آئی ایم ایف کی ہاں کے بعد  26

آئی ایم ایف کی ہاں کے بعد 

آئی ایم ایف کی ”ہاں“ کے بعد 

اب اس بات کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ آئی ایم ایف 6 ارب ڈالر کا قرضہ پیکیج جو اس نے اپریل 2021ء سے روکا ہوا تھا، جاری کر دے گا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کی بہت سی شرائط، قرضہ جاری ہونے سے پہلے ہی پوری کر کے کارکردگی کا شاندار مظاہرہ کر دکھایا ہے اس لئے اب ایگزیکٹو بورڈ جلد ہی پروگرام کے چھٹے سہ ماہی نظر ثانی جائزے کے بعد 1ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی اگلی قسط جاری کر دے گا۔ مرکزی بینک کی طرف سے پالیسی ریٹس کا اعلان آخری انتظامی اعلان تھا، کیونکہ اس سے پہلے بہت سے ایسے اقدامات  کئے جا چکے ہیں، جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل تھے اب صرف قانون سازی کے دو اقدامات  باقی ہیں سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم اور نئے ٹیکسوں کے اعلانات کو فنانس بل کا حصہ بنانے کے لئے قانون سازی کرنا باقی ہے، جس کے لئے وقت درکار ہے بحر حال ہماری معاشی ٹیم نے ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے، کیونکہ یہی ڈالر ہماری لائف لائن بن چکے ہیں ہمیں ایک ایک ڈالر کی اشد ضرورت ہے اس لئے ہمارے معاشی منصوبہ ساز آئی ایم ایف کے ساتھ، انکی شرائط پر ہونے والے معاہدے کو کامیابی گردانتے ہوئے قوم کو نوید مسرت دیتے نظر آرہے ہیں۔ 

ہمارے ہاں آج کل مہنگائی کا بہت ذکر کیا جا رہا ہے جسے دیکھو اسی کا رونا روتا نظر آئے گا۔ خاص طور پر ہماری اپوزیشن والو ں کا تو یہ خاص موضوع ہے ویسے حقیقت بھی یہی ہے کہ اشیا صرف و ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور چلی گئی ہیں۔ ہر کوئی مہنگائی کی باتیں کرتا نظر آرہا ہے، حالانکہ  اصل پر تو بات ہو تی نہیں ہے ہم شاخو ں کی باتیں کرتے رہتے ہیں، جبکہ جڑ کی بات ہی نہیں کرتے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم کی قیمتیں ہر روز کیوں بڑھا نا پڑ رہی ہیں، آئے دن ٹیکسوں کی شرح میں تبدیلی کیوں کی جا رہی ہے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کیوں بڑھایا جارہا ہے، شرح سود میں ناپسندیدہ تبدیلی کیوں کی جاتی ہے، قدر زر میں بتدریج گراوٹ کیوں آرہی ہے۔ 

بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں معاملات کی تہہ تک پہنچنے کا رواج ہی نہیں ہے ہم سطحی انداز میں معاملات کو دیکھنے میں عافیت جانتے ہیں۔  ہمار ے  موجودہ معاشی حالات ایسے ہی اچانک پیدا نہیں ہو ئے ہیں اور یہ سب کچھ اپنے آپ بھی معرض وجود میں نہیں آ رہا ہے،بلکہ ہم نے ہمارے پالیسی سازوں نے حالات کو یہاں تک پہچانے کی شعوری کاو شیں کی ہیں۔ آئی ایم ایف کو بنے 6/7 دہائیاں گزر چکی ہیں یہ ادارہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی بالعموم اور امریکہ مفادات کی بالخصوص پاسداری کا فریضہ سر انجام دیتا رہا ہے یہ بات اس کے قیام کے روز اول سے ہی طے کر دی گئی تھی کہ دنیا پر سرمایہ داری غالب اور نافذ کی جائے گی آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، لندن کلب، پیرس کلب، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور ایسے ہی دیگر ادارے اسی نظام معاش کے دست و بازو اور کل پرزے ہیں جو اس نظام زر کی حفاظت اور ترویج کے لئے کوشاں رہتے ہیں ہمارے جیسے ممالک ان کا شکار ہوتے ہیں قرض ایک شکنجہ ہے، جو کسا جاتا ہے کوئی ملک جو ایک بار اس میں پھنس جائے تو پھر اس کی خلاصی آسانی سے نہیں ہوتی ہے، آئی ایم ایف وغیرہ کی قرض دینے کی شرائط سیاسی بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے ساتھ اب امریکہ بہت خوش نہیں ہے مسئلہ افغانستان پر وہ ہماری پالیسیوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے، افغانستان میں اپنی شکست کے لئے بھی ہمیں کسی نہ کسی حد تک ذمہ دار سمجھتا ہے، امریکہ اب چاہتا ہے کہ ہم ایک بار پھر فرنٹ لائین ریاست کا کردار نبھائیں اور داعش و دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نبرد آزمائی کریں،۔یعنی افغانستان میں جنگ و جدل کا الاؤ روشن رکھنے میں شامل ہو جائیں۔ ہماری اب سکت نہیں رہی کہ ہم اس طر ح کی پرائی آگ میں کود یں۔ ہماری معیشت ہی نہیں ہماری سیاست اور معاشرت بھی اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی  کہ ہم کسی نئی مہم جوئی کا شکار ہو جائیں۔ امریکہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے قدم بھی برداشت نہیں کر پارہا،  سی پیک نے امریکہ کو پریشان کر رکھا ہے۔امریکہ پاکستان پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ ہم سی پیک سے دستبردار ہو جائیں امریکی دباؤ کے باعث سی پیک منصوبوں پر عمل در آمد کی رفتار  قدرے سست ہو چکی ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجی انخلاء کے بعد طاقت کا توازن چین اور روس کے حق میں جانے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ یہ بات بھی امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے اس لئے اب خطے میں صرف پاکستان ہی ایک ایسی ریاست بچتی ہے، جس پر امریکہ دباؤ ڈال کر منوانے کی پوزیشن میں ہے آئی ایم ایف اس مقصد کے لئے ایک کارگر ہتھیار ہے۔ ہماری مجبوری ہے کہ ہم ایک ایک ڈالر کے محتاج ہو چکے ہیں ہمارے اخراجات ہماری ضروریات ہماری خواہشات اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ وہ دستیاب آمدنی سے پوری ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہیں عالمی اور اندرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی، لازمی دفاعی اخراجات، ریاستی اداروں کو قائم رکھنے کے لئے دی جانے والی امدادی رقوم کی ادائیگیوں کے ساتھ ہی ہماری کل آمدنی ختم ہو جاتی ہے۔پھر کار سرکار کو چلانے کے لئے، ترقیاتی کاموں کو جاری رکھنے کے لئے تعلیم و صحت کی خدمات کی فراہمی کے لئے رقوم موجود ہی نہیں ہوتی ہیں محکمہ جاتی نالائقیوں اور کارکردگی کے بحران نے صورتحال کو اور بھی گھمبیر کر دیا ہے۔ 

سب سے اہم بات ہماری سیاست اور ریاست میں گڈ مڈ ہو چکی ہے سیاست کو ریاست پر اعتماد نہیں رہا ہے عدلیہ کا کردار  زیر بحث آتا ہے غرض ہر طرف بے چینی اور ناامیدی کی کیفیت طاری ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کی ”ہاں“ یقینا بہت بڑی امید افزاء خبر ہے اس سے ہمیں سردست خوش ہو جانا چاہئے، کیونکہ اس ہاں کے بعد ایک طویل رات طاری ہو گی۔ مہنگائی اور بے روزگار ی کی۔ تیار رہئے۔ 

مزید :

رائے -کالم –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں