انسانی جسم میں سور کا دِل دھڑکنے لگا 35

انسانی جسم میں سور کا دِل دھڑکنے لگا

انسانی جسم میں سور کا دِل دھڑکنے لگا

 بچپن میں جب قصاب کی دکان سے گوشت لینے جاتے تو وہاں دِل اور جگر سے نظریں چار ہوتیں اور یہ خیال آتا کہ کیا یہ بھی ہمارے دِل ہی کی مانند دھڑکتا ہے۔اگر ہمارے دِل کی طرح دھڑکتا ہے تو اس ذبح شدہ جانور اور ہمارے دِل میں کیا فرق ہے۔گھر میں دِل کا گوشت پکتا تو یہ کہہ کر کھلایا جاتا کہ اس سے دِل کو تقویت ملتی ہے۔ جب ثانوی تعلیم کے بعد میٹرک میں سائنس کی شدھ بدھ آنا شروع ہوئی تو دِل اور اس کی ماہیت کے بارے میں بنیادی معلومات ملیں، مگر تب بھی ذہن میں اکثر آتا کہ کیا انسانی جسم میں کسی حیوان کا دِل دھڑک سکتا ہے تو تب یہ ناممکن بلکہ مجہول لگتا۔ لیکن آج سے دو روز قبل سائنسی تحقیق نے یہ بات ثابت کر دی کہ انسانی جسم میں زندگی حیوانی دِل کی بدولت بھی بگٹٹ دوڑ سکتی ہے۔یہ کسی طور کرشمے سے کم نہیں۔یہ کارنامہ میری لینڈ یونیورسٹی کے محققین کی محنت ِ شاقہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان تمام اساتذہ اور محققین میں سرفہرست ڈاکٹر محی الدین ہیں ] جو کہ  میری لینڈ یونیورسٹی میں زینو گرافٹنگ کے ماہر ہیں۔

زینو گرافٹنگ کو اس جراحت میں بنیادی اہمیت حاصل ہے جس میں انسانی عضو کے ٹکڑے کو حیوانی جسم میں پروان چڑھایا جاتا ہے اور اس کے بالغ اور مکمل فعال ہو جانے کے بعد انسانی جسم میں پیوند کر دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر محی الدین صاحب نے زینو گرافی ہی میں تخصص حاصل کیا ہے۔ بین الاقوامی ادارے میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے اس تحقیقی کارنامے کے عملی ثبوت نے  پاکستان کی عزت میں  اضافہ کر دیا ہے کہ آپ نے اپنی میڈیکل کی ڈگری ڈاؤ یونیورسٹی کراچی سے حاصل کی تھی۔ آج سے کچھ ماہ قبل اسی یونیورسٹی کے ماہرین نے جگر کی نوساختہ پیوندکاری کا کامیاب تجربہ کیا تھا جس میں ایک مریض کے کینسر زدہ جگر میں کینسر کو جراحت کے ذریعے ختم کر کے دوبارہ مریض کے جسم میں پیوند کر دیا گیا اور یہ تجربہ کامیاب ٹھہرا۔

میری لینڈ یونیورسٹی  کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مریضوں کی تعداد بہت ہے۔ 2021ء کے اعداد و شمار کے مطابق ایسے مریض جن کو اعضاء کی ٹرانسپلانٹیشن کی ضرورت تھی ان کی تعداد41354 ہے،جبکہ ان میں سے محض3817 ہی کے اعضاء کی پیوند کاری ہو سکی ہے۔ زیادہ تعداد میں مریضوں کی صحت یابی کے لیے کسی ایسے عمل کی ضرورت تھی جس کے ذریعے اعضاء بہت جلد اور کم مدت میں مریضوں کو دیے جا سکیں۔یہی ضرورت زینو گرافٹنگ کی تکنیک کے استعمال کا سبب ٹھہری ہے۔میری لینڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تحقیق ساٹھ کی دہائی سے جاری ہے یہ تجربہ تاریخی اس لیے ہے کہ جس مریض کو اس سور کا دِل پیوند کیا گیا ہے اس کی صحت بحالی کی جانب گامزن ہے۔

مریض کا دِل تقریباً ناکارہ ہو چکا تھا۔ ڈاکٹروں کو اس کے زندہ رہنے کے امکانات بہت کم نظر آ رہے تھے، مگر مریض نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔زندگی کی سیج پر زندہ دِل لوگ ہی جیتے ہیں۔ڈاکٹروں کے پاس اس 57سالہ مریض کو بچانے کے لیے یہ تجربہ ناگزیر بن چکا تھا۔ مریض کے اصرار پر تجربہ کیا گیا اور اب اس کے نتائج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔اس جراحت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سور کے دِل کے دس جین مکمل طور پر غیر موثر کئے گئے ہیں بالخصوص وہ جین جن کا دِل کے بڑھنے سے تعلق ہے، پوری دنیا میں اس کو ”گیم چینجر“ کہا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کے ہاں سور سے متعلق چند خدشات پائے جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عمل کے لیے سور ہی کو منتخب کیوں کیا گیا۔اس کے علاوہ بھی تو بے بہا حیوان اور درندے پائے جاتے ہیں۔کسی بکری، بھیڑ،ہرن اور گیدڑ کا دِل بھی تو ہو سکتا تھا،جس کو جنیاتی عمل سے گزار کر انسانی جسم میں پیوند کر دیا جاتا۔ڈاکٹر اِس کا جواب یہ دیتے ہیں ٹشوز، ساخت، فزیالوجی اور دوسرے طبی عوامل کی انسانی دِل سے مطابقت سور کے دِل ہی کی پائی گئی۔کسی اور جانور پر یہ تجربہ اس طرح کامیاب نہیں ہوا۔سور بہت جلد نشوونما پاتے ہیں اور چھ ماہ میں ان کی جوانی جوبن پہ آ جاتی ہے۔ان عوامل نے ڈاکٹروں کو مجبور کیا کہ وہ سور کو منتخب کریں اور اب یہ کرشمہ ہے کہ انسانی جسم میں سور کا دِل دھڑکنے لگا ہے۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں