mobile logo 31

 بیس طبقے بیس معرکے

ماضی میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ضمنی انتخابات اتنی اہمیت اختیار کر جائیں کہ جس پر ایک صوبے کی حکومت کا دارومدار ہو۔اب یہ پنجاب میں ہونے جا رہا ہے اور17 جولائی کو ہونے والے بیس حلقوں میں ضمنی انتخابات صوبے کے وزیراعلیٰ کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف دونوں ہی اِن انتخابات کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔ شاہ محمود قریشی جن کے بیٹے زین قریشی بھی ملتان کے حلقہ 217 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، آئے روز کچھ ایسے الزامات لگاتے ہیں،جن سے لگتا ہے وہ عام انتخابات میں اس حلقے سے اپنی ہار کو نہیں بھولے، حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ 20 میں سے18سیٹیں مسلم لیگ(ن) کو دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ صرف دو نشستیں تحریک انصاف کو ملیں گی۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان دو نشستوں میں کیا اُن کے بیٹے کی نشست بھی شامل ہو گی؟ سنا ہے الیکشن کمیشن نے اُن کے اس بیان کا نوٹس لے لیا ہے ظاہر ہے اُن سے اِس کی وضاحت طلب کی جائے گی۔اب مخدوم صاحب سے کوئی پوچھ تو سکتا نہیں کہ انہیں یہ الہام کیسے ہوا ہے یا انہیں سیٹیں بانٹنے والوں نے بتا دیا ہے۔

اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ ان بیس حلقوں میں بڑے کانٹے دار مقابلے ہوں گے، ٹرن آؤٹ بھی بہت زیادہ رہے گا، کیونکہ عوام میں جوش و خروش بہت زیادہ ہے۔تحریک انصاف کی کئی حلقوں میں پوزیشن بہت مضبوط ہے اور اس کی وجہ ایک طرف عمران خان کا بیانیہ ہے اور دوسری طرف موجودہ حکومت کی پھیلائی ہوئی مہنگائی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھ دیا ہے کہ 17جولائی کو ان حلقوں میں فوج تعینات کی جائے، اب فوج کی موجودگی میں بھی اگر انتخابات شفاف نہیں ہوتے تو اللہ ہی حافظ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر حلقوں میں پرانے امیدوار ہی ایک دوسرے کے مقابل ہیں،۔بس فرق یہ ہے اُن کی جماعتیں بدل گئی ہیں۔ تحریک انصاف والے مسلم لیگ(ن) کی ٹکٹ لے چکے ہیں اور مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے تحریک انصاف کی طرف چلے گئے ہیں۔تحریک انصاف کے لیے ان انتخابات کو جیتنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ تمام نشستیں اُس کی جیتی ہوئی ہیں جنہیں منحرف ارکان نے خالی کیا ہے۔اگر تحریک انصاف اپنی جیتی ہوئی نشستیں بھی دوبارہ حاصل نہیں کرتی تو عمران خان کی ساری مہم پر پانی پھر جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان بار بار اپنی تقاریر میں ان انتخابات کا ذکر کرتے ہیں،اُن کا اعتراض الیکشن کمیشن کمیشن پر ہے کہ وہ مسلم لیگ(ن) کا مبینہ طور پرآلہ ئ کار بن گیا ہے،ایک تقریر میں تو انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ چیف الیکشن کمشنر رات کی تاریکی میں کہاں جاتے ہیں، ہمیں اس کا بھی علم ہے، میری نظر میں یہ الیکشن کمشنر کو دباؤ میں لانے کی ایک کوشش ہے، کیا چیف الیکشن کمشنر واقعی اس پوزیشن میں ہیں کہ جسے چاہیں جتوا دیں جسے چاہیں ہروائیں،کیا پورا نظام مفلوج کر کے وہ من پسند نتائج دے سکتے ہیں؟ یہ بیس حلقے  در حقیقت بیس کہانیاں رکھتے ہیں،  ہر امیدوار منجھا ہوا ہے، کئی بار کا جیتا ہوا اور الیکشن کا کھلاڑی ہے،اُسے پتہ ہے ووٹروں کو کیسے پولنگ اسٹیشنوں تک لانا ہے؟ ووٹ کی حفاظت کیسے کرنی ہے، پولنگ سٹیشن کے اندر اگر پولنگ ایجنٹ تگڑا ہو تو دھاندلی ہو ہی نہیں سکتی۔ کل عمران خان کے ترجمان فیاض الحسن چوہان کہہ رہے تھے مسلم لیگ(ن) نے ہر حلقے میں بیس بیس ہزار ووٹ کی پرچیاں بانٹ دی ہیں۔ ارے بھائی انتخابات کو اتنا بھی بے اعتبار نہ بناؤ۔ بیس ہزار پرچیاں بکسوں میں کیسے جائیں گی، کیا پولنگ سٹیشن کے اندر تحریک انصاف کے ایجنٹ نہیں ہوں گے۔وہ اگر آنکھیں کھلی رکھیں گے تو ایسا کیونکر ہو سکے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب حکومت اِن انتخابات کو جیتنے کے لیے پورا زور لگا رہی ہے،ان حلقوں میں بے تحاشہ ترقیاتی فنڈز دیئے جا رہے ہیں،نوکریوں کے پروانے بھی جاری ہو رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کا اُس نوجوان سلمان نعیم سے مقابلہ ہے جس نے عام انتخابات میں مخدوم صاحب کو شکست دی تھی، غالباً پنجاب حکومت بھی ہر قیمت پر سلمان نعیم کی فتح چاہتی ہے اس لیے حلقہ217 میں مسلسل ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،گلیاں پختہ ہو رہی ہیں،شاہ محمود قریشی نے اس پر اعتراض بھی کیا ہے مگر شنوائی نہیں ہوئی۔اسی طرح کی کہانیاں دوسرے حلقوں سے بھی سننے کو مل رہی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ووٹرز صرف ترقیاتی کاموں کو دیکھ کر اپنی رائے بدل دیتے ہیں، کیا سڑکوں اور گلیوں کی وجہ سے تحریک انصاف کا ووٹرز مسلم لیگ (ن) کی طرف چلا جائے گا؟ تحریک انصاف تو کہتی ہے وہ نظریے کی سیاست کر رہی ہے، کیا یہ نظریہ اتنا سستا بک جائے گا۔میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔ سیاسی پولرائزیشن اتنی زیادہ ہے کہ ان باتوں سے اب ووٹرز اپنی رائے تبدیل نہیں کرے گا۔ 2018ء کے انتخابات میں بھی اِن سیٹوں پر زیادہ تر امیدوار عمران خان کی وجہ سے جیتے تھے،اس بار بھی اگر پی ٹی آئی کو فتح ملی تو عمران خان کی وجہ سے ملے گی،ایک اور چیز جس کی نشاندہی ضروری ہے وہ تحریک انصاف کے حامیوں میں اس وقت موجود جوش و خروش ہے۔یہ جوش و خروش عمران خان کی تقریروں کے باعث پیدا ہوا ہے۔امریکی سازش اور امپورٹڈ گورنمنٹ کا نعرہ ابھی خاصا مقبول ہے، اگر پولنگ والے دن تحریک انصاف کا ووٹر اسی جوش کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نکل آتا ہے تو پانسہ پلٹ جائے گا۔موجودہ حالات میں مسلم لیگ(ن) کے لیے یہ جوش و خروش شاید لاہور کے سوا دوسرے شہروں میں نہ ملے۔اس کی ایک وجہ تو موجودہ مہنگائی ہے اور دوسری وجہ مسلم لیگ(ن) کے اندر تحریک انصاف سے آئے ہووؤں کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات ہیں۔کئی حلقوں میں روایتی خاندانوں کی نشستوں پر دوسروں کو جو اُن کے مخالف رہے ہیں ٹکٹ دیا گیا ہے جس کے باعث ایک غیر اعلانیہ مخالفت موجود ہے۔بہرحال ان بیس حلقوں میں الیکشن، نہ صرف انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کا امتحان ہے بلکہ سیاسی جماعتوں پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے الیکشن ہی سمجھیں زندگی و موت کا مسئلہ سمجھ ے کشت و خون کا بازار نہ گرم کریں۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں