کسی فرنٹیئر فورس بٹالین کی ہسٹری کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک واقعہ یہ بھی نظر سے گزرا کہ گرمیوں کے موسم میں وانا (وزیرستان) میں ایک شام ایک مسلمان سولجر نے اپنے ایک انگریز کمانڈنگ آفیسر (C.O) کو اپنی رائفل سے مار ڈالا۔ اس سے وجہ دریافت کی گئی تو وہ بولا: ”یہ خنزیر کا بچہ ہمارے کعبے کی طرف جوتوں سمیت پاؤں پسار کر لیٹا ہوا تھا“۔……

ہوا یہ تھا کہ پلٹن کا انگریز سی او اپنی بٹالین کے ساتھ 10میل کی ایک لانگ مارچ پر گیا ہوا تھا۔ پوری پلٹن اس کے ہمراہ تھی۔ تقریباً 4بجے یہ لوگ واپس یونٹ میں پہنچے تو وہ انگریز کرنل تھکاوٹ کی وجہ سے یونٹ کی مسجد کے باہر ایک بڑے سے درخت کی چھاؤں میں آکر لیٹ گیا اور شدتِ تکان کی وجہ سے اپنے بوٹ بھی نہ اتارے اور بس لیٹا ہی تھا کہ نیند نے آ لیا۔

اتنے میں ٹروپس بھی واپس آنا شروع ہو گئے۔ سپاہی غنچہ گُل نے جب دیکھا کہ ایک ”انگریز کافر“ مسجد کے عین سامنے اپنے سروس شُوز کے ساتھ کعبہ شریف کی طرف پاؤں پسارے سویا ہوا ہے تو اس کی ”غیرتِ ایمانی“بیدار ہو گئی اور اس نے فائر کرکے اس کافر کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

میری اپنی پوسٹنگ جب 1970ء کے عشرے میں خضدار میں ہوئی تو معلوم ہوا ایک مقدمہ چل رہا ہے جس میں ہماری یونٹ کے ایک سپاہی نے دو سال پہلے اپنے ایک پلٹنی ساتھی کو سروس رائفل سے ہلاک کر ڈالا تھا۔ اس قاتل کو ٹریبونل نے پھانسی کی سزا سنائی تھی اور اس نے صدر مملکت کو رحم کی درخواست دی ہوئی تھی۔ میں جب وہاں پہنچا تو کمانڈنگ آفیسر نے مجھے یونٹ کی طرف سے اس کیس کی شنوائی کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ (ڈپٹی کمشنر) خضدار کی عدالت میں سماعتی پینل کے ایک رکن کی حیثیت سے Detailکر دیا۔کیس یہ تھا کہ قاتل خٹک قبیلے کا ایک سنی العقیدہ مسلمان تھا جبکہ مقتول مسلک کے اعتبار سے شعیہ تھا اور اس کا تعلق طوری قبیلے سے تھا۔ قتل کی وجہ ایک معمولی سا مذہبی معاملہ تھا۔ دونوں ایم ایم جی (Medium Machine Gun) سیکشن میں تعینات تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ سیکشن کمانڈر (حوالدار) کو اس کے نائب نے سحری کے وقت جگایا اور کہا کہ اٹھو، وقت کم رہ گیا ہے، روزہ رکھ لو۔

طوری کے دوبارہ جگانے پر وہ خٹک غصے سے بولا: ”تم لوگ تو وقت سے پہلے ہی روزہ رکھ لیتے ہو۔ ہمارا ٹائم ابھی باقی ہے۔ اپنے کام سے کام رکھو۔ میں خود اٹھ کر سحری کھا لوں گا۔“…… اس پر معاملہ بگڑ گیا اور طوری لانس نائیک نے اپنے گن کمانڈر خٹک حوالدار کو رائفل سے فائر کرکے قتل کر دیا…… موت کی سزا ہوئی اور اس نے صدر سے رحم کی اپیل کی لیکن وہ طوری سزا سے نہ بچ سکا اور دو ماہ بعد مچ جیل میں اس کو تختہ ء دار پر لٹکا دیا گیا۔

قارئین گرامی! واقعات تو کئی اور بھی ہیں جن میں مسلک / مذہب کی بنیاد پر قتل کے سانحے پیش آئے لیکن جوں جوں وقت گزرا، ان کی تعداد کم ہوتی گئی۔ اب کئی برسوں سے ایسا کوئی حادثہ / سانحہ فوج میں پیش نہیں آیا جس میں اختلافِ مذہب و عقیدہ کی بنا پر کسی کو قتل کر دیا گیا ہو۔

عادت جب فطرتِ ثانی بن جاتی ہے تو اس کو ریورس گیئر میں ڈالنے کے لئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے…… حالیہ سانحہء سیالکوٹ کو اس تناطر میں بھی دیکھنا چاہیے…… انسان کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے مذہب ایک بڑا کِٹالسٹ اور محرک ہے۔ دنیا بھر کے ادیان (اسلام، ہندومت، بدھ مت، یہودیت، عیسائیت) کو جنگی تواریخ کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جنگوں کی وجوہات میں سرفہرست وجہ ”مذہبی اختلافات“ رہے ہیں۔ صلیبی جنگوں کی تاریخ بھی اس امر کی شاہد ہے کہ مذہبی اختلافات نے لاکھوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آج اگرچہ مرورِ ایام سے یہ وجوہات کم ہو کر تقریباً معدوم ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی اکا دکا اقوام اور اسی تناسب سے افراد بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں …… سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کو روکنے کے لئے درجِ ذیل تجاویز پر عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے:

1۔ کراچی، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ پاکستان کے چار بڑے صنعتی مراکز ہیں۔ ان میں ایک ایک سیکیورٹی مرکز یا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے جس کو وزارتِ صنعت و تجارت کی ماتحتی میں دیا جا سکتا ہے۔

2۔سیالکوٹ سیکیورٹی مرکز / ڈائریکٹوریٹ کو ٹاسک کیا جائے کہ وہ اپنا ایک مستقل رکن شہر کی ہر فیکٹری / کارخانے میں تعینات کرے جس کا کام یہ ہو کہ وہ فیکٹری (کٹلری، چرمی مصنوعات، سامانِ سپورٹس، آلاتِ جراحی، شیلڈز میکنگ وغیرہ) کی افرادی قوت کے مسلکی رجحانات کا جائزہ لے کر ہر ماہ اس کی رپورٹ اپنے چیف سیکیورٹی آفیسر کو ارسال کرے۔

3۔ فیکٹری کے اندر یا باہر کسی بھی جگہ کوئی بھی مذہبی عبارت اور پوسٹر وغیرہ آویزاں نہ کیا جائے۔

4۔ اوقاتِ نماز میں دیکھا جائے کہ کاریگر کس مسجد میں جاتا ہے۔ اُس مسجد کے امام کے بارے میں سیکیورٹی آفیسر ایک خفیہ رپورٹ ہر ماہ اپنے ڈائریکٹوریٹ کو ارسال کرے۔ اگر فیکٹری کے اندر مسجد قائم ہے تو یہ کام آسان ہو سکتا ہے۔

5۔فیکٹری مالکان کے ساتھ ہر ماہ ایک مقررہ تاریخ کو ڈائریکٹوریٹ میں بلوا کر بریفنگ دی جائے کہ مزدوروں اور کاریگروں کے مذہبی اور سیاسی نظریات اگر کسی شدت کی طرف جا رہے ہیں تو اس کا خاطر خواہ بندوبست کیا جائے۔

6۔جس کاریگر کو فیکٹری میں بھرتی کیا جائے اس کے خاندانی پس منظر کو دھیان میں رکھا جائے کہ وہ کاریگر سیاسی اور مذہبی اعتبار سے کس درجے میں ہے۔ آیا شدت پسند ہے یا اعتدال پسند……

یہ تمام فیکٹریاں اور کارخانے پاکستان کو قیمتی زرِمبادلہ دے رہے ہیں، اس لئے فوراً ان کی حکومتی سطح پر سیکیورٹی اور مذہبی دیکھ بھال کی جائے۔ میں نے صرف ایک آئیڈیا پیش کیا ہے۔ اربابِ اختیار اس کو موضوعاتی اعتبار سے ڈویلپ کرکے ایک ”مکمل ضابطے“ کی شکل دے سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں