ایک لاکھ بچوں کی گواہی اور ڈاکٹر فائزہ اصغر 54

تساہل پسندی غفلت کام چوری ترک کی جائے 

تساہل پسندی، غفلت، کام چوری، ترک کی جائے 

ہر ذی شعور انسان اس حقیقت سے با خبر ہے کہ زندگی میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے مثبت کارکردگی اور اقدامات کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ اقوام کی دیگر دنیا پر بلاشبہ اپنے اوقات کار کے دوران محنت مشقت اور مہارت پر ضروری توجہ اور ترجیح دینے سے ہی کامیابی کی منازل طے کرتے ہوئے حاصل ہوتی آ رہی ہیں۔ گزشتہ چند صدیوں سے بیشتر مغربی اور بعض دیگر خطہ ہائے ارض میں واقع اقوام مذکورہ بالا اصولوں کی خلوص نیت سے پیروی کی بدولت ہی آج تک بھی قائدانہ کردار کرنے کی قابل قدر مثالیں قائم کر رہی ہیں یوں وہ بین الاقوامی امور میں اپنی قیادت کو جاری رکھ کر من مرضی اور پسند کی شرائط پر دیگر اقوام پر حکمرانی اور اجارہ داری کے طرز عمل کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دفاعی صلاحیت، معاشی کارکردگی اور انسانی زندگی کو بہتر معیار پر گزارنے کے لئے ان ملکوں کے متعلقہ ماہرین اور کارکن اپنی ذہنی اور جسمانی استعداد کو تعمیری سرگرمیوں پر راغب اور رواں رکھ کر، شب و روز اپنے شعبوں کی کارکردگی میں مصروف اور منہمک رہ کر اپنی ذاتی بھلائی اور ملکی بہتری کی فلاح و بہبود میں نمایاں اور قابل ذکر کارنامے سر انجام دیتے رہتے ہیں۔لیکن مذکورہ بالا انداز کی کارکردگی دین حق اسلام کے نام پر قائم ہونے والے وطن عزیز میں تا حال مختلف شعبہ ہائے زندگی میں رائج اور رواں دواں دیکھنے میں کیوں نہیں آ رہی؟ اس روایتی لاپرواہی اور تساہل پسندی کے نقصانات پر غور کر کے ہم خوابِ خرگوش سے کب بیدار ہوں گے؟ یاد رہے کہ ہمیں یہاں ذاتی نمود و نمائش کے غیر ضروری رجحان سے گریز کرنا ہوگا۔

پاکستان گزشتہ کئی سال سے معاشی طور پر اپنے عوام کی بنیادی ضروریات زندگی، ان کے محدود ذرائع آمدن کے مطابق فراہم کرنے سے قاصر چلا آ رہا ہے۔ خوراک، رہائش اور تعلیم کے حصول میں وقت گزرنے کے ساتھ بہتری کی بجائے ابتری تکالیف اور پریشانیاں ہی اکثر لوگوں کی زندگی کا مقدر بن گئی ہے۔ افسوس ناک یہ ہے کہ ملک کے بیرونی قرضوں کا بوجھ محض چند سالوں میں بہت بڑھ گیا ہے اور ان اداروں اور ممالک کو ان قرضوں کی واپسی کے لئے ہمارے حکمرانوں کو کڑی شرائط پر مزید قرضے لینا پڑتے ہیں۔

موجودہ وزیر اعظم عمران خان حکومت کی کارکردگی پر ملک کے عوام کی غالب اکثریت صبح و شام اپنی تکالیف اور اذیتوں میں مبتلا ہونے اور اپنے مسائل اور مصائب میں اضافہ پر اپنی تلخ اور مجبور زندگی کے تسلسل کا رونا روتی رہتی ہے۔ لیکن حکمران طبقہ کی اکثر منصوبہ سازی ان کے بلند بانگ وعدوں اور دعوؤں کے مطلق کامیاب نتائج دینے سے سراسر قاصر اور ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ ستم یہ ہے کہ آج کل ملک کے مختلف مقامات پر آئے روز، سرکاری ملازمین اور عام لوگ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے مظاہرے کرتے اور دھرنے دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے جائز مطالبات پورا کرنا بلا شبہ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب ان ملازمین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی تساہل، کوتاہی اور غفلت کئے بغیر متعلقہ قانونی تقاضوں، پرخلوص نیت اور محنت و دیانت سے عمل کریں نیز سرکاری دفاتر اور دیگر متعلقہ ملازمین افسران اور پرائیویٹ کارکنوں کو بھی اپنے ذاتی مفاد اور ملکی ترقی کے علاوہ اس کی عزت و شہرت اور اقوام عالم میں قابل ستائش مقام کے حصول پر کارکردگی دکھانے کا مظاہہ کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں