اشرافیہ کی بے حسی اور عوام کے صبر کا پیمانہ 86

 اشرافیہ کی بے حسی اور عوام کے صبر کا پیمانہ

 اشرافیہ کی بے حسی اور عوام کے صبر کا پیمانہ

کھاد نہ ملنے پر کسانوں کے ہاتھوں ایک اسستنٹ کمشنر کے پٹنے کی ویڈیو دیکھ کر سوچ رہا ہوں۔ یہ نظام اسی طرح رہا تو ایسا طوفان آئے گا کہ سب کچھ اس میں بہہ جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جس جس نے یہ وڈیو کلپ دیکھا ہوگا اسے افسوس ہرگز نہیں ہوا ہوگا، کیونکہ ایسے مناظر دیکھ کر لوگ اب خوش ہوتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ موقع پر پکڑے جانے والے چور یا ڈاکو کی درگت بناتے تھے، اب افسروں کی بنانے لگے ہیں۔ یہ ایک ایسی انارکی ہے جس کے اسباب پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ پورا نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ یہ ظلم اور بدعنوانی کا نظام اس طرح جاری رہا تو کل کلاں عوام کی مایوسی اس قدر بڑھ جائے گی کہ کسی ضلع کا افسر بھی پٹے گا اور لاٹ صاحب کی باری بھی آ جائے گی۔ انصاف اگر نہیں ہوگا تو پھر عوامی زبان میں دمادم مست قلندر ہی ہوگا۔ وزیراعظم آئے روز اپنے خطابات میں مدینے کی ریاست کا حوالہ دیتے ہیں۔

ایک بار تو انہوں نے حضرت علیؓ کا یہ قول بار بار دہرایا کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، کیا انہیں معلوم نہیں کہ جس مملکت کی حکومت کے وہ سربراہ ہیں اس میں ظلم کا نظام اوپر سے نیچے تک چل رہا ہے۔ ایک طرف لوگوں کے پاس مہنگائی کی وجہ سے کھانے کو دو وقت کی روٹی نہیں تو دوسری طرف انہیں اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ سرکاری کارندے انہیں اچھوت سمجھتے ہیں، جس سے چھ فٹ دور رہنا ہی انہیں اچھا لگتا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسپشن انڈیکس میں پاکستان کی تنزلی بھی اسی لئے دکھائی ہے کہ یہاں نچلی سطح پر رشوت کی گرم بازاری ہے اور رشوت کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ کوئی افسر اپنے ماتحتوں کی بدعنوانی ماننے کو تیار نہیں اور وزیراعظم عمران خان کو کہتے ہیں، انہوں نے اپنی حکومت کے پہلے نوے دنوں میں کرپشن ختم کر دی تھی۔ عوام پوچھتے ہیں۔ پچھلے ساڑھے تین برسوں میں وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ نے ایسا کیا قدم اٹھایا ہے جو انتظامیہ کی نااہلی اور کرپشن ختم کرنے کے لئے معاون اثبت ہوا ہو۔ عوامی اضطراب اتنا بڑھ رہا ہے کہ وہ اب قانون کو ہاتھ میں لینے لگے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔

حالت یہ ہو چکی ہے کہ اب سفارش بھی سکہء رائج الوقت نہیں رہی۔ کسی بڑے افسر کا حکم آئے تو کام ہو جاتا ہے، وگرنہ کسی کی سفارش اب کوئی نہیں مانتا البتہ رشوت کی زبان ہر کوئی سمجھتا ہے۔ کل ایک دوست کہہ رہے تھے شکر کرو پاکستان میں رشوت دینے سے کام ہو جاتا ہے۔ اگر یہ ذریعہ بھی باقی نہ رہے تو سوچو لوگ کس طرح دفاتر کے دھکے کھاتے کھاتے ہلکان ہو جائیں گے۔ ایک زمانے میں یہ سروے ہوتے تھے کہ ملک میں کون سا محکمہ زیادہ کرپٹ ہے۔ ان میں درجہ بندی ہوجاتی تھی۔ آج یہ حال ہے ایک سے بڑھ کر ایک محکمہ میدان میں آ چکا ہے، نہلے پہ دہلا مارا جا رہا ہے۔ کبھی پولیس پر انگلیاں اٹھتی تھیں آج پولیس معصوم نظر آتی ہے۔ باقی محکمے بازی لے گئے ہیں۔ دفاتر میں افسروں کی درجہ بندی اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ دادرسی کے لئے موجود ہوں گے، کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ افسران کے نیچے بیٹھے ہوئے کارندے ان کی مرضی کے بغیر کرپشن کرتے ہیں۔ افسروں کے یہ کماؤ پوت اس لئے کھل کھیلتے ہیں کہ انہیں باس کی مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے۔ کبھی آپ نے سنا ہے کسی افسر نے اپنے ماتحت کو پکڑ کے انٹی کرپشن والوں کے حوالے کیا ہو؟ جب بھی عوام زچ ہو کر قانون ہاتھ میں لیتے ہیں، کار سرکار میں مداخلت کے پرچے کٹ جاتے ہیں۔ کیا اب اس طرح جیلیں بھی جائیں گی، کیا پھر یہ طے ہے کہ اس معاملے میں کسی نے کوئی اصلاح نہیں کرنی اور عوام کو ڈنڈے کے زور پر دبانا ہے، انہیں مجبور کرنا ہے کہ وہ ظلم کا نظام تسلیم کریں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں۔

کیا وفاقی یا صوبائی حکومت نے ایسا کوئی طریقہ وضع کیا ہے، جس سے نچلی سطح پر رشوت ستانی اور ظلم رک جائے؟ کیا کوئی قانون کوئی ادارہ ایسا بنایا گیا ہے جو رشوت خور کو گردن سے پکڑ لے، کیا نیب سے سرکاری افسران کو بچا کر اس کا متبادل کوئی ایسا طریقہ بنایا گیا ہے جو بیورو کریسی پر چیک رکھے۔ یہاں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس مسلسل یہ نشاندہی کرتی ہیں کہ گورننس نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں، جس کے پاس پیسہ ہے، اختیار ہے اس کا کام ہو جاتا ہے، باقی خلقت دھکے کھاتی نظر آتی ہے۔ حیرت ہے ایک ایسے وزیراعظم کے دور میں جو بات بات پر ریاستِ مدینہ کا حوالہ دیتا ہے، انصاف اور احتساب کی بات کرتا ہے، معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگے ہیں۔ پہلے لوگ پولیس اور انصاف پر عدم اعتماد کی وجہ سے چوروں، ڈاکوؤں کو خود پکڑ کر مارتے تھے، انہیں زندہ بھی جلا دیتے تھے، اب سرکاری ملازمین کو دفتروں سے نکال کر مارنے کی روایت چل پڑی ہے۔ یہ بہت خطرناک رجحان ہے۔ اس کا حل صرف یہی نہیں کہ ایسا کرنے والوں کو ریاستی طاقت کے ذریعے نشانِ عبرت بنا دیا جائے، بلکہ اس کا اصل حل یہ ہے کہ دفتری نظام کی اصلاح کی جائے،اسے افسران کی صوابدید پر نہ چھوڑا جائے۔ افسروں کے احتساب کا کوئی نظام وضع کیا جائے، خاص طور پر اگر کسی سرکاری دفتر میں کوئی نچلی سطح کا کارندہ رشوت لیتے پکڑا جائے تو اس کی ذمہ داری اس کے مجاز افسر پر ڈالی جائے، اسے برطرف کیا جائے۔

یہاں خلقِ خدا کو بے وقوف بنا نے کے لئے کتنے ہی ڈرامے کئے جاتے ہیں، کہیں وزیراعظم پورٹل بنایا جاتا ہے اور کہیں صوبائی مانیٹرنگ کا نظام متعارف ہوتا ہے، کہیں کھلی کچہریاں لگتی ہیں اور کہیں خدمت آپ کی دہلیز پر جیسے پروگرام شروع کئے جاتے ہیں۔ اس نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا جو سارے فساد کی جڑ ہے، وزیراعظم پورٹل پر دی گئی درخواست بھی اسی کرپٹ نظام کے پروردہ کسی افسر کے پاس بھیج دی جاتی ہے، جس کے خلاف اپیل کی گئی ہوتی ہے۔ کھلی کچہریوں کے ڈرامے بھی عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے رچائے جاتے ہیں۔ کھلی کچہری کے احکامات بھی پھر اسی بے رحم نظام کے چنگل میں آجاتے ہیں جو رشوت کے بغیر ایک انچ نہین چلتا۔ بیورو کریسی کو اس دور میں ملک کا بادشاہ بنا کے بٹھا دیا گیا ہے۔ پنجاب میں بیورو کریٹس کا رویہ جابرانہ اور عوام کو غلام سمجھنے کے مترادف ہے۔ بڑے افسر تک عام آدمی کی رسائی ممکن ہی نہیں رہی۔ کسی ماتحت کے رویے کی اگر کوئی شکایت کرے تو افسرانِ حکومت ایکشن لینے کی بجائے کسی دوسرے ماتحت کی نگرانی میں انکوائری کمیٹی بنا دیتے ہیں، سائل دفاتر کے چکر لگاتا رہتا ہے بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے اصلی خرابی تب شروع ہوئی جب بیورو کریسی کو احتساب سے ماورا قرار دیا گیا۔ بھلا دنیا کے کس ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ اختیار دے کر جوابدہی نہ کی جائے۔ اس وقت  ہر محکمے اور ہر ضلع کے سربراہ کوئی نہ کوئی بیورو کریٹ ہے۔ جب اسے خود احتساب کا ڈر نہیں تو وہ اپنے ماتحتوں کو کیوں روکے گا۔ وہ تو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے کی فکر میں ہوگا۔ مال کوئی سڑکوں پر تو پڑا ہوا نہیں ملتا، وہ انہی ماتحتوں کے ذریعے آتا ہے جو اس کی ناک کے نیچے عوام پر ظلم ڈھاتے اور مال بناتے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنی حکومت کی شفافت اور میرٹ کا بہت تذکرہ کرتے ہیں، لیکن ان کے صوبے میں عوام کا غیض و غضب خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ کیا وہ گھنٹی کی آواز سنیں گے۔ کیا افسران کے کان بھی اس گھنٹی کی آواز پر کھڑے ہوں گے یا وہ اس وقت کا انتظار کریں گے،جب عوام ان کے دفتر میں آکر خطرے کی گھنٹی بجا دیں۔

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں