اسپرین آئی بیو پروفن اور ان جیسی دیگر دردکش ادویات استعمال کرنے والوں کو نئی تحقیق کے بعد ماہرین نے خبردار کردیا 25

اسپرین آئی بیو پروفن اور ان جیسی دیگر دردکش ادویات استعمال کرنے والوں کو نئی تحقیق کے بعد ماہرین نے خبردار کردیا

اسپرین، آئی بیو پروفن اور ان جیسی دیگر دردکش ادویات استعمال کرنے والوں کو …

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اسپرین، آئی بیوپروفن اور دیگر درد کش ادویات ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ملنے والی گولیاں ہیں جو ہر گھر میں موجود ہوتی ہیں اور لوگ معمولی سردرد کی صورت میں بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ اب ماہرین نے ان گولیوں کے متعلق تنبیہ جاری کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق نئی تحقیق کے نتائج میں ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ درد کش گولیاں تکلیف کا خاتمہ نہیں کرتیں بلکہ ممکنہ طور پر تکلیف کے سبب کو سنگین تر کرتی ہیں۔

کینیڈا اور اٹلی کے سائنسدانوں نے اپنی اس مشترکہ تحقیق میں لیبارٹری میں انسانوں اور چوہوں کے خلیوں پر تجربات کیے، جن کے نتائج میں علم ہوا کہ قلیل مدتی افاقے کے تناظر میں دردکش ادویات مو¿ثر ثابت ہوتی ہیں اور مریض کو وقتی آرام آ جاتا ہے لیکن طویل مدت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے لوگ فائدے میں رہتے ہیں جو ان ادویات کا زیادہ استعمال نہیں کرتے۔ 

سائنسدانوں نے کہا کہ جو لوگ درد کش ادویات کھاتے ہیں، وقت کے ساتھ ان میں درد کی شدت بڑھتے جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف جو لوگ جسم میں درد کی صورت میں فوری طور پر ان ادویات کا استعمال نہیں کرتے، ان کا مدافعتی نظام اس درد کے خلاف متحرک ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے لوگوں میں عارضے کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں ماہرین نے لوگوں کو ہدایت کی کہ جو لوگ کسی عارضے میں مبتلا ہیں اور دردکش ادویات کھا رہے ہیں، وہ فوری طور پر ان کا استعمال ترک مت کریں بلکہ اس میں بتدریج کمی لائیں ۔

مزید :

تعلیم و صحت –

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں