mobile logo 25

 تبدیلی کا بگل بچ چکا

قومی معیشت مشکلات کا شکار ہے،یہ مشکلات ایسی نہیں ہیں کہ ان کا مستقبل قریب میں کوئی حل نکل آئے گا۔ ہماری معاشی مشکلات پائیدار بنیادوں پر استوار ہیں اور ہم نے طویل عرصہ ان کی آبیاری کی ہے، انہیں پالا پوسا ہے انہیں جوان کیا ہے، اب یہ مشکلات ایک گھنا اور طاقتور شجر سایہ دار بن چکی ہیں جس کے گھنے سائے میں ہماری معیشت بمشکل سانس لے رہی ہے۔ سرفہرست قرضے ہیں جن پر سود کی ادائیگی ہمارے سالانہ میزانیے کا سب سے بڑا بوجھ ہے۔ہم ٹیکس کی مد میں جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کا نصف سے زائد عالمی قرضوں پر سود کی مد میں ادا کر دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم قرض کیوں لیتے ہیں؟ہمارا اسی اہمیت  کا دوسرا بڑا مسئلہ ڈالر کی حسبِ ضرورت دستیابی ہے ہم برآمدات کے ذریعے22/24 ارب ڈالر سالانہ کماتے ہیں لیکن درآمدات پر 60/70 ارب ڈالر خرچ کر دیتے ہیں،گویا ہمارے زرمبادلہ کے اخرجات، ہماری زرمبادلہ کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں،اب اس تجارتی خسارے کو کیسے پورا کیا جائے؟یہ ہمارا دوسرا بڑا اہم مسئلہ ہے۔ہمارے بیرون ممالک بسنے والے پاکستانی اپنے خون پسینے کی کمائی یہاں بھیجتے ہیں، لیکن وہ اتنی نہیں ہوتی کہ ہمارے مسائل حل ہو جائیں اس لئے ہمیں عالمی داروں دوست ممالک سے قرضے کی بھیک مانگنا پڑتی ہے ہم روزِ اول سے ہی،یعنی مملکت کے قیام کے وقت سے ہی امریکہ برطانیہ اور اقوام مغرب کے اتحادی بنے ہوئے ہیں۔امریکہ و ہمنوا اقوام سرمایہ دارانہ نظام معیشت پر چلتی ہیں ہم نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اقوام مغرب اسی نظام کے تحت خوشحال زندگیاں گزار رہی ہیں۔وہاں اشیاء صرف و ضروریہ کی بھی فراوانی ہے اور اشیاء تعیش بھی بآسانی اور وافر مقدار/ تعداد میں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ پھر عوام ان اشیاء اور سہولیات کو حاصل کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں۔حکومتیں نہ صرف اشیاء و خدمات کی رسد کو یقینی بنانے کے اقدامات کر  رہی ہیں بلکہ وہ اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ عوام کی قوتِ خرید بھی تگڑی رہے۔ کووڈ19کے دوران جب معاشی و اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں کاروبارِ حیات جمود کا شکار تھا اس وقت بھی عامتہ الناس کو اشیاء و خدمات کی دستیابی یقینی بنائی گئی اور اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ  وہ بغیر کام کیے بھی مطلوبہ اشیاء و خدمات حاصل کرسکیں یہ ہے اقوامِ مغرب کا معاشی نظام۔

بدقسمتی سے ہم نے اقوام مغرب کا دامن تو تھام لیا لیکن ہم ان کے نظام ہائے معیشت کے فیوض و برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ہم نے نظم حیات کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی منصوبہ سازی ضرور کی لیکن اسے بھی نافذالعمل نہیں کر سکے،ہم مخلوط قسم کے گلے سڑے نظام کے تحت زندگیاں گزار رہے ہیں جو نہ تو اسلامی ہے اور نہ ہی مغربی سرمایہ دارانہ نظام۔اس لئے ہمیں نہ تو اسلامی طرزِ حیات کے فائدے ملے ہیں اور نہ ہی سرمایہ دارانہ نظام کی اچھائیاں۔ ہماری معیشت قرضوں کے بوجھ تلے جاں بلب ہو چکی ہے ہم ایک ایک ڈالر کے لئے ترس رہے ہیں۔ قرض دینے والے ادارے جن میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نمایاں ہے ہمیں بلیک میل کرتے ہیں۔ ہمیں آئی ایم ایف ایسی شرائط پیش کرتا ہے جن پر عملدرآمد کے نتیجے میں عوام کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں۔ سال 2022-23ء کا بجٹ ایسی ہی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ 9500 ارب روپے کا بجٹ اور7000 ارب روپے سے زائد کی آمدنی،2ہزار ارب سے زائد خسارہ، ٹیکسوں کی بھرمار، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لامحدود اور ناقابل برداشت اضافہ، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ لاگت میں بے تحاشا اضافہ، ناقابل ِ برداشت مہنگائی، اور اس پر بے یقینی کے دبیز بادلوں میں گھری ہوئی سیاست، ہمارا حال،یعنی دورِ حاضر شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے، سیاست مکمل طور پر انتشار کا شکار ہے عمران خان حکومت سے نکلنے کے بعد حقیقتاً خطرناک ہو چکے ہیں اور وہ ہر شے کو نذر آتش کرنے پر تلے ہوئے لگ رہے ہیں وہ ”میں نہیں تو کوئی نہیں“ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہیں، سیاست میں بدزبانی، بدکلامی اور تشدد کے عناصر نمایاں ہو چکے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اگلے عام انتخابات ”خونی“ ہوں گے یہی وجہ ہے کہ20نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے فوج سے مدد طلب کر لی ہے۔

ڈالر کا بحران ایک دوسرا اہم مسئلہ ہے ہمیں اپنی درآمدی ضروریات پورا کرنے کے لیے جس  قدر ڈالر درکار ہوتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہیں اس لیے ہمیں قرض خواہوں،عالمی ساہو کاروں کی منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ہماری ضروریات جوں جوں بڑھتی چلی جا رہی ہیں،ہماری لین دین اور ساہکاروں کے ساتھ بارگین کی قوت اسی قدر کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اب تو ایسے لگ رہا ہے کہ ”قوت“ بالکل ہی سلب ہو چکی ہے ہمیں عالمی ساہو کار جو کچھ کہیں گے ہمیں ویسا ہی کرنا پڑے گا وگرنہ ہمارا حال بھی سری لنکا کی طرح ہو سکتا ہے۔آئی ایم ایف دبا کر اپنی شرائط ہم پر عائد کر رہا ہے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنی تمام شرائط من و عن ہم سے منوا لی ہیں۔امریکہ بطور حلیف ہم سے ہمیشہ ”ڈو مور“ کا تقاضا کرتا رہتا ہے اور ہم فدوی کی طرح اس کے مطالبات پر ”آمناً و صدقناً کہتے چلے آ رہے ہیں۔افغان مجاہدین کی اشراکیوں کے خلاف جدوجہد ہو یا طالبان کی امریکی اتحادیوں کے خلاف جنگ ہم نے ہمیشہ امریکہ کا اتحادی بننا پسند کیا۔ہم نے اپنے معاملات درست کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ہم اگر اپنی درآمدات کی فہرست کا مطالعہ کریں تو حیرانگی ہوتی ہے ہم اربوں  ڈالر ایسی اشیاء کی درآمد پر خرچ کرتے پائے گئے ہیں جن کی ہمیں ہر گز ضرورت نہیں ہے،کھانے کا تیل، اشیاء خوردو نوش، صنعتی آلات اور دفاعی سازو سامان کی درآمدات پر زرمبادلہ خرچ کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن موبائل فونز کی درآمد پر دو ارب ڈالر،گاڑیوں کی درآمدات پر تین ارب ڈالر اور ایسے ہی دیگر زرمبادلہ کے اخراجات کسی طور پر جائز نہیں ہیں۔ہم مہنگے موبائلز اور امپورٹڈ گاڑیوں کی درآمد کے بغیر بھی اچھی زندگی گزار سکتے ہیں،لیکن ہم تبدیل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ ایسا وقت آ چکا ہے کہ ہم تبدیلی اختیار کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکیں گے، تبدیلی آ چکی ہے ہمیں اسے من و عن قبول کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں